لفظ 'اردو' 'ترکی' زبان کے لفظ 'اوردو' سے نکلا ہے، جس کا مطلب لشکر یا فوجی کیمپ ہے۔ یہ اصل میں مغلیہ فوجی چھاؤنیوں کی طرف اشارہ کرتا تھا، جہاں مختلف زبانیں بولنے والے سپاہی اکٹھے رہتے اور آپس میں بات چیت کے لیے ایک مشترکہ زبان استعمال کرتے تھے۔ یہی ملی جلی زبان بعد میں 'اردو' کے نام سے مشہور ہوئی۔ 'اردوئے معلیٰ' کی اصطلاح، جو شاہی کیمپ کی طرف اشارہ کرتی تھی، اسی فوجی اور شاہی پس منظر کی یاد دلاتی ہے۔
'اردو' لفظ کا لغوی مطلب 'لشکر یا فوجی کیمپ' ہے، جو ترکی زبان سے مستعار ہے۔ یہ نام اس زبان کی تاریخی ابتدا کی عکاسی کرتا ہے، جو مغلیہ فوجی کیمپوں میں مختلف قومیتوں کے سپاہیوں کے باہمی رابطے کی ضرورت سے وجود میں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کو بعض اوقات 'لشکری زبان' بھی کہا جاتا ہے، جو اس کی فوجی نژادگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اردو زبان 'ہند آریائی (انڈو یورپین)' لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے، جو اسے سنسکرت، ہندی اور دیگر جنوبی ایشیائی زبانوں کے ساتھ ایک وسیع لسانی خاندان میں شامل کرتا ہے۔ یہ لسانی تعلق اردو کی بنیادی گرامر اور فقرہ بندی کی وضاحت کرتا ہے، جو ہندی سے قریبی مشابہت رکھتی ہے۔ اردو کی ذخیرہ الفاظ اگرچہ فارسی و عربی سے بھرپور ہے، مگر اس کی گہری گرامری بنیاد ہند آریائی ہی ہے۔
اردو زبان دو بڑے عناصر، یعنی 'مقامی ہندوستانی بولیوں اور فارسی، عربی، ترکی اثرات' کے امتزاج سے وجود میں آئی۔ اس کی بنیادی گرامر مقامی کھڑی بولی سے ماخوذ ہے، جبکہ اس کا بیشتر رسمی و ادبی ذخیرہ الفاظ فارسی، عربی اور ترکی سے مستعار ہے۔ یہ امتزاج اردو کو ایک منفرد مخلوط زبان بناتا ہے، جس کی مثال شاذ و نادر ہی کسی اور زبان میں ملتی ہے۔
اردو زبان کی بنیاد بننے والی مقامی بولی کا نام 'کھڑی بولی' تھا، جو دہلی اور اس کے گرد و نواح میں بولی جاتی تھی۔ کھڑی بولی نے فارسی، عربی اور ترکی کے اثرات کو جذب کر کے اردو کی شکل اختیار کی۔ یہی کھڑی بولی جدید معیاری ہندی کی بھی بنیاد ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اردو اور ہندی کی گرامری جڑیں مشترک ہیں۔
اردو رسم الخط 'دائیں سے بائیں' طرز پر لکھا جاتا ہے، جو اسے عربی اور فارسی رسم الخط سے مشترکہ خصوصیت دیتا ہے، جن سے اردو کا رسم الخط اخذ کیا گیا ہے۔ یہ رسم الخط ہندی کے دیوناگری رسم الخط سے بالکل مختلف ہے، جو بائیں سے دائیں لکھا جاتا ہے۔ یہی رسم الخط کا فرق اردو اور ہندی کے درمیان سب سے نمایاں بصری امتیاز ہے۔
اردو تحریر کے لیے عام طور پر 'نستعلیق' خطاطی کا انداز استعمال ہوتا ہے، جو اپنی خوبصورتی اور بہاؤ کے لیے مشہور ہے۔ نستعلیق دو خطوں، نسخ اور تعلیق، کے امتزاج سے بنا ہے اور یہ خاص طور پر فارسی اور اردو تحریر کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ عربی زبان زیادہ تر نسخ خط میں لکھی جاتی ہے، جو نستعلیق سے مختلف اسلوب رکھتا ہے۔
'نستعلیق' خط 'ایران (فارس)' سے ماخوذ ہے، جہاں یہ خطاطی کا ایک نفیس اور خوبصورت انداز کے طور پر تیار ہوا۔ یہ خط بعد میں برصغیر میں اردو اور فارسی دونوں کی تحریر کے لیے اپنایا گیا۔ نستعلیق کی جھکی ہوئی اور بہتی ہوئی ساخت اسے دیگر خطوط، جیسے نسخ اور کوفی، سے ممتاز کرتی ہے، اور یہ آج بھی اردو کی سب سے مقبول خطاطی طرز ہے۔
روایتی طور پر اردو حروف تہجی کی تعداد '38' بیان کی جاتی ہے، جو عربی کے 28 حروف سے زیادہ ہے کیونکہ اردو نے مقامی ہندوستانی اصوات کو ظاہر کرنے کے لیے اضافی حروف، جیسے ٹ، ڈ اور ڑ، شامل کیے۔ یہ اضافی حروف اردو کو عربی اور فارسی سے الگ اور جنوبی ایشیائی اصوات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ حروف تہجی کی صحیح تعداد مختلف ذرائع میں قدرے مختلف بھی بیان کی جاتی ہے۔
عربی حروف تہجی میں '28' حروف ہوتے ہیں، جو اردو کے 38 حروف سے کم ہیں۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ اردو نے عربی کے بنیادی حروف کے ساتھ ساتھ فارسی سے مستعار حروف، جیسے پ، چ، ژ اور گ، اور مقامی ہندوستانی اصوات کے لیے مخصوص حروف، جیسے ٹ، ڈ اور ڑ، بھی شامل کیے ہیں۔ یہ اضافی حروف اردو کی صوتیاتی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
No Comments