بہادر شاہ ظفر خود بھی 'غزل گوئی' کی صنف سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے، اور ان کا تخلص 'ظفر' تھا۔ یہ حقیقت پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے زیرِ بحث آ چکی ہے، جہاں ان کے شاعرانہ تعلق کو مرزا غالب کے ساتھ ان کے درباری تعلق کے تناظر میں بیان کیا گیا۔ بہادر شاہ ظفر کی شاعری مغلیہ دور کے آخری ادبی چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اردو کا موازنہ قواعد کی بنیاد پر سب سے قریب 'ہندی اور پنجابی' سے کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ تینوں زبانیں ہند آریائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی بنیادی گرامری ساخت مشترک ہے۔ اردو اور ہندی کی قربت خاص طور پر نمایاں ہے، جیسا کہ 'ہندوستانی' کی اصطلاح سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ پنجابی سے بھی اردو کا گہرا لسانی و ثقافتی تعلق ہے، خاص طور پر پنجاب کے علاقے میں۔
اردو رسالوں اور اخبارات میں ہندسے عموماً 'مشرقی عربی ہندسوں (۱،۲،۳)' کی طرز میں لکھے جاتے ہیں، جو رومن ہندسوں (1,2,3) سے مختلف شکل رکھتے ہیں۔ یہ ہندسے دائیں سے بائیں لکھے جانے والے اردو رسم الخط کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ اگرچہ آج کل رومن ہندسے بھی اردو تحریروں میں عام استعمال ہوتے ہیں، مگر روایتی اردو مطبوعات میں مشرقی عربی ہندسے ہی معیاری سمجھے جاتے ہیں۔
لسانی لحاظ سے اردو کو 'مخلوط یا ملی جلی زبان' کے زمرے کی زبان کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں کئی زبانوں، یعنی مقامی ہندوستانی، فارسی، عربی، ترکی اور دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہ خصوصیت لفظ 'ریختہ' کے لغوی معنی سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جو پہلے بھی اسی نصاب میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔ یہ مخلوط نوعیت اردو کو ایک نہایت وسیع اور متنوع ذخیرہ الفاظ والی زبان بناتی ہے۔
اردو زبان کا شمار دنیا کی 'بڑی بولی جانے والی زبانوں' میں ہوتا ہے، جسے کروڑوں افراد بولتے ہیں، خاص طور پر پاکستان، بھارت اور دنیا بھر میں پھیلی جنوبی ایشیائی برادریوں میں۔ اردو دنیا کی چند سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شمار ہوتی ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر رائج ہونا اردو کے ثقافتی و ادبی اثر کو بھی مستحکم کرتا ہے۔
اردو 'پاکستان' میں سرکاری یا قومی زبان کا درجہ رکھتی ہے، جہاں یہ 1973 کے آئین کے مطابق قومی زبان ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی بعض ریاستوں میں بھی اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اردو کا یہ دو ملکی سرکاری درجہ اس کی وسیع تاریخی و ثقافتی جڑوں کی عکاسی کرتا ہے، جو تقسیم ہند سے پہلے کے مشترکہ برصغیر کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔
بھارت کی 'جموں و کشمیر اور تلنگانہ جیسی ریاستوں' میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل رہا ہے، جو ان علاقوں میں اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد کی عکاسی کرتا ہے۔ حیدرآباد دکن، جو اب تلنگانہ کا حصہ ہے، تاریخی طور پر اردو ادب اور ثقافت کا اہم مرکز رہا ہے، جیسا کہ داغ دہلوی جیسے شعرا کی ہجرت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ علاقائی سرکاری حیثیت اردو کی بھارت میں مستقل موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔
اردو ادب کے فروغ میں 'انجمن ترقی اردو' کا بنیادی مقصد 'اردو زبان و ادب کی ترقی و تحقیق' تھا، جو مولوی عبدالحق کی سرپرستی میں قائم ہوئی۔ اس انجمن نے اردو لغت، تحقیق اور نصابی کتب کی تیاری میں وسیع پیمانے پر کام کیا۔ یہ ادارہ آج بھی اردو زبان و ادب کی خدمت میں سرگرم ہے اور اسے پہلے بھی اسی نصاب میں مولوی عبدالحق کے حوالے سے زیرِ بحث لایا جا چکا ہے۔
'انجمن ترقی اردو' 'مولوی عبدالحق کی سرپرستی میں' قائم ہوئی، جنہیں اسی خدمت کی بنا پر 'بابائے اردو' کا لقب دیا گیا۔ یہ انجمن اردو زبان و ادب کی تحقیق، لغت نویسی اور نصابی کتب کی تیاری کا ایک اہم ادارہ رہی ہے۔ مولوی عبدالحق کی یہ خدمات پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے زیرِ بحث آ چکی ہیں۔
سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کا بنیادی مقصد 'مسلمانوں میں جدید تعلیم کا فروغ' تھا، تاکہ برصغیر کے مسلمان انگریزی دور میں تعلیمی اور معاشی طور پر پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس تحریک کے تحت انہوں نے علی گڑھ میں ایک جدید تعلیمی ادارہ قائم کیا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ یہ تحریک پہلے بھی اسی نصاب میں سرسید احمد خان کے حوالے سے تفصیل سے زیرِ بحث آ چکی ہے۔
No Comments