'ذلت' کا مترادف 'رسوائی' ہے، دونوں الفاظ بے عزتی اور شرمندگی کی حالت ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عزت، وقار اور احترام ذلت کے متضاد الفاظ ہیں۔ ذلت و رسوائی اردو محاورے 'منہ کالا کرنا' سے بھی جڑے ہوئے تصورات ہیں، جس کا مطلب بدنام ہونا ہے۔
'طاقت' کا مترادف 'قوت' ہے، دونوں الفاظ جسمانی یا سیاسی زور و توانائی کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سستی، ضعف اور کمزوری طاقت کے متضاد الفاظ ہیں۔ طاقت و قوت اردو کی سیاسی اور فلسفیانہ تحریروں میں بھی استعمال ہوتے ہیں، جیسے ضرب المثل 'عقل بڑی یا بھینس' میں طاقت اور عقل کا موازنہ کیا جاتا ہے۔
'کمزوری' کا مترادف 'ضعف' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور جسمانی یا اخلاقی کمزوری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس قوت، طاقت اور توانائی کمزوری کے متضاد الفاظ ہیں۔ کمزوری و ضعف اکثر خوبیوں کے ساتھ ملا کر کسی شخص کی خوبیاں اور کمزوریاں جانچنے والی تحریروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
'خیال' کا مترادف 'سوچ' ہے، دونوں الفاظ ذہن میں آنے والے تصور یا فکر کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کام، نتیجہ اور عمل عملی اقدامات ظاہر کرتے ہیں، جو محض ذہنی خیال سے مختلف ہیں۔ خیال و سوچ اردو شاعری اور فلسفے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، خاص طور پر خیال آفرینی جیسی شاعرانہ اصطلاح میں۔
'ہمدردی' کا مترادف 'غمخواری' ہے، دونوں الفاظ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور خیال رکھنے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بے حسی، سختی اور بے پروائی ہمدردی کے متضاد الفاظ ہیں۔ ہمدردی و غمخواری اردو کی سماجی اور اخلاقی تحریروں میں انسانیت کی بنیادی قدر کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔
'انعام' کا مترادف 'صلہ' ہے، دونوں الفاظ کسی اچھے کام کے بدلے دیے جانے والے بدلے یا اجر کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جرمانہ، سزا اور عذاب انعام کے متضاد الفاظ ہیں۔ انعام و صلہ اردو کی اخلاقی اور مذہبی تحریروں میں نیک اعمال کے بدلے کے تناظر میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'سزا' کا مترادف 'دنڈ' ہے، جو ہندی الاصل لفظ ہے اور کسی غلطی یا جرم کے بدلے دی جانے والی تعزیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس صلہ، بخشش اور انعام سزا کے متضاد الفاظ ہیں۔ سزا و دنڈ اردو کی قانونی اور اخلاقی تحریروں میں انصاف کے تناظر میں استعمال ہوتے ہیں۔
'خبر' کا مترادف 'اطلاع' ہے، دونوں الفاظ کسی واقعے کی معلومات پہنچانے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بھید، افسانہ اور راز مختلف تصورات ہیں جن کا خبر سے کوئی مترادف تعلق نہیں، بلکہ راز تو خبر کے برعکس چھپی ہوئی بات ہے۔ خبر و اطلاع اردو صحافتی ذخیرہ الفاظ کا بنیادی حصہ ہیں، جیسا کہ اسی نصاب کے زبان کی تاریخ والے حصے میں اردو صحافت کے آغاز پر بحث ہوگی۔
'راز' کا مترادف 'بھید' ہے، دونوں الفاظ کسی پوشیدہ اور خفیہ بات کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اطلاع، اعلان اور خبر ایسی معلومات ہیں جو کھلے عام بتائی جاتی ہیں، جو راز کے بالکل متضاد ہیں۔ راز و بھید اردو محاورے 'دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں' کے موضوع سے بھی جڑے ہیں، جو راز چھپانے کی مشکل بیان کرتا ہے۔
'عادت' کا مترادف 'خصلت' ہے، دونوں الفاظ کسی شخص کے مستقل رویے یا مزاج کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ فطرت اور طبیعت بھی قریبی تصورات ہیں مگر عادت سیکھی ہوئی روش کو ظاہر کرتی ہے جبکہ فطرت پیدائشی خصوصیت کو۔ عادت و خصلت اردو کی اخلاقی اور نفسیاتی تحریروں میں شخصیت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
No Comments