فورٹ ولیم کالج '1800' میں قائم ہوا، جو برطانوی راج کے ابتدائی دور میں اردو نثر کی ترقی کا اہم مرکز بنا۔ اس کالج کی سرپرستی میں میر امن دہلوی کی 'باغ و بہار' جیسی تصانیف لکھی گئیں، جنہوں نے اردو نثر کو سادہ اور بول چال کے قریب انداز میں لکھنے کی روایت قائم کی۔ یہ ادارہ اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔
میر امن دہلوی کی مشہور نثری تصنیف 'باغ و بہار' 'فورٹ ولیم کالج' کی سرپرستی میں لکھی گئی، جو ایک فارسی داستان کا سادہ اور رواں اردو نثر میں ترجمہ تھا۔ یہ کتاب اردو نثر کی تاریخ کی ابتدائی اور اہم ترین مثالوں میں شمار ہوتی ہے، جس نے بعد کی اردو نثری روایت کی بنیاد رکھی۔ فورٹ ولیم کالج کی یہ سرپرستی اردو نثر کے باقاعدہ آغاز میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔
سب سے پہلا اردو اخبار 'جامِ جہاں نما' تھا، جو اردو صحافت کی تاریخ کا آغاز تصور کیا جاتا ہے۔ اس اخبار کے اجراء نے اردو کو ایک جدید ذریعہ ابلاغ کے طور پر متعارف کرایا، جس نے آگے چل کر اردو صحافت کی ایک وسیع روایت کی بنیاد رکھی۔ یہ اخبار انیسویں صدی کے اوائل کے دور کی اہم علمی و صحافتی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
'جامِ جہاں نما' اخبار 'کلکتہ' شہر سے شائع ہوا، جو اس دور میں برطانوی ہندوستان کا انتظامی اور علمی مرکز تھا۔ کلکتہ سے ہی فورٹ ولیم کالج بھی وابستہ تھا، جس نے اردو نثر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کلکتہ انیسویں صدی کے اوائل میں اردو نثر اور صحافت دونوں کی نشوونما کا اہم مرکز تھا۔
برطانوی دورِ حکومت میں 1837ء میں شمالی ہند کی عدالتوں میں فارسی کی جگہ 'اردو (اور مقامی زبانیں)' کو سرکاری زبان بنایا گیا، جو اردو کی سرکاری حیثیت کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ اس فیصلے نے اردو کو انتظامی اور قانونی معاملات میں استعمال کے لیے فارسی کی جگہ لینے کا موقع دیا۔ یہ تبدیلی برصغیر میں اردو کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ بنی۔
اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ '1973 کے آئین' میں دیا گیا، جو پاکستان کے موجودہ آئین میں اردو کی سرکاری حیثیت کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اگرچہ اردو کو 1947 کے فوراً بعد بھی قومی زبان کے طور پر اپنایا گیا تھا، مگر اسے آئینی حیثیت 1973 کے آئین میں باضابطہ طور پر دی گئی۔ اس آئینی درجے نے اردو کو تعلیم، انتظامیہ اور قومی شناخت کے لیے مرکزی حیثیت دی۔
1948 میں اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان قرار دینے کے فیصلے پر 'مشرقی پاکستان (بنگال)' میں شدید احتجاج ہوا، کیونکہ وہاں کی اکثریت بنگالی زبان بولتی تھی۔ یہ احتجاج بعد میں 'بنگالی زبان کی تحریک' کی شکل اختیار کر گیا، جس نے 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ میں مظاہروں کی صورت اختیار کی۔ یہی تحریک بعد میں 'عالمی یومِ مادری زبان' کے قیام کی بنیاد بھی بنی، جس کا ذکر اسی نصاب میں آگے بھی آئے گا۔
بھارتی آئین کے مطابق اردو 'آٹھویں شیڈول' کی زبانوں میں شامل ہے، جو بھارت کی سرکاری طور پر تسلیم شدہ زبانوں کی فہرست ہے۔ یہ شیڈول ان زبانوں کو محفوظ رکھتا ہے جنہیں آئینی طور پر اہمیت حاصل ہے، اگرچہ ہر ریاست میں ان کی سرکاری حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔ اردو کا اس فہرست میں شامل ہونا بھارت میں اس کی ثقافتی و لسانی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مولوی عبدالحق کو 'اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات' کی وجہ سے 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے، خاص طور پر ان کی 'انجمن ترقی اردو' کے قیام اور اردو لغت و تحقیق کے فروغ کے کاموں کی بنا پر۔ یہ لقب اس نصاب میں پہلے بھی مولوی عبدالحق کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکا ہے۔ ان کی خدمات اردو کو ایک مکمل اور جدید علمی زبان کے طور پر مستحکم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
'فرہنگ آصفیہ' اردو کی مشہور لغت کے مصنف 'سید احمد دہلوی' ہیں، جنہوں نے یہ جامع لغت اردو الفاظ کے معنی اور استعمال کو محفوظ کرنے کے لیے مرتب کی۔ فرہنگ آصفیہ اردو لغت نویسی کی روایت کی ایک بنیادی اور معتبر مثال سمجھی جاتی ہے۔ یہ لغت آج بھی اردو الفاظ کی تاریخی و لغوی تحقیق کے لیے ایک اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے۔
No Comments