'سفر' کا مترادف 'مسافرت' ہے، دونوں الفاظ کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سکونت، توقف اور قیام ٹھہرنے یا رکنے کی حالت ظاہر کرتے ہیں، جو سفر کے بالکل متضاد تصورات ہیں۔ سفر اردو شاعری میں زندگی کے استعارے کے طور پر بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر راستے اور منزل کے ساتھ۔
'دنیا' کا مترادف 'جہاں' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور اردو شاعری میں کائنات یا موجودہ زندگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جیسے علامہ اقبال کی مشہور نظم 'ترانہ ہندی' کے مصرعے 'سارے جہاں سے اچھا' میں۔ اس کے برعکس آخرت، عقبیٰ اور فردوس اگلے جہان یا جنت کے تصورات ظاہر کرتے ہیں۔ دنیا و جہاں کا یہ فرق مذہبی و فلسفیانہ اردو تحریروں میں اہم موضوع ہے۔
'انسان' کا مترادف 'بشر' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور آدم کی اولاد یعنی عام انسان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس حیوان، جن اور فرشتہ مختلف مخلوقات ہیں جن کا انسان سے مترادف تعلق نہیں۔ بشر سے مذہبی تراکیب بھی بنتی ہیں، جیسے 'خطاکار بشر'، جو انسانی کمزوری اور غلطی کے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
'جنگ' کا مترادف 'لڑائی' ہے، دونوں الفاظ مسلح تصادم یا کشمکش کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس صلح اور امن جنگ کے متضاد الفاظ ہیں، جو باہمی مفاہمت اور سکون کی حالت ظاہر کرتے ہیں۔ جنگ اردو تاریخی ادب کا اہم موضوع ہے، خاص طور پر مرثیہ نگاری میں کربلا کی جنگ کے تناظر میں۔
'صلح' کا مترادف 'مصالحت' ہے، دونوں الفاظ باہمی مفاہمت اور جھگڑے کے خاتمے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جنگ، لڑائی اور فساد صلح کے متضاد الفاظ ہیں۔ صلح و مصالحت اردو کی سماجی و سیاسی تحریروں میں تنازعات کے پرامن حل کے موضوع پر کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'امید' کا مترادف 'آس' ہے، دونوں الفاظ مستقبل میں کسی اچھی بات کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ناامیدی اور مایوسی امید کے متضاد الفاظ ہیں۔ امید و آس اردو شاعری میں محبوب کے وصال یا حالات کی بہتری کی خواہش بیان کرنے کے لیے کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔
'خوف' کا مترادف 'ڈر' ہے، دونوں الفاظ کسی خطرے یا نقصان کے احساس سے پیدا ہونے والی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بہادری، سکون اور اطمینان خوف کے متضاد الفاظ ہیں۔ خوف و ڈر اردو ادب میں نفسیاتی کیفیات بیان کرنے کے لیے بنیادی ذخیرہ الفاظ کا حصہ ہیں۔
'محبت' کا مترادف 'پیار' ہے، دونوں الفاظ کسی کے لیے گہرے لگاؤ اور چاہت کے جذبے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کینہ، بغض اور نفرت محبت کے متضاد الفاظ ہیں۔ محبت اردو غزل کا مرکزی موضوع ہے، جس کے گرد صدیوں کی شاعری گھومتی ہے۔
'نفرت' کا مترادف 'بیزاری' ہے، دونوں الفاظ کسی چیز یا شخص سے شدید ناپسندیدگی اور کراہت کا جذبہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پیار، محبت اور الفت نفرت کے متضاد الفاظ ہیں۔ نفرت اور بیزاری میں فرق یہ ہے کہ بیزاری میں تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
'غریب' کا مترادف 'مفلس' ہے، دونوں الفاظ مالی تنگدستی اور وسائل کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس امیر، دولت مند اور سخی غریب کے متضاد یا غیر متعلقہ الفاظ ہیں۔ غریب و مفلس اردو کی سماجی حقیقت نگاری پر مبنی افسانوں، خاص طور پر منشی پریم چند کی تحریروں میں، کثرت سے موضوع بنتے ہیں۔
No Comments