'دشمن' کا مترادف 'عدو' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور مخالف یا حریف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس رفیق، یار اور حبیب دوستی اور محبت کے مترادف الفاظ ہیں، جو دشمن کے بالکل متضاد جذبات ظاہر کرتے ہیں۔ دشمن اور عدو جیسے الفاظ اردو کی جنگی اور تاریخی شاعری میں بھی کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'ماں' کا مترادف 'والدہ' ہے، جو زیادہ رسمی اور تحریری اردو میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ماں روزمرہ بول چال کا لفظ ہے۔ اس کے برعکس باپ کا مترادف والد ہے، جو اسی طرز کی رسمی اور غیر رسمی جوڑی بناتا ہے۔ بہو اور ساس مختلف رشتہ دار ہیں جن کا ماں سے کوئی براہِ راست مترادف تعلق نہیں۔
'باپ' کا مترادف 'والد' ہے، جو زیادہ رسمی اور تحریری اردو میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ باپ روزمرہ بول چال کا لفظ ہے، بالکل ماں اور والدہ کی طرح۔ چچا اور ماموں والد کی طرح ہی مذکر رشتہ دار ہیں مگر باپ کے مترادف نہیں بلکہ الگ رشتے ہیں۔ رسمی اور غیر رسمی مترادفات کا یہ جوڑا اردو تحریری و تقریری اسلوب کے فرق کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
'گھر' کا مترادف 'مکان' ہے، دونوں الفاظ رہائش کی جگہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اگرچہ گھر میں جذباتی اپنائیت کا عنصر زیادہ ہوتا ہے جبکہ مکان زیادہ سرکاری و رسمی لفظ ہے۔ صحرا، باغ اور میدان مختلف قسم کی جگہیں ہیں جن کا گھر سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ گھر اور مکان کا یہ فرق اردو ادب میں گھر کی جذباتی اہمیت پر مبنی تحریروں میں اکثر واضح کیا جاتا ہے۔
'راستہ' کا مترادف 'راہ' ہے، جو فارسی الاصل شاعرانہ لفظ ہے اور اردو غزلوں میں زندگی کے سفر کے موضوع پر کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ منزل، قافلہ اور سفر متعلقہ مگر الگ الگ تصورات ہیں، جو راستے کے ساتھ سفر کے پورے استعارے کی تکمیل کرتے ہیں۔ راہ سے کئی محاورے اور ضرب الامثال بھی بنتی ہیں، جیسے 'جہاں چاہ وہاں راہ'۔
'عقل' کا مترادف 'خرد' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور دانائی و سمجھ بوجھ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس نادانی، غفلت اور جہالت عقل کے متضاد الفاظ ہیں۔ خرد سے کئی تراکیب بھی بنتی ہیں، جیسے خردمند (عقلمند)، جو اردو کے فلسفیانہ و اخلاقی ذخیرہ الفاظ میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔
'علم' کا مترادف 'دانش' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور معرفت و آگہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جہالت، نادانی اور غفلت علم کے متضاد الفاظ ہیں۔ دانش سے کئی تراکیب بھی بنتی ہیں، جیسے دانشور (عالم، سمجھدار شخص)، جو تعلیمی اور فکری ذخیرہ الفاظ کا اہم حصہ ہے۔
'حسن' کا مترادف 'جمال' ہے، دونوں الفاظ خوبصورتی اور دلکشی کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اردو شاعری میں محبوب کی خوبصورتی بیان کرنے کے لیے کثرت سے آتے ہیں۔ اس کے برعکس عیب، قباحت اور بدصورتی حسن کے متضاد الفاظ ہیں۔ حسن و جمال کی ترکیب اردو ادب میں محبوب کی مکمل خوبصورتی بیان کرنے کے لیے اکٹھی بھی استعمال ہوتی ہے۔
'زندگی' کا مترادف 'حیات' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور اردو کی کئی مذہبی و فلسفیانہ تراکیب میں شامل ہے، جیسے آبِ حیات۔ اس کے برعکس موت، وفات اور فنا زندگی کے متضاد الفاظ ہیں۔ حیات سے متعلق لفظ حی بھی اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک ہے، جس کا مطلب 'ہمیشہ زندہ رہنے والا' ہے۔
'موت' کا مترادف 'وفات' ہے، اگرچہ وفات زیادہ نرم اور مؤدب لفظ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر کسی محترم شخصیت کی موت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زندگی، بقا اور حیات موت کے متضاد الفاظ ہیں۔ اردو ادب میں شعرا کی وفات کی تاریخیں اکثر ان کے سوانحی حالات کے سوالات میں پوچھی جاتی ہیں، جیسے اسی نصاب کے شعراء والے حصے میں دیکھا جائے گا۔
No Comments