ضرب المثل 'نیکی کر دریا میں ڈال' کا مطلب یہ ہے کہ 'نیکی کر کے بھول جاؤ'، یعنی کسی کے ساتھ بھلائی کرنے کے بعد اس کا احسان جتانے یا بدلے کی توقع رکھنے کی بجائے اسے بھلا دینا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی چیز دریا میں ڈال کر واپس لینے کی توقع نہ رکھی جائے۔ یہ ضرب المثل بےلوث نیکی اور خلوصِ نیت کی اعلیٰ اخلاقی قدر سکھاتی ہے۔
ضرب المثل 'اندھا کیا چاہے دو آنکھیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'جس چیز کی ضرورت ہو وہی مل جائے تو بڑی خوشی کی بات ہے'، یعنی جب کسی کو بالکل وہی چیز مل جائے جس کی اسے سب سے زیادہ حاجت تھی، تو یہ اس کے لیے سب سے بڑی نعمت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اندھے شخص کی سب سے بڑی خواہش آنکھیں پانا ہو۔ یہ ضرب المثل ضرورت اور خواہش کے عین مطابق کچھ حاصل ہونے کی خوشی بیان کرتی ہے۔
ضرب المثل 'جیسے کو تیسا' کا مطلب یہ ہے کہ 'جیسا سلوک ویسا جواب دینا'، یعنی کسی کے ساتھ اسی انداز میں پیش آنا جیسا وہ دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہو، خاص طور پر برے سلوک کا جواب اسی طرح دینا۔ یہ ضرب المثل انصاف پر مبنی مساوی جوابی رویے کی حمایت کرتی ہے، جو انگریزی محاورے 'tit for tat' سے ملتا جلتا تصور ہے۔
ضرب المثل 'لالچ بری بلا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'لالچ انسان کو نقصان پہنچاتا ہے'، یعنی حرص اور طمع انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جو بالآخر اس کے اپنے ہی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ یہ ضرب المثل اردو کی اخلاقی اور مذہبی تحریروں میں قناعت اور خودداری کی نصیحت کے طور پر کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ یہ لالچ کو 'بلا' یعنی مصیبت سے تشبیہ دیتی ہے تاکہ اس کی خطرناکی واضح ہو۔
ضرب المثل 'جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا' کا مطلب یہ ہے کہ 'جتنی محنت کرو گے اتنا اچھا نتیجہ ملے گا'، یعنی کسی کام میں لگائی گئی محنت اور کوشش کی مقدار براہِ راست اس کے نتیجے کے معیار پر اثرانداز ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کھانے میں جتنا گڑ ڈالا جائے وہ اتنا ہی میٹھا ہوتا ہے۔ یہ ضرب المثل محنت اور نتیجے کے براہِ راست تعلق پر زور دیتی ہے، جو 'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے' جیسی دیگر محنت آموز ضرب الامثال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ضرب المثل 'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'صبر کرنے سے آخرکار اچھا نتیجہ نکلتا ہے'، یعنی مشکل حالات میں جلد بازی کی بجائے صبر اور استقامت سے کام لینے والا شخص بالآخر اچھے نتائج حاصل کرتا ہے۔ یہ ضرب المثل اردو کی سب سے مشہور اور کثیر الاستعمال نصیحتوں میں سے ایک ہے، اور یہ صبر کے مترادف تحمل سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
ضرب المثل 'عقل بڑی یا بھینس' کا مطلب یہ ہے کہ 'طاقت سے زیادہ عقل کی اہمیت پر زور دینا'، یعنی جسمانی طاقت یا مادی وسائل کے مقابلے میں عقل و دانائی کہیں زیادہ قیمتی اور مؤثر ہے۔ یہ ضرب المثل بھینس کو طاقت کی علامت کے طور پر استعمال کرتی ہے، اور یہ ضرب المثل 'عقل کے اندھے گانٹھ کے پورے' جیسی دیگر عقل و دولت کے موازنے پر مبنی اقوال سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت' کا مطلب یہ ہے کہ 'وقت نکل جانے کے بعد پچھتانا بےکار ہے'، یعنی جب موقع یا وقت گزر جائے اور نقصان ہو چکا ہو، تو اس پر افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بہتر یہی ہے کہ وقت پر ہی احتیاط برتی جائے۔ یہ ضرب المثل انگریزی محاورے 'no use crying over spilt milk' سے ملتا جلتا مفہوم رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'ایک تو چور اوپر سے سینہ زوری' کا مطلب یہ ہے کہ 'غلطی کرنے کے باوجود بے شرمی سے اکڑنا'، یعنی جب کوئی شخص خود غلط کام کرے مگر اس پر ندامت محسوس کرنے کی بجائے الٹا ڈھٹائی اور جارحیت سے پیش آئے۔ یہ ضرب المثل محاورے 'سینہ زوری کرنا' سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب زبردستی کرنا ہے۔ یہ ضرب المثل ایسے لوگوں پر شدید طنز کرتی ہے جو غلطی کے باوجود اپنی برتری منواتے ہیں۔
ضرب المثل 'اپنی چھاچھ کو کوئی کھٹا نہیں کہتا' کا مطلب یہ ہے کہ 'انسان ہمیشہ اپنی چیز کی تعریف کرتا ہے'، یعنی لوگ عموماً اپنی ملکیت، رائے یا کام کی خامیوں کو نظرانداز کر کے اس کی تعریف ہی کرتے ہیں، چاہے حقیقت میں وہ اتنی اچھی نہ ہو۔ یہ ضرب المثل انسانی تعصب اور خودپسندی کی فطری کمزوری پر تبصرہ کرتی ہے، جو 'گھر کی مرغی دال برابر' کے بالکل برعکس زاویے سے ایک ہی موضوع کو دیکھتی ہے۔
No Comments