انشاء اللہ خان انشاء کی کتاب 'دریائے لطافت' 'اردو زبان و قواعد پر تحقیقی کتاب' ہے، جو اردو گرامر پر لکھی گئی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب انشاء اللہ خان انشاء اور مرزا قتیل کی مشترکہ کاوش سمجھی جاتی ہے۔ یہ اردو لسانیات کے مطالعے کی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے اور اردو زبان کی ابتدائی تحقیقی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اردو زبان کے جملوں میں فعل عموماً 'جملے کے آخر میں' آتا ہے، جو اسے انگریزی جیسی زبانوں سے مختلف بناتا ہے جہاں فعل عموماً جملے کے وسط میں ہوتا ہے۔ یہ فعل-آخر (verb-final) ساخت اردو کو ہندی، فارسی اور دیگر ہند آریائی و ایرانی زبانوں کے قریب کرتی ہے۔ یہ جملوں کی بنیادی ساخت (فاعل-مفعول-فعل) اردو گرامر کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔
اردو اور ہندی کو مجموعی طور پر 'ہندوستانی (Hindustani)' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ دونوں کی بنیادی گرامر ایک جیسی ہے اور روزمرہ بول چال میں دونوں کافی حد تک ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ یہ اصطلاح خاص طور پر نوآبادیاتی دور میں مقبول تھی، جب دونوں زبانوں کو مشترکہ لسانی بنیاد رکھنے والی سمجھا جاتا تھا۔ فرق بنیادی طور پر رسم الخط اور اعلیٰ درجے کی ذخیرہ الفاظ میں ہے۔
اردو اور ہندی میں بنیادی فرق 'رسم الخط اور اعلیٰ درجے کی ذخیرہ الفاظ' کا ہے، یعنی اردو نستعلیق رسم الخط میں اور فارسی و عربی سے مستعار الفاظ کے ساتھ لکھی جاتی ہے، جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں اور سنسکرت سے مستعار الفاظ کے ساتھ لکھی جاتی ہے۔ روزمرہ بول چال کی سطح پر دونوں زبانیں کافی حد تک ایک جیسی ہیں، مگر رسمی و ادبی سطح پر یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔
ہندی زبان 'دیوناگری' رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، جو بائیں سے دائیں لکھا جاتا ہے، برخلاف اردو کے نستعلیق رسم الخط کے جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے۔ دیوناگری سنسکرت اور کئی دیگر ہندوستانی زبانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ رسم الخط کا فرق اردو اور ہندی کے درمیان سب سے نمایاں بصری امتیاز ہے، اگرچہ دونوں کی بنیادی گرامر مشترک ہے۔
پاکستان کے آئین کے مطابق اردو کے ساتھ 'انگریزی' بھی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم شدہ ہے، جو نوآبادیاتی دور کی وراثت اور بین الاقوامی رابطے کی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ اردو قومی زبان ہے، مگر انگریزی اعلیٰ تعلیم، عدلیہ اور سرکاری دفاتر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ یہ دو زبانی سرکاری نظام پاکستان کی لسانی پالیسی کی ایک اہم خصوصیت ہے۔
سب سے قدیم اردو (ریختہ) شاعروں میں سے 'امیر خسرو' کا نام لیا جاتا ہے، جو تیرہویں صدی میں گزرے اور جنہیں ابتدائی ہندوی/ریختہ شاعری کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ امیر خسرو کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے آ چکا ہے، جہاں ان کا تعلق حضرت نظام الدین اولیاء اور قوالی کی صنف سے بیان ہوا۔ ان کی شاعری اردو زبان کی صدیوں پرانی جڑوں کی گواہی دیتی ہے۔
شاعری میں پرانی اردو کے لیے 'ریختہ' کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی رہی ہے، جو خاص طور پر مغلیہ دور کی کلاسیکی اردو شاعری کے لیے رائج تھی۔ میر تقی میر جیسے شعرا اپنے آپ کو 'ریختہ گو' کہتے تھے، یعنی ریختہ میں شعر کہنے والے۔ یہ اصطلاح اردو زبان کی تاریخی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، جو آج بھی ادبی حلقوں میں کلاسیکی شاعری کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔
'ریختہ' کا لفظی مطلب 'مخلوط یا ملی جلی زبان' ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اردو مختلف زبانوں، یعنی مقامی ہندوستانی بولیوں اور فارسی، عربی، ترکی کے امتزاج سے وجود میں آئی۔ یہ نام اردو کی لسانی ابتدا اور اس کی مخلوط نوعیت کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ریختہ کی یہ اصطلاح آج بھی اردو کی کلاسیکی شاعری اور تاریخ کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔
اردو زبان کے فروغ میں مغل بادشاہوں میں سے 'بہادر شاہ ظفر کا دور' خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو خود ایک باکمال شاعر تھے اور جن کے دربار سے مرزا غالب جیسے عظیم شعرا وابستہ تھے۔ اگرچہ بہادر شاہ ظفر کا دورِ اقتدار سیاسی طور پر مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا، مگر یہ دور ادبی اعتبار سے اردو شاعری کی معراج کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔
No Comments