urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 91 (Q901-910)

Urdu MCQs

901لفظ ‘اردو’ کس زبان کے لفظ ‘اوردو’ سے نکلا ہے جس کا مطلب لشکر یا کیمپ ہے؟
Explanation

لفظ 'اردو' 'ترکی' زبان کے لفظ 'اوردو' سے نکلا ہے، جس کا مطلب لشکر یا فوجی کیمپ ہے۔ یہ اصل میں مغلیہ فوجی چھاؤنیوں کی طرف اشارہ کرتا تھا، جہاں مختلف زبانیں بولنے والے سپاہی اکٹھے رہتے اور آپس میں بات چیت کے لیے ایک مشترکہ زبان استعمال کرتے تھے۔ یہی ملی جلی زبان بعد میں 'اردو' کے نام سے مشہور ہوئی۔ 'اردوئے معلیٰ' کی اصطلاح، جو شاہی کیمپ کی طرف اشارہ کرتی تھی، اسی فوجی اور شاہی پس منظر کی یاد دلاتی ہے۔

902‘اردو’ لفظ کا لغوی مطلب کیا ہے؟
Explanation

'اردو' لفظ کا لغوی مطلب 'لشکر یا فوجی کیمپ' ہے، جو ترکی زبان سے مستعار ہے۔ یہ نام اس زبان کی تاریخی ابتدا کی عکاسی کرتا ہے، جو مغلیہ فوجی کیمپوں میں مختلف قومیتوں کے سپاہیوں کے باہمی رابطے کی ضرورت سے وجود میں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کو بعض اوقات 'لشکری زبان' بھی کہا جاتا ہے، جو اس کی فوجی نژادگی کو ظاہر کرتا ہے۔

903اردو زبان کس لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟
Explanation

اردو زبان 'ہند آریائی (انڈو یورپین)' لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے، جو اسے سنسکرت، ہندی اور دیگر جنوبی ایشیائی زبانوں کے ساتھ ایک وسیع لسانی خاندان میں شامل کرتا ہے۔ یہ لسانی تعلق اردو کی بنیادی گرامر اور فقرہ بندی کی وضاحت کرتا ہے، جو ہندی سے قریبی مشابہت رکھتی ہے۔ اردو کی ذخیرہ الفاظ اگرچہ فارسی و عربی سے بھرپور ہے، مگر اس کی گہری گرامری بنیاد ہند آریائی ہی ہے۔

904اردو کن دو بڑے عناصر کے امتزاج سے وجود میں آئی؟
Explanation

اردو زبان دو بڑے عناصر، یعنی 'مقامی ہندوستانی بولیوں اور فارسی، عربی، ترکی اثرات' کے امتزاج سے وجود میں آئی۔ اس کی بنیادی گرامر مقامی کھڑی بولی سے ماخوذ ہے، جبکہ اس کا بیشتر رسمی و ادبی ذخیرہ الفاظ فارسی، عربی اور ترکی سے مستعار ہے۔ یہ امتزاج اردو کو ایک منفرد مخلوط زبان بناتا ہے، جس کی مثال شاذ و نادر ہی کسی اور زبان میں ملتی ہے۔

905اردو زبان کی بنیاد بننے والی مقامی بولی کا نام کیا تھا؟
Explanation

اردو زبان کی بنیاد بننے والی مقامی بولی کا نام 'کھڑی بولی' تھا، جو دہلی اور اس کے گرد و نواح میں بولی جاتی تھی۔ کھڑی بولی نے فارسی، عربی اور ترکی کے اثرات کو جذب کر کے اردو کی شکل اختیار کی۔ یہی کھڑی بولی جدید معیاری ہندی کی بھی بنیاد ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اردو اور ہندی کی گرامری جڑیں مشترک ہیں۔

906اردو رسم الخط کس طرز پر لکھا جاتا ہے؟
Explanation

اردو رسم الخط 'دائیں سے بائیں' طرز پر لکھا جاتا ہے، جو اسے عربی اور فارسی رسم الخط سے مشترکہ خصوصیت دیتا ہے، جن سے اردو کا رسم الخط اخذ کیا گیا ہے۔ یہ رسم الخط ہندی کے دیوناگری رسم الخط سے بالکل مختلف ہے، جو بائیں سے دائیں لکھا جاتا ہے۔ یہی رسم الخط کا فرق اردو اور ہندی کے درمیان سب سے نمایاں بصری امتیاز ہے۔

907اردو تحریر کے لیے عام طور پر کون سا خطاطی کا انداز استعمال ہوتا ہے؟
Explanation

اردو تحریر کے لیے عام طور پر 'نستعلیق' خطاطی کا انداز استعمال ہوتا ہے، جو اپنی خوبصورتی اور بہاؤ کے لیے مشہور ہے۔ نستعلیق دو خطوں، نسخ اور تعلیق، کے امتزاج سے بنا ہے اور یہ خاص طور پر فارسی اور اردو تحریر کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ عربی زبان زیادہ تر نسخ خط میں لکھی جاتی ہے، جو نستعلیق سے مختلف اسلوب رکھتا ہے۔

908‘نستعلیق’ خط کہاں سے ماخوذ ہے؟
Explanation

'نستعلیق' خط 'ایران (فارس)' سے ماخوذ ہے، جہاں یہ خطاطی کا ایک نفیس اور خوبصورت انداز کے طور پر تیار ہوا۔ یہ خط بعد میں برصغیر میں اردو اور فارسی دونوں کی تحریر کے لیے اپنایا گیا۔ نستعلیق کی جھکی ہوئی اور بہتی ہوئی ساخت اسے دیگر خطوط، جیسے نسخ اور کوفی، سے ممتاز کرتی ہے، اور یہ آج بھی اردو کی سب سے مقبول خطاطی طرز ہے۔

909روایتی طور پر اردو حروف تہجی کی تعداد کتنی بیان کی جاتی ہے؟
Explanation

روایتی طور پر اردو حروف تہجی کی تعداد '38' بیان کی جاتی ہے، جو عربی کے 28 حروف سے زیادہ ہے کیونکہ اردو نے مقامی ہندوستانی اصوات کو ظاہر کرنے کے لیے اضافی حروف، جیسے ٹ، ڈ اور ڑ، شامل کیے۔ یہ اضافی حروف اردو کو عربی اور فارسی سے الگ اور جنوبی ایشیائی اصوات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ حروف تہجی کی صحیح تعداد مختلف ذرائع میں قدرے مختلف بھی بیان کی جاتی ہے۔

910عربی حروف تہجی میں کتنے حروف ہوتے ہیں؟
Explanation

عربی حروف تہجی میں '28' حروف ہوتے ہیں، جو اردو کے 38 حروف سے کم ہیں۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ اردو نے عربی کے بنیادی حروف کے ساتھ ساتھ فارسی سے مستعار حروف، جیسے پ، چ، ژ اور گ، اور مقامی ہندوستانی اصوات کے لیے مخصوص حروف، جیسے ٹ، ڈ اور ڑ، بھی شامل کیے ہیں۔ یہ اضافی حروف اردو کی صوتیاتی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.