'کتاب' 'مؤنث' اسم ہے، جیسا کہ اس کی جمع کتابیں (جو '-یں' کا لاحقہ لیتی ہے) سے بھی ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ مؤنث حرفِ صحیح پر ختم ہونے والے اسم عموماً یہی جمع کا قاعدہ اپناتے ہیں۔ اردو میں کسی اسم کی صنف اکثر اس کے معنی سے متعین نہیں ہوتی بلکہ روایتی استعمال سے سیکھنی پڑتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے فرانسیسی یا جرمن میں ہوتا ہے۔ کتاب جیسے روزمرہ اسموں کی صنف پہچاننا صحیح صفت اور فعل کی موافقت کے لیے ضروری ہے۔
'قلم' کو معیاری گرامر میں 'مذکر' اسم قرار دیا جاتا ہے، اگرچہ روزمرہ بول چال میں بہت سے لوگ اسے مؤنث کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی جمع اکثر مؤنث انداز میں قلمیں سنی جاتی ہے۔ یہ اردو کے چند اسموں میں سے ایک ہے جن کی صنف پر روایتی گرامر اور روزمرہ استعمال میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایسے متنازع صنف والے الفاظ مقابلے کے امتحانات میں خاص طور پر آزمائے جاتے ہیں تاکہ رسمی قاعدے کی سمجھ جانچی جا سکے۔
'میز' 'مؤنث' اسم ہے، جیسا کہ اس کی جمع میزیں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ گھریلو فرنیچر کے کئی الفاظ، جیسے میز اور کرسی، اردو میں مؤنث شمار ہوتے ہیں، جو صنف کی نشاندہی کے سوالات میں اکثر اکٹھے آزمائے جاتے ہیں۔ کسی اسم کی صنف پہچاننا اس کے ساتھ آنے والی صفت اور فعل کی درست صورت استعمال کرنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
'دریا' 'مذکر' اسم ہے، برخلاف اس کی چھوٹی صورت ندی کے جو مؤنث ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ اردو میں پانی کے مختلف حجم کے ذخائر کو مختلف صنف دی گئی ہے، بڑا دریا مذکر اور چھوٹی ندی مؤنث۔ دریا اردو شاعری میں گہرائی اور روانی کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے قرۃالعین حیدر کے مشہور ناول 'آگ کا دریا' میں۔
'ہوا' 'مؤنث' اسم ہے، جیسا کہ اس کی بے قاعدہ جمع ہوائیں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ہوا چار کلاسیکی عناصر یعنی آب، آتش، خاک اور ہوا میں سے ایک ہے، اور یہ فطرت سے متعلق اردو شاعری میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ دوا اور دعا جیسے دیگر الف پر ختم ہونے والے مؤنث اسم بھی اسی بے قاعدہ جمع کے قاعدے پر عمل کرتے ہیں۔
'سورج' 'مذکر' اسم ہے، برخلاف اس کے مترادف آفتاب کے، جو بھی مذکر ہی ہے۔ سورج کا متضاد چاند بھی مذکر اسم ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ فطری اجرام فلکی جیسے سورج اور چاند دونوں اردو میں مذکر شمار ہوتے ہیں، برخلاف زمین کے جو مؤنث ہے۔ یہ فطرت سے متعلق اسموں کی صنف مقابلے کے امتحانات کے صنف پہچاننے والے سوالات میں اکثر آزمائی جاتی ہے۔
'چاند' 'مذکر' اسم ہے، بالکل سورج کی طرح، جبکہ زمین اس کے برعکس مؤنث ہے۔ چاند اردو شاعری میں محبوب کے چہرے کی خوبصورتی کے لیے ایک عام تشبیہ ہے، اور اسی لیے یہ ذخیرہ الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات دونوں میں اہمیت رکھتا ہے۔ فطری اجرام فلکی جیسے سورج، چاند اور آسمان کی صنف یاد رکھنا ایسے سوالات میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
'زمین' 'مؤنث' اسم ہے، برخلاف اس کے مقابل آسمان کے، جو مذکر ہے۔ زمین اور آسمان کا یہ صنفی جوڑا اردو میں فطری اضداد میں ایک دلچسپ مثال ہے، جہاں دو مخالف تصورات کی صنف بھی الگ الگ ہے۔ زمین کا مترادف ارض بھی اسی طرح مؤنث سمجھا جاتا ہے، جو اردو ذخیرہ الفاظ کے مترادفات کے سوالات میں پہلے بھی آ چکا ہے۔
'آسمان' 'مذکر' اسم ہے، برخلاف اس کے مقابل زمین کے جو مؤنث ہے۔ یہ صنفی فرق آسمان اور زمین کے فطری تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے، جو اردو شاعری میں کائنات کی وسعت بیان کرنے کے لیے اکثر اکٹھے استعمال ہوتے ہیں۔ آسمان کے مترادفات فلک اور سما بھی روایتی طور پر مذکر شمار ہوتے ہیں۔
'رات' 'مؤنث' اسم ہے، جیسا کہ اس کی جمع راتیں سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جبکہ اس کا متضاد دن مذکر اسم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم معنی اضداد کی صنف اردو میں ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی، جو صنف پہچاننے کے سوالات میں امیدواروں کو محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ رات اردو شاعری میں تنہائی اور سکون دونوں کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
No Comments