اردو زبان میں فارسی کے علاوہ 'عربی گرامر' کا اثر بھی نمایاں ہے، خاص طور پر جمع مکسر (بے قاعدہ جمع) کے قواعد میں، جیسے عالم سے علماء اور کتاب سے کتب۔ یہ عربی جمع کے قواعد اسی نصاب کے شروع میں کئی الفاظ کی جمع کی مثالوں میں دیکھے جا چکے ہیں، جیسے فن سے فنون اور مسئلہ سے مسائل۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اردو گرامر مکمل طور پر ہند آریائی نہیں بلکہ اس میں سامی زبانوں کے بھی گہرے اثرات موجود ہیں۔
عربی سے اردو میں آنے والے الفاظ زیادہ تر 'مذہب، قانون اور علم سے متعلق اصطلاحات' ہیں، جیسے نماز، عدالت، علم اور کتاب جیسے الفاظ۔ یہ اثر خاص طور پر اسلامی تعلیمات کے پھیلاؤ اور مذہبی و قانونی تحریروں کی زبان کے طور پر عربی کی حیثیت کی وجہ سے آیا۔ عربی سے آنے والے الفاظ اردو کی دینی اور علمی گفتگو کا بنیادی ذخیرہ الفاظ بناتے ہیں۔
فارسی سے اردو میں آنے والے الفاظ زیادہ تر 'ادب، دربار اور روزمرہ زندگی سے متعلق' ہیں، جیسے دوست، خوشی، بادشاہ اور باغ جیسے عام الفاظ۔ فارسی مغلیہ دربار کی سرکاری اور ادبی زبان تھی، اسی لیے اس کے الفاظ اردو کی روزمرہ گفتگو، شاعری اور انتظامی اصطلاحات میں گہرائی سے شامل ہوئے۔ فارسی کا یہ اثر اردو کی شاعرانہ اور ادبی روایت کی بنیاد بھی ہے۔
ترکی زبان سے اردو میں آنے والے چند مشہور الفاظ میں 'بیگم، آغا اور قینچی' شامل ہیں، جو ترکی حکمرانوں اور فوجی روایات کے ذریعے اردو میں آئے۔ یہ الفاظ اردو کی روزمرہ گفتگو میں اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ اکثر لوگوں کو ان کی ترکی نژادگی کا علم بھی نہیں ہوتا۔ لفظ 'اردو' خود بھی ترکی الاصل ہے، جیسا کہ اسی نصاب کے شروع میں بیان ہو چکا ہے۔
اردو میں پرتگالی زبان سے مستعار لیا گیا لفظ 'الماری' ہے، جو یورپی نوآبادیاتی رابطوں کے ذریعے اردو میں شامل ہوا۔ پرتگالی برصغیر کے ساحلی علاقوں سے تجارتی روابط رکھنے والی ابتدائی یورپی طاقتوں میں شامل تھے، جس کی وجہ سے چند پرتگالی الفاظ مقامی زبانوں میں شامل ہو گئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اردو کا ذخیرہ الفاظ صرف مشرقی زبانوں تک محدود نہیں بلکہ یورپی زبانوں سے بھی متاثر ہے۔
انگریزی دورِ حکومت میں اردو زبان پر انگریزی الفاظ کا اثر خاص طور پر 'سائنس، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور' میں زیادہ نمایاں ہوا، جیسے اسکول، ڈاکٹر، ٹیلی فون اور آفس جیسے الفاظ۔ یہ اثر برطانوی راج کے دوران جدید تعلیم اور انتظامی نظام کے متعارف ہونے سے آیا۔ آج بھی اردو میں انگریزی الفاظ کا استعمال جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری اصطلاحات میں کثرت سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اردو زبان کے فروغ میں 'ریڈیو پاکستان اور بعد میں ٹی وی' نے 'اردو کو عوام تک پھیلانے میں اہم کردار' ادا کیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اردو مادری زبان نہیں تھی۔ ان ذرائع ابلاغ نے اردو کو معیاری بول چال کی زبان کے طور پر پورے پاکستان میں یکساں طور پر متعارف کرایا۔ ڈرامے، خبریں اور تفریحی پروگرام اردو زبان کے پھیلاؤ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر تعلیمی نصاب میں اردو 'لازمی مضمون' کے طور پر پڑھائی جاتی ہے، جو اس کی قومی زبان کی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔ یہ لازمی حیثیت اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک برقرار رہتی ہے، جو اردو کو پاکستانی نصاب کا بنیادی حصہ بناتی ہے۔ یہ پالیسی اردو کی قومی زبان کی حیثیت اور تعلیمی نظام میں اس کے مرکزی کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
مقابلے کے امتحانات جیسے سی ایس ایس اور پی پی ایس سی میں اردو 'لازمی مضمون' کا پرچہ ہوتا ہے، جو امیدواروں کی اردو زبان و ادب پر گرفت کو جانچتا ہے۔ یہی وہ پرچہ ہے جس کی تیاری کے لیے یہ پورا امتحانی نصاب مرتب کیا گیا ہے، جس میں گرامر، ذخیرہ الفاظ، محاورات، ادب اور زبان کی تاریخ شامل ہیں۔ اردو کا یہ لازمی پرچہ پاکستان کے سرکاری ملازمتوں کے امتحانی نظام کا اہم جزو ہے۔
اردو زبان کی گرامر پر مبنی کتاب 'دریائے لطافت' کے مصنفین میں 'انشاء اللہ خان انشاء اور مرزا قتیل' شامل تھے، جنہوں نے مل کر یہ اہم تحقیقی کتاب مرتب کی۔ یہ کتاب اردو گرامر پر لکھی گئی ابتدائی اور اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ انشاء اللہ خان انشاء کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں اس کتاب کے حوالے سے آ چکا ہے۔
No Comments