ضرب المثل 'چراغوں میں روشنی نہ رہی' کا مطلب یہ ہے کہ 'پہلے جیسی رونق یا شان باقی نہ رہنا'، یعنی کسی خاندان، جگہ یا دور کی وہ شان و شوکت اور رونق ختم ہو جانا جو کبھی اسے ممتاز کرتی تھی۔ یہ ضرب المثل زوال اور عروج کے موضوع سے قریبی تعلق رکھتی ہے، جو 'عروج' کے متضاد 'زوال' سے بھی جڑی ہوئی ہے جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ یہ ماضی کی شان کے مقابلے میں موجودہ زوال پر افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'سونے پہ سہاگہ' کا مطلب یہ ہے کہ 'پہلے سے اچھی چیز میں مزید اضافہ ہونا'، یعنی جب کوئی چیز پہلے ہی عمدہ ہو اور اس میں کوئی اور خوبی یا فائدہ شامل ہو جائے، بالکل اسی طرح جیسے خالص سونے پر سہاگہ (ایک کیمیائی مادہ) لگانے سے اس کی چمک اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ضرب المثل دوہری خوشی یا اضافی فائدے کے موقع پر استعمال ہوتی ہے، اور یہ 'آم کے آم گٹھلیوں کے دام' سے ملتا جلتا مثبت مفہوم رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'اپنا ہاتھ جگن ناتھ' کا مطلب یہ ہے کہ 'اپنی محنت پر بھروسا کرنا بہتر ہے'، یعنی انسان کو دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی ذاتی کوشش اور صلاحیت پر یقین رکھنا چاہیے، کیونکہ اپنا ہاتھ ہی سب سے قابلِ بھروسا ذریعہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے 'جگن ناتھ' (کائنات کا مالک) پر بھروسا کیا جاتا ہے۔ یہ ضرب المثل خودانحصاری اور محاورے 'اپنے پیروں پر کھڑا ہونا' سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'اللہ کے ہاں انصاف میں دیر ہو سکتی ہے مگر ناانصافی نہیں ہوتی'، یعنی اللہ تعالیٰ کا انصاف بالآخر ضرور ملتا ہے، چاہے اس میں کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو، اور ظالم کو کبھی نہ کبھی اس کے اعمال کی سزا ضرور ملتی ہے۔ یہ ضرب المثل مذہبی عقیدے پر مبنی صبر اور یقین کی نصیحت کرتی ہے، جو 'جیسی کرنی ویسی بھرنی' کے پیغام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ضرب المثل 'جیسا دیس ویسا بھیس' کا مطلب یہ ہے کہ 'حالات اور جگہ کے مطابق ڈھلنا چاہیے'، یعنی انسان کو جس ماحول یا معاشرے میں رہنا ہو، اسی کے رسم و رواج اور طریقوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا چاہیے تاکہ زندگی آسان ہو۔ یہ ضرب المثل لچک اور موافقت پذیری کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو انگریزی محاورے 'when in Rome, do as the Romans do' سے ملتا جلتا تصور ہے۔
ضرب المثل 'جان بچی تو لاکھوں پائے' کا مطلب یہ ہے کہ 'مشکل سے صحیح سلامت بچ جانا ہی سب سے بڑی نعمت ہے'، یعنی جب کسی خطرناک یا جان لیوا صورتحال سے کوئی زندہ سلامت نکل آئے تو اسے مالی نقصان کی فکر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ زندگی ہر دولت سے قیمتی ہے۔ یہ ضرب المثل 'جان ہے تو جہان ہے' کے پیغام سے قریبی تعلق رکھتی ہے، جو پہلے اسی نصاب میں آ چکی ہے۔
ضرب المثل 'مفت کا چندن گھس میرے ناتھ' کا مطلب یہ ہے کہ 'مفت کی چیز کا بےدریغ استعمال کرنا'، یعنی جو چیز بغیر محنت یا قیمت کے مل جائے، اسے لوگ بےدریغ اور بغیر احتیاط کے استعمال کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مفت میں ملا قیمتی چندن بھی بےپروائی سے گھسا جائے۔ یہ ضرب المثل انسانی نفسیات کی اس عادت پر طنز کرتی ہے کہ مفت چیز کی قدر نہیں کی جاتی۔
ضرب المثل 'اندھے کے ہاتھ بٹیر لگنا' کا مطلب یہ ہے کہ 'بغیر محنت کے اچانک کامیابی مل جانا'، یعنی کسی کو بغیر کسی خاص کوشش یا مہارت کے اتفاقی طور پر بڑی کامیابی یا فائدہ حاصل ہو جانا، بالکل اسی طرح جیسے کسی اندھے شخص کے ہاتھ اچانک ایک بٹیر (پرندہ) لگ جائے۔ یہ ضرب المثل غیرمتوقع اور خوش قسمتی پر مبنی کامیابی کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو' کا مطلب یہ ہے کہ 'جلد بازی نہ کرو، انتظار کر کے نتیجہ دیکھو'، یعنی کسی معاملے میں فوری فیصلہ کرنے کی بجائے صبر سے حالات کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ صحیح وقت پر درست فیصلہ کیا جا سکے۔ یہ ضرب المثل صبر اور مشاہدے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو 'دیر آید درست آید' کے پیغام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ضرب المثل 'آپ بھلا تو جگ بھلا' کا مطلب یہ ہے کہ 'اگر انسان خود اچھا ہو تو اسے سب اچھے لگتے ہیں'، یعنی جب انسان کی اپنی نیت اور کردار نیک ہو، تو وہ دنیا کو بھی مثبت نظر سے دیکھتا ہے اور اسے دوسروں میں بھی اچھائی نظر آتی ہے۔ یہ ضرب المثل خود شناسی اور اپنے کردار کی اصلاح کی نصیحت کرتی ہے، کیونکہ دنیا کے بارے میں نظریہ اکثر اپنی ذات کی عکاسی ہوتا ہے۔
No Comments