'کتا' کی مؤنث 'کتیا' ہے، جو مذکر '-ا' میں '-یا' کا لاحقہ شامل کر کے بنائی جاتی ہے۔ یہ صنفی تبدیلی کا انداز چوہا سے چوہیا میں بھی نظر آتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ '-ا' پر ختم ہونے والے بعض جانوروں کے نام '-یا' کا لاحقہ لے کر مؤنث بنتے ہیں، بجائے سادہ '-ی' کے جو بکرا سے بکری میں دیکھا گیا۔
'بندر' کی مؤنث 'بندریا' ہے، جو لاحقہ '-یا' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل کتا سے کتیا اور چوہا سے چوہیا کی طرح۔ بندر اردو محاورات اور ضرب الامثال میں بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جیسے 'بندر کیا جانے ادرک کا سواد' اور 'بندر کے ہاتھ میں استرا'۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ روزمرہ جانوروں کے نام صرف صنفی سوالات ہی نہیں بلکہ محاوراتی ذخیرہ الفاظ میں بھی دوبارہ نظر آتے ہیں۔
'چوہا' کی مؤنث 'چوہیا' ہے، جو لاحقہ '-یا' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل بندر سے بندریا اور کتا سے کتیا کی طرح۔ چوہا اردو محاورے 'پیٹ میں چوہے دوڑنا' میں بھی استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے شدید بھوک لگنا۔ '-یا' والا یہ لاحقہ چھوٹے جانوروں کی مؤنث شکل بنانے کا ایک عام مگر بکرا سے بکری کے سیدھے '-ی' والے قاعدے سے قدرے مختلف انداز ہے۔
'ہرن' کی مؤنث 'ہرنی' ہے، جو لاحقہ '-ی' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل شیر سے شیرنی کے مشابہ مگر بغیر 'ن' کی تکرار کے۔ ہرن اردو شاعری اور تشبیہات میں خوبصورتی، پھرتی اور معصومیت کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر محبوب کی آنکھوں کو ہرن کی آنکھوں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہ لفظ فطرت اور شکار سے متعلق ذخیرہ الفاظ میں بھی عام ہے۔
'شوہر' کی مؤنث 'بیوی' ہے، جو ایک بالکل الگ لفظ ہے، بالکل باپ اور ماں کی طرح۔ شوہر اور بیوی ازدواجی رشتے کے بنیادی الفاظ ہیں، اور ان سے جڑے دیگر رشتہ دار جیسے ساس، سسر، نند اور سالی بھی اردو رشتہ داری کے ذخیرہ الفاظ میں شامل ہیں۔ یہ ازدواجی رشتوں کی اصطلاحات مقابلے کے امتحانات کے ذخیرہ الفاظ کے سوالات میں اکثر آزمائی جاتی ہیں۔
'نوکر' کی مؤنث 'نوکرانی' ہے، جو لاحقہ '-انی' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل ماموں سے ممانی کی طرح۔ نوکر اور نوکرانی گھریلو ملازمت سے متعلق اردو الفاظ ہیں، جو سماجی طبقات اور گھریلو زندگی پر مبنی ادبی تحریروں میں کثرت سے آتے ہیں۔ '-انی' کا یہ لاحقہ کئی پیشوں اور رشتوں کی مؤنث شکل بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
'چور' کی مؤنث 'چورنی' ہے، جو لاحقہ '-نی' لگا کر بنائی جاتی ہے، بالکل شیر سے شیرنی کی طرح۔ چور اردو کی کئی ضرب الامثال میں استعمال ہوتا ہے، جیسے 'چور کی داڑھی میں تنکا' اور 'الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے'، جو مجرمانہ رویے پر طنز کرتی ہیں۔ '-نی' کا لاحقہ اردو میں کئی پیشوں اور کرداروں کی مؤنث شکل بنانے کا ایک عام طریقہ ہے۔
'طالب علم' کی مؤنث 'طالبہ' ہے، جو عربی طرز کے لاحقے '-ہ' سے بنائی جاتی ہے، بالکل معلم سے معلمہ اور شاعر سے شاعرہ کی طرح۔ طالب علم اور طالبہ تعلیمی ذخیرہ الفاظ کے بنیادی الفاظ ہیں، جو اسکول اور کالج سے متعلق تفہیمی اقتباسات میں کثرت سے آتے ہیں۔ عربی '-ہ' کا لاحقہ اردو میں پیشہ ورانہ اور تعلیمی القاب کی مؤنث شکل بنانے کا نہایت پیداواری ذریعہ ہے۔
'آدمی' کی مؤنث 'عورت' ہے، جو ایک بالکل الگ لفظ ہے، بالکل مرد کے مؤنث کے طور پر بھی استعمال ہونے والا عورت جیسا۔ آدمی اور عورت اردو کے سب سے بنیادی صنفی الفاظ ہیں، جو انسانوں کی جنس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، برخلاف زیادہ مخصوص الفاظ جیسے مرد و زن کے۔ یہ صنفی جوڑا ذخیرہ الفاظ کے امتحانی سوالات میں بنیادی درجے پر آزمایا جاتا ہے۔
'شہزادہ' کی مؤنث 'شہزادی' ہے، جو مذکر '-ہ' کو مؤنث '-ی' میں بدل کر بنائی جاتی ہے۔ شہزادہ اور شہزادی شاہی خاندان کے بیٹے اور بیٹی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ خود بادشاہ اور ملکہ حکمران کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ شاہی القاب اردو کی کلاسیکی داستانوں اور تاریخی ادب میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
No Comments