urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 59 (Q581-590)

Urdu MCQs

581ضرب المثل ‘مانگے کی مہندی سے ہاتھ نہیں رچتے’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'مانگے کی مہندی سے ہاتھ نہیں رچتے' کا مطلب یہ ہے کہ 'مانگی ہوئی چیز سے حقیقی خوشی نہیں ملتی'، یعنی جو چیز اپنی محنت یا ملکیت سے حاصل نہ ہو بلکہ دوسروں سے مانگی جائے، اس سے دلی اطمینان اور حقیقی خوشی نہیں ملتی۔ یہ ضرب المثل خودانحصاری اور اپنی محنت کی کمائی کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو 'اپنا ہاتھ جگن ناتھ' کے پیغام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

582What is the meaning of the proverb ‘اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا’؟
Explanation

ضرب المثل 'اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا' کا مطلب یہ ہے کہ 'خود اپنا ہی نقصان کر لینا'، یعنی اپنی ہی غلط حکمتِ عملی یا نادانی سے خود کو نقصان پہنچانا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لے۔ یہ ضرب المثل خودساختہ مصیبتوں اور غیر دانشمندانہ فیصلوں پر تنقید کرتی ہے، اور یہ محاورے 'اوکھلی میں سر دینا' سے قریبی مفہوم رکھتی ہے۔

583ضرب المثل ‘گونگے کا گڑ’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'گونگے کا گڑ' کا مطلب یہ ہے کہ یہ 'ایسی خوشی یا تجربہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہ کیا جا سکے'، یعنی ایسی کیفیت یا احساس جو محسوس تو کیا جا سکے مگر زبان سے بیان نہ کیا جا سکے، بالکل اسی طرح جیسے گونگا شخص گڑ کھا کر اس کی مٹھاس محسوس تو کرتا ہے مگر بتا نہیں سکتا۔ یہ ضرب المثل ایسے گہرے، ناقابلِ بیان تجربات کے لیے استعمال ہوتی ہے جو الفاظ کی حدود سے باہر ہوں۔

584What is the meaning of the proverb ‘بوئے پیڑ ببول کے تو آم کہاں سے ہوئے’؟
Explanation

ضرب المثل 'بوئے پیڑ ببول کے تو آم کہاں سے ہوئے' کا مطلب یہ ہے کہ 'برے کام کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا'، یعنی جیسا عمل یا بنیاد ہوگی، ویسا ہی نتیجہ نکلے گا، بالکل اسی طرح جیسے کانٹے دار ببول کا درخت بو کر میٹھے آم کی توقع رکھنا فضول ہے۔ یہ ضرب المثل 'جیسی کرنی ویسی بھرنی' کے پیغام سے قریبی تعلق رکھتی ہے، جو عمل اور نتیجے کے فطری تعلق پر زور دیتی ہے۔

585ضرب المثل ‘جہاں سوئی نہیں جاتی وہاں تلوار کیا جائے گی’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'جہاں سوئی نہیں جاتی وہاں تلوار کیا جائے گی' کا مطلب یہ ہے کہ 'جہاں نرمی سے کام چل جائے وہاں سختی کی ضرورت نہیں'، یعنی جب کسی مسئلے کو معمولی یا نرم طریقے سے حل کیا جا سکتا ہو، تو اس کے لیے شدید یا سخت اقدام کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ضرب المثل تناسب اور اعتدال کی نصیحت کرتی ہے، خاص طور پر تنازعات کے حل میں مناسب سطح کا ردعمل اختیار کرنے کے تناظر میں۔

586What is the meaning of the proverb ‘رات گئی بات گئی’؟
Explanation

ضرب المثل 'رات گئی بات گئی' کا مطلب یہ ہے کہ 'جو ہو گیا سو ہو گیا، اسے بھول جانا چاہیے'، یعنی ماضی کی باتوں یا واقعات پر ماتم کرنے کی بجائے ان سے آگے بڑھ جانا چاہیے، کیونکہ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ یہ ضرب المثل روزمرہ زندگی میں معافی اور آگے بڑھنے کی نصیحت کے طور پر بہت مشہور ہے، اور یہ 'گڑے مردے اکھاڑنا' کے محاورے کے بالکل برعکس رویہ سکھاتی ہے۔

587ضرب المثل ‘اندھیرے کے بعد اجالا ہوتا ہے’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'اندھیرے کے بعد اجالا ہوتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'مشکل وقت کے بعد اچھا وقت آتا ہے'، یعنی زندگی کی سختیاں اور مشکلات ہمیشہ نہیں رہتیں، بالآخر بہتر حالات اور خوشیوں کا وقت ضرور آتا ہے۔ یہ ضرب المثل امید اور حوصلے کی علامت ہے، جو روشنی اور اندھیرے کے متضاد جوڑے سے بھی جڑی ہوئی ہے جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ یہ ضرب المثل مشکل وقت میں تسلی دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

588What is the meaning of the proverb ‘مرغی پہلے کہ انڈا پہلے’؟
Explanation

ضرب المثل 'مرغی پہلے کہ انڈا پہلے' کا مطلب یہ ہے کہ 'کسی معاملے کی ابتدا کے بارے میں لاینحل بحث' ہے، یعنی ایسا سوال جس کا کوئی حتمی جواب نہ ہو کیونکہ دونوں چیزیں ایک دوسرے پر منحصر ہوں۔ یہ ضرب المثل دنیا بھر میں مشہور فلسفیانہ پہیلی 'chicken or the egg' کا اردو روپ ہے۔ یہ ضرب المثل کسی بحث میں لامتناہی اور بےنتیجہ استدلال کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

589ضرب المثل ‘ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں' کا مطلب یہ ہے کہ 'بڑی طاقت کے آگے سب چھوٹے پڑ جاتے ہیں'، یعنی جب کوئی بہت بڑی یا فیصلہ کن قوت میدان میں ہو، تو باقی چھوٹی طاقتیں یا دلائل اس کے سامنے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہاتھی کے بھاری قدم میں چھوٹے جانوروں کے قدموں کے نشان دب جاتے ہیں۔ یہ ضرب المثل غالب طاقت کے سامنے چھوٹی طاقتوں کی بےبسی بیان کرتی ہے۔

590What is the meaning of the proverb ‘جس ڈال پر بیٹھے اسی کو کاٹنا’؟
Explanation

ضرب المثل 'جس ڈال پر بیٹھے اسی کو کاٹنا' کا مطلب یہ ہے کہ 'جس سے فائدہ اٹھائیں اسی کو نقصان پہنچانا'، یعنی جس شخص، ادارے یا ذریعے سے کوئی فائدہ حاصل کر رہا ہو، اسی کو نقصان پہنچانا انتہائی احسان فراموشی اور نادانی ہے، بالکل اسی طرح جیسے جس ڈال پر پرندہ بیٹھا ہو، اسی کو کاٹنا خود اپنے ہی نقصان کا باعث بنے۔ یہ ضرب المثل احسان فراموشی اور خودغرضی پر طنز کرتی ہے۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.