urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 58 (Q571-580)

Urdu MCQs

571ضرب المثل ‘مان نہ مان میں تیرا مہمان’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'مان نہ مان میں تیرا مہمان' کا مطلب یہ ہے کہ 'اجازت کے بغیر کسی پر بوجھ بننا'، یعنی کسی کی مرضی یا دعوت کے بغیر خود کو زبردستی اس پر مسلط کر لینا، خاص طور پر مہمان بن کر۔ یہ ضرب المثل ایسے لوگوں پر طنز کرتی ہے جو بن بلائے کسی کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں یا ان پر بوجھ بنتے ہیں۔ یہ محاورہ اردو ثقافت کی مہمان نوازی کی روایت کے برعکس زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

572What is the meaning of the proverb ‘جو ڈرا سو مرا’؟
Explanation

ضرب المثل 'جو ڈرا سو مرا' کا مطلب یہ ہے کہ 'جو ہمت ہار جائے وہ ناکام رہتا ہے'، یعنی جو شخص خطرے یا مشکل سے پہلے ہی خوفزدہ ہو کر ہمت ہار دے، وہ عملی طور پر شکست کھا چکا ہوتا ہے، چاہے حقیقی خطرہ اتنا بڑا نہ بھی ہو۔ یہ ضرب المثل ہمت اور حوصلے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو 'ہمت مرداں مدد خدا' کے پیغام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

573ضرب المثل ‘مرتا کیا نہ کرتا’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'مرتا کیا نہ کرتا' کا مطلب یہ ہے کہ 'مجبوری میں انسان سب کچھ کر گزرتا ہے'، یعنی جب انسان کسی سخت مجبوری یا بےبسی کی حالت میں ہو تو وہ ایسے کام بھی کر گزرتا ہے جو عام حالات میں کبھی نہ کرتا۔ یہ ضرب المثل انسانی بقا کی جبلت اور مجبوری کے دباؤ پر تبصرہ کرتی ہے، اور یہ اکثر معاشی یا سماجی مجبوریوں کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔

574What is the meaning of the proverb ‘جس کے پاؤں نہ پھٹے بواعی وہ کیا جانے پیر پرائی’؟
Explanation

ضرب المثل 'جس کے پاؤں نہ پھٹے بواعی وہ کیا جانے پیر پرائی' کا مطلب یہ ہے کہ 'جس نے خود تکلیف نہ سہی ہو وہ دوسرے کا دکھ نہیں سمجھ سکتا'، یعنی کسی مصیبت یا تکلیف کی اصل شدت کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو خود اس سے گزرا ہو۔ یہ ضرب المثل 'جس تن لاگے سو تن جانے' سے قریبی تعلق رکھتی ہے اور دونوں ہی ہمدردی کی حدود اور ذاتی تجربے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔

575ضرب المثل ‘خدا دے اور بندہ لے’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'خدا دے اور بندہ لے' کا مطلب یہ ہے کہ 'نصیب اور عطا سے ہی انسان کو کچھ ملتا ہے'، یعنی انسان کی محنت کے باوجود اصل عطا اور رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اور بندہ محض اسے وصول کرنے والا ہے۔ یہ ضرب المثل تقدیر اور رزق سے متعلق اردو کے مذہبی و فلسفیانہ ذخیرہ الفاظ سے جڑی ہوئی ہے، اور یہ تقدیر کے مترادف نصیب سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔

576What is the meaning of the proverb ‘چور چور مسیرے بھائی’؟
Explanation

ضرب المثل 'چور چور مسیرے بھائی' کا مطلب یہ ہے کہ 'ایک جیسی فطرت والے آپس میں مل جاتے ہیں'، یعنی ایک جیسی عادات یا برے مقاصد رکھنے والے لوگ آسانی سے ایک دوسرے کو پہچان لیتے اور ساتھ مل جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دو اجنبی چور بھی اپنے مشترکہ پیشے کی بنا پر رشتہ دار جیسا تعلق محسوس کرتے ہیں۔ یہ ضرب المثل ہم خیال یا ہم مزاج لوگوں کے فطری میل جول پر تبصرہ کرتی ہے، اکثر منفی تناظر میں۔

577ضرب المثل ‘جیسا راجا ویسی پرجا’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'جیسا راجا ویسی پرجا' کا مطلب یہ ہے کہ 'حکمران جیسا ہوتا ہے رعایا بھی ویسی ہی ہوتی ہے'، یعنی کسی قوم یا معاشرے کا اخلاقی و سماجی معیار اس کے حکمرانوں کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ضرب المثل قیادت کی ذمہ داری اور اس کے سماج پر گہرے اثرات پر زور دیتی ہے۔ یہ 'اندھیر نگری چوپٹ راجا' جیسی دیگر حکمرانی سے متعلق ضرب الامثال سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے۔

578What is the meaning of the proverb ‘بندر کے ہاتھ میں استرا’؟
Explanation

ضرب المثل 'بندر کے ہاتھ میں استرا' کا مطلب یہ ہے کہ 'نااہل کو خطرناک چیز یا اختیار دینا نقصان دہ ہے'، یعنی جب کسی ایسے شخص کو طاقت، اختیار یا خطرناک اوزار دیا جائے جو اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت یا سمجھ نہ رکھتا ہو، تو نقصان یقینی ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ضرب المثل نااہل افراد کو ذمہ داری سونپنے کے خطرات پر طنز کرتی ہے۔

579ضرب المثل ‘سستا رووے بار بار مہنگا رووے ایک بار’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'سستا رووے بار بار مہنگا رووے ایک بار' کا مطلب یہ ہے کہ 'سستی چیز بار بار خراب ہوتی ہے جبکہ مہنگی چیز دیرپا ہوتی ہے'، یعنی کم قیمت اور ناقص چیز بار بار مسئلہ پیدا کرتی رہتی ہے، جبکہ ابتدا میں زیادہ قیمت دے کر معیاری چیز خریدنا طویل مدت میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ یہ ضرب المثل معاشی حکمت اور طویل مدتی سوچ کی نصیحت کرتی ہے۔

580What is the meaning of the proverb ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’؟
Explanation

ضرب المثل 'کھودا پہاڑ نکلا چوہا' کا مطلب یہ ہے کہ 'بہت محنت کے بعد نتیجہ بہت معمولی نکلنا'، یعنی جب کسی بڑے منصوبے یا کوشش پر بہت زیادہ وقت اور محنت صرف کی جائے، مگر اس کا نتیجہ توقع سے کہیں کم اور مایوس کن نکلے، بالکل اسی طرح جیسے پورا پہاڑ کھودنے کے بعد صرف ایک چھوٹا سا چوہا برآمد ہو۔ یہ ضرب المثل بڑی محنت کے مقابلے میں غیر متناسب چھوٹے نتیجے پر طنز کرتی ہے۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.