اردو زبان میں جدید سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات وضع کرنے کا کام بنیادی طور پر 'اردو سائنس بورڈ' انجام دیتا ہے، جو خاص طور پر سائنسی و تکنیکی موضوعات کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ جدید علوم کو اردو زبان میں قابلِ فہم بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اردو سائنس بورڈ کا کام اردو کو ایک جدید علمی زبان کے طور پر ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
'اردو سائنس بورڈ' کا بنیادی مقصد 'سائنسی کتب کا اردو میں ترجمہ اور اصطلاحات کی تشکیل' ہے، تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم اردو زبان میں بھی حاصل کی جا سکے۔ یہ ادارہ لاہور میں قائم ہے اور اردو میں سائنسی ذخیرہ الفاظ کی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا کام اردو کو محض ادبی و روزمرہ زبان تک محدود نہ رکھ کر ایک مکمل علمی زبان بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
عالمی یومِ مادری زبان (International Mother Language Day) '21 فروری' کو منایا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام کے لیے یونیسکو کی طرف سے مقرر کردہ دن ہے۔ اس تاریخ کا انتخاب 1952 کی بنگالی زبان کی تحریک کے شہداء کی یاد میں کیا گیا۔ یہ دن مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
عالمی یومِ مادری زبان کے قیام کا پس منظر 'بنگالی زبان کی تحریک' سے جڑا ہے، جب 1952 میں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں بنگالی کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کروانے کے لیے مظاہرے کیے گئے، جن میں کئی طلبہ شہید ہوئے۔ یہ واقعہ پہلے بھی اسی نصاب میں 1948 کے اردو-قومی زبان کے تنازعے کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکا ہے۔ اسی تحریک کی یاد میں یونیسکو نے 21 فروری کو عالمی یومِ مادری زبان قرار دیا۔
اردو زبان کے سب سے پہلے مکمل قواعد (گرامر) پر جدید انداز میں کام 'مولوی عبدالحق اور دیگر ماہرین لسانیات' نے کیا، جنہوں نے اردو گرامر کو باقاعدہ اور جدید علمی بنیادوں پر مرتب کیا۔ یہ کام انجمن ترقی اردو کے وسیع تر مشن کا حصہ تھا، جسے مولوی عبدالحق نے قائم کیا۔ اس کام نے اردو کو ایک مکمل اور علمی طور پر مستحکم زبان کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اردو کے فروغ میں 'دکن' کے بعد 'دہلی، اور بعد میں لکھنؤ' شمالی ہند میں مرکز بنے، جہاں اردو ادب اور شاعری کی کلاسیکی روایت نے جڑ پکڑی۔ دہلی اور لکھنؤ دونوں شہروں نے اپنے اپنے مخصوص ادبی دبستان تشکیل دیے، جو اسلوب اور روایت کے فرق کی بنیاد پر ممتاز سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تاریخی سفر، دکن سے دہلی اور پھر لکھنؤ تک، اردو کی جغرافیائی و ادبی نشوونما کی داستان بیان کرتا ہے۔
لکھنؤ کا دبستان اردو ادب میں 'نفاست، مرثیہ نگاری اور رچی ہوئی زبان' کے لیے مشہور ہے، جہاں میر انیس اور مرزا دبیر جیسے عظیم مرثیہ نگار پروان چڑھے۔ لکھنوی اسلوب اپنی لفظی آرائش اور تہذیبی نزاکت کے لیے جانا جاتا ہے، جو دبستانِ دہلی کی سادگی سے مختلف ہے۔ یہ دونوں دبستان اسی نصاب میں پہلے بھی زیرِ بحث آ چکے ہیں۔
دہلی کا دبستان اردو ادب میں 'سادگی، دردمندی اور کلاسیکی روایت' کے لیے مشہور رہا ہے، جہاں میر تقی میر اور مرزا غالب جیسے عظیم شعرا پروان چڑھے۔ دہلوی اسلوب اپنی گہری جذباتی تاثیر اور سادہ مگر پرمعنی زبان کے لیے جانا جاتا ہے، جو لکھنؤ کے دبستان کی نفاست سے مختلف ہے۔ یہ دونوں دبستان مل کر اردو کلاسیکی شاعری کی دو بڑی روایات تشکیل دیتے ہیں۔
اردو ادب میں 'ترقی پسند تحریک' کا باضابطہ آغاز '1930 کی دہائی' میں لندن اور پھر ہندوستان میں ہوا، جب ترقی پسند مصنفین کی انجمن قائم کی گئی۔ اس تحریک نے اردو ادب کو سماجی و طبقاتی مسائل سے جوڑ کر ایک نئی سمت دی۔ اس تحریک سے منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور فیض احمد فیض جیسے بڑے ادیب و شعرا وابستہ رہے، جن کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے آ چکا ہے۔
ترقی پسند مصنفین کی تحریک کا بنیادی نصب العین 'ادب کو سماجی و طبقاتی مسائل سے جوڑنا' تھا، یعنی ادب کو محض تفریح یا رومانویت تک محدود نہ رکھ کر اسے عوام کے حقیقی مسائل، غربت اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کا ذریعہ بنانا۔ یہ تحریک بیسویں صدی کی اردو ادبی تاریخ کی سب سے بااثر تحریکوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، جس نے افسانہ، شاعری اور تنقید تینوں اصناف کو متاثر کیا۔
No Comments