اردو کا حرف 'پ' عربی حروف تہجی میں شامل نہیں ہے، کیونکہ عربی زبان میں 'پ' کی آواز موجود نہیں۔ یہ حرف فارسی کے ذریعے اردو میں شامل ہوا، جہاں یہ پہلے سے موجود تھا۔ 'پ' کے ساتھ چ، ژ اور گ بھی وہ اضافی حروف ہیں جو عربی سے نہیں بلکہ فارسی یا مقامی زبانوں سے اردو میں شامل کیے گئے۔
'ٹ، ڈ، ڑ' جیسے حروف اردو میں 'مقامی ہندوستانی اصوات کو ظاہر کرنے کے لیے' شامل کیے گئے، کیونکہ یہ سخت یا مرتعش (retroflex) آوازیں نہ عربی میں موجود تھیں اور نہ فارسی میں۔ یہ حروف اردو کو جنوبی ایشیائی زبانوں، جیسے ہندی اور پنجابی، کے قریب لاتے ہیں، جہاں یہی آوازیں پائی جاتی ہیں۔ ان حروف کے بغیر اردو مقامی الفاظ کا درست تلفظ ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔
'ں' (نون غنہ) 'ناک سے نکلنے والی آواز (تنویم)' کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے 'میں' یا 'ہیں' جیسے الفاظ میں۔ یہ آواز اردو کی صوتیات کا ایک اہم اور مخصوص حصہ ہے، جو تلفظ میں فرق پیدا کرتی ہے، مثلاً 'مان' اور 'ماں' کے درمیان۔ نون غنہ کا درست استعمال اردو کی درست املا اور تلفظ کے لیے ضروری ہے۔
اردو زبان میں الفاظ 'عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت اور دیگر زبانوں سے' مستعار لیے گئے ہیں، جو اسے ایک نہایت مخلوط اور بھرپور ذخیرہ الفاظ والی زبان بناتا ہے۔ یہ کثیر لسانی اثر اردو کو ادب، مذہب، سائنس اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے میں متنوع الفاظ فراہم کرتا ہے۔ اسی نصاب میں آگے بھی یہ زیرِ بحث آئے گا کہ کن زبانوں سے کن موضوعات کے الفاظ اردو میں شامل ہوئے۔
اردو زبان و ادب کی ابتدائی نشوونما سب سے پہلے 'دکن (جنوبی ہند)' کے خطے میں ہوئی، جہاں مقامی بولیوں اور فارسی و عربی کے امتزاج سے ابتدائی 'دکنی اردو' وجود میں آئی۔ محمد قلی قطب شاہ اور ولی دکنی جیسے شعرا اسی دکنی روایت کے اہم نام ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اردو کی ادبی ابتدا شمالی ہند کی بجائے جنوبی ہند سے ہوئی، جو عام تاثر کے برعکس ایک دلچسپ تاریخی حقیقت ہے۔
دکنی اردو کو شمالی ہند تک پہنچانے کا سہرا 'ولی دکنی' کے سر ہے، جن کا کلام دہلی پہنچنے پر وہاں کے شعرا کو دکنی اردو شاعری کے اسلوب سے متعارف کرایا۔ ولی دکنی کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے آ چکا ہے، جہاں انہیں 'بابائے اردو شاعری' کا لقب دیا گیا۔ ان کی آمد نے شمالی ہند میں اردو غزل گوئی کی روایت کو نئی جان بخشی۔
سب سے پہلے اردو (دکنی) میں مکمل دیوان 'محمد قلی قطب شاہ' نے مرتب کیا، جو حیدرآباد دکن کی قطب شاہی سلطنت کے بادشاہ اور خود ایک باکمال شاعر تھے۔ ان کا دیوان دکنی اردو شاعری کی سب سے قدیم اور مکمل مثالوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ نے حیدرآباد شہر کی بنیاد بھی رکھی، جو انہیں ادبی اور تاریخی دونوں حیثیتوں سے اہم بناتا ہے۔
اردو زبان 'دہلی سلطنت اور مغل دور' کی سلطنتوں کے دور میں مقامی بولیوں اور فارسی کے میل جول سے پروان چڑھی۔ یہ طویل تاریخی دور، جو کئی صدیوں پر محیط ہے، اردو کی زبانی و ادبی نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مغل دربار میں فارسی سرکاری زبان کے طور پر رائج تھی، جبکہ عوامی سطح پر اردو (ہندوی) بولی جاتی تھی، جس سے دونوں کا ملاپ ہوا۔
'اردوئے معلیٰ' کی اصطلاح اصل میں 'شاہجہان آباد (دہلی) کے شاہی قلعے و کیمپ' کی طرف اشارہ کرتی تھی، جو مغل بادشاہ شاہ جہاں کی نئی راجدھانی تھی۔ یہ اصطلاح اردو کے فوجی و شاہی پس منظر کی یاد دلاتی ہے، جو لفظ 'اردو' کے لغوی معنی 'لشکر' سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ یہاں سے یہ اصطلاح بعد میں پوری زبان کے نام کے طور پر رائج ہو گئی۔
فورٹ ولیم کالج 'کلکتہ' میں قائم کیا گیا تھا، جس نے اردو نثر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ کالج برطانوی مشرقی انڈیا کمپنی نے اپنے افسروں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا تھا، اور یہاں میر امن دہلوی جیسے ادیبوں نے اردو نثر کی سادہ اور رواں شکل کو فروغ دیا۔ فورٹ ولیم کالج کو جدید اردو نثر کی باقاعدہ ابتدا کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
No Comments