'مصنف' یعنی لکھنے والا کی مؤنث 'مصنفہ' ہے، جو عربی طرز کے لاحقے '-ہ' سے بنائی جاتی ہے، بالکل طالبہ اور معلمہ کی طرح۔ عصمت چغتائی اور قرۃالعین حیدر جیسی مشہور اردو ادیبات کو اکثر مصنفہ کہا جاتا ہے، جن کا ذکر اسی امتحانی نصاب کے نثر نگاروں والے حصے میں بھی آئے گا۔ عربی '-ہ' کا یہ لاحقہ ادبی و علمی پیشوں کی مؤنث شکل بنانے کا معیاری اردو طریقہ ہے۔
'عالم' یعنی عالم دین یا اسکالر کی مؤنث 'عالمہ' ہے، جو عربی طرز کے لاحقے '-ہ' سے بنائی جاتی ہے، بالکل مصنفہ اور طالبہ کی طرح۔ واضح رہے کہ عالم کی جمع مکسر علماء پہلے اسی امتحانی حصے میں آ چکی ہے، جبکہ عالمہ اس کی واحد مؤنث شکل ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ایک ہی جڑ سے مختلف مقاصد کے لیے، یعنی صنف اور جمع دونوں کے لیے، الگ الگ شکلیں بنتی ہیں۔
'حاجی' یعنی حج کرنے والے کی مؤنث 'حاجن' ہے، جو لاحقہ '-ن' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل دھوبی سے دھوبن اور کمہار سے کمہارن کی طرح۔ یہ '-ن' کا لاحقہ کئی پیشہ ورانہ اور مذہبی القاب کی مؤنث شکل بنانے میں استعمال ہوتا ہے، جو عربی '-ہ' کے لاحقے سے مختلف مگر اتنا ہی رائج ہے۔ حاجی وہ شخص ہے جس نے حج ادا کیا ہو، جو اسلامی عبادات سے متعلق اہم اصطلاح ہے۔
'جولاہا' یعنی کپڑا بننے والے کی مؤنث 'جولاہن' ہے، جو لاحقہ '-ن' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل حاجی سے حاجن کی طرح۔ جولاہا روایتی دستکاری کے پیشوں میں سے ایک ہے، اور اس جیسے دیگر دستکاری پیشوں کے نام بھی اسی '-ن' کے لاحقے سے مؤنث بنتے ہیں، جیسے دھوبی سے دھوبن اور کمہار سے کمہارن۔ یہ پیشہ ورانہ ذخیرہ الفاظ روایتی دیہی معیشت پر مبنی تفہیمی اقتباسات میں کثرت سے آتا ہے۔
'دھوبی' یعنی کپڑے دھونے والے کی مؤنث 'دھوبن' ہے، جو لاحقہ '-ن' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل حاجی سے حاجن اور جولاہا سے جولاہن کی طرح۔ یہ '-ن' کا لاحقہ روایتی دستکاری اور خدماتی پیشوں کے ناموں کی مؤنث شکل بنانے کا ایک عام قاعدہ ہے۔ دھوبی، کمہار اور جولاہا جیسے پیشہ ورانہ الفاظ اردو کے روایتی طبقاتی و پیشہ ورانہ ذخیرہ الفاظ کا اہم حصہ ہیں۔
'کمہار' یعنی مٹی کے برتن بنانے والے کی مؤنث 'کمہارن' ہے، جو لاحقہ '-ن' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل دھوبی سے دھوبن اور جولاہا سے جولاہن کی طرح۔ کمہار روایتی دستکاری کے پیشوں میں شامل ہے اور اردو کے دیہی و طبقاتی ذخیرہ الفاظ کا حصہ ہے۔ یہ '-ن' کا لاحقہ اس زمرے کے تمام روایتی پیشہ ورانہ القاب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
'بھتیجا' یعنی بھائی کے بیٹے کی مؤنث 'بھتیجی' ہے، جو مذکر '-ا' کو مؤنث '-ی' میں بدل کر بنائی جاتی ہے۔ بھتیجا و بھتیجی بھائی کی اولاد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ بہن کی اولاد کے لیے الگ اصطلاحات بھانجا و بھانجی استعمال ہوتی ہیں، جو اردو رشتہ داری کے نظام کی باریک تفریق ظاہر کرتی ہیں۔ یہ رشتہ داری کی اصطلاحات ذخیرہ الفاظ کے امتحانی سوالات میں اکثر آزمائی جاتی ہیں۔
'بھانجا' یعنی بہن کے بیٹے کی مؤنث 'بھانجی' ہے، جو مذکر '-ا' کو مؤنث '-ی' میں بدل کر بنائی جاتی ہے، بالکل بھتیجا سے بھتیجی کی طرح۔ بھانجا و بھانجی بہن کی اولاد کے لیے مخصوص ہیں، جو بھائی کی اولاد یعنی بھتیجا و بھتیجی سے الگ اصطلاح ہے۔ یہ فرق اردو رشتہ داری کے نظام کی وہ باریکی ظاہر کرتا ہے جو انگریزی کے عام لفظ nephew میں موجود نہیں۔
'سسر' یعنی شوہر یا بیوی کے والد کی مؤنث 'ساس' ہے، جو ایک الگ لفظ ہے نہ کہ لاحقے کی تبدیلی سے بنا۔ سسر اور ساس ازدواجی رشتہ داری کی بنیادی اصطلاحات ہیں، جن کے ساتھ نند اور سالی جیسی دیگر اصطلاحات بھی جڑی ہیں۔ یہ سسرالی رشتوں کے الفاظ اردو ثقافت اور خاندانی زندگی پر مبنی تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'داماد' یعنی بیٹی کے شوہر کی مؤنث 'بہو' ہے، یعنی بیٹے کی بیوی، جو ایک الگ لفظ ہے نہ کہ لاحقے کی تبدیلی سے بنا۔ داماد اور بہو دونوں خاندان میں شادی کے ذریعے شامل ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور یہ رشتہ داری کی اصطلاحات اردو کی سماجی و خاندانی ذخیرہ الفاظ کا اہم حصہ ہیں۔ سسر، ساس، داماد اور بہو جیسی اصطلاحات مل کر سسرالی رشتوں کا مکمل نظام بناتی ہیں۔
No Comments