'حلقہ ارباب ذوق' 'لاہور' شہر میں قائم ہوئی، جو ترقی پسند تحریک کے متبادل جمالیاتی و فنی نقطہ نظر کی نمائندگی کرنے والی ایک اہم ادبی تنظیم تھی۔ اس تنظیم نے ادب کو خالصتاً سیاسی مقاصد کی بجائے فنی معیار پر پرکھنے پر زور دیا۔ لاہور اس دور میں اردو ادب کی نئی تحریکوں کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا، جیسا کہ پہلے بھی اسی نصاب میں بیان ہو چکا ہے۔
'حلقہ ارباب ذوق' '1939' میں قائم ہوئی، جو ترقی پسند تحریک کے تقریباً اسی دور میں وجود میں آئی مگر اس سے مختلف ادبی نظریہ رکھتی تھی۔ میراجی اور ن م راشد جیسے جدید نظم کے بانی اسی تنظیم سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں، جن کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ یہ تنظیم آج بھی اردو ادب کی مختلف فکری روایات کے درمیان توازن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
اردو زبان کے حروف تہجی میں 'نقطوں' والے حروف کی موجودگی 'ایک جیسی شکل کے حروف میں فرق ظاہر کرنے کے لیے' اہم ہے، جیسے ب، پ، ت اور ٹ کی بنیادی شکل ایک جیسی ہے مگر نقطوں کی تعداد اور جگہ سے یہ الگ الگ حروف بنتے ہیں۔ یہ نظام عربی رسم الخط سے مستعار ہے اور اردو کے درست پڑھنے لکھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ نقطوں کی درست پہچان اردو کی بنیادی خواندگی کا پہلا قدم ہے۔
'ب، پ، ت، ٹ' جیسے حروف کی بنیادی شکل ملتی جلتی ہے، ان میں فرق 'نقطوں کی تعداد اور جگہ سے' کیا جاتا ہے، جیسے ب کے نیچے ایک نقطہ، پ کے نیچے تین نقطے، اور ت کے اوپر دو نقطے ہوتے ہیں۔ یہ نظام اردو رسم الخط کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو عربی رسم الخط سے وراثت میں ملی ہے۔ نقطوں کی درست جگہ اور تعداد پہچاننا اردو پڑھنے لکھنے کی بنیادی مہارت ہے۔
اردو کی درسی کتابوں میں گرامر کے مضمون کو 'قواعد' کہا جاتا ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور اس کا مطلب اصول یا قاعدے ہیں۔ اسی اصطلاح سے 'قاعدہ' کی جمع 'قواعد' بھی بنتی ہے، جو پہلے بھی اسی نصاب میں زیرِ بحث آ چکی ہے۔ قواعد کا مضمون اسم، فعل، حروف اور جملوں کی ساخت جیسے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے، جو اسی امتحانی نصاب کا مرکزی موضوع بھی ہیں۔
روزمرہ بول چال کی اردو اور ادبی یا کتابی اردو میں 'الفاظ کے چناؤ اور رسمیت کی سطح کا فرق' پایا جاتا ہے، یعنی گرامر بنیادی طور پر ایک جیسی رہتی ہے مگر بول چال میں سادہ اور مقامی الفاظ استعمال ہوتے ہیں جبکہ ادبی اردو میں زیادہ فارسی و عربی الاصل رسمی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ یہ فرق، مثلاً ماں/والدہ یا باپ/والد کے جوڑوں میں، پہلے بھی اسی نصاب میں دیکھا جا چکا ہے۔
اردو زبان میں محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال زبان کو 'زیادہ رنگین، پرمعنی اور مؤثر' بناتا ہے، کیونکہ یہ تصویری اور اختصار پر مبنی زبان کے ذریعے پیچیدہ خیالات کو سادگی سے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی نصاب کے محاورات اور ضرب الامثال والے حصے میں سیکڑوں ایسی مثالیں دیکھی جا چکی ہیں، جو اردو کی ثقافتی دانائی اور لسانی تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
پاکستان میں '9 نومبر' کو 'یومِ اقبال' کے طور پر منایا جاتا ہے، جو اردو ادب سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہ علامہ اقبال کی تاریخِ پیدائش ہے۔ اگرچہ اقبال کی اصل تاریخِ پیدائش 9 نومبر 1877 مانی جاتی ہے، اس دن ملک بھر میں تقاریب اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ دن پہلے بھی اسی نصاب میں اقبال کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکا ہے۔
علامہ اقبال کا یومِ پیدائش پاکستان میں 'یومِ اقبال' کے نام سے منایا جاتا ہے، جو ہر سال 9 نومبر کو قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن اسکولوں، کالجوں اور سرکاری سطح پر اقبال کی شاعری اور فکر پر خصوصی تقریبات ہوتی ہیں۔ یہ دن اقبال کی حیثیت بطور 'شاعرِ مشرق' اور 'مفکرِ پاکستان' کی قومی سطح پر پذیرائی کی عکاسی کرتا ہے، جو اسی نصاب میں پہلے بھی تفصیل سے زیرِ بحث آ چکی ہے۔
'اردو لغت بورڈ'، جس نے 22 جلدوں پر مشتمل جامع اردو لغت مرتب کی، 'کراچی' شہر میں قائم ہے۔ یہ لغت اردو زبان کی سب سے جامع اور مستند لغات میں شمار ہوتی ہے، جس کی تیاری میں کئی دہائیاں لگیں۔ اردو لغت بورڈ کا یہ کارنامہ اردو زبان کی علمی و لسانی خدمت کی ایک بڑی مثال ہے، جو مولوی عبدالحق اور انجمن ترقی اردو کی روایت کو آگے بڑھاتا ہے۔
No Comments