وہ شاعری جو بچوں کے لیے لکھی جائے، اسے 'اطفال کی شاعری یا بچوں کا ادب' کہا جاتا ہے، جس میں سادہ زبان اور دلچسپ موضوعات کے ذریعے بچوں کی تربیت اور تفریح دونوں مقاصد پورے کیے جاتے ہیں۔ یہ صنف اردو ادب کی دیگر سنجیدہ اصناف سے مختلف ہے کیونکہ اس کا سامعین طبقہ خاص طور پر بچے ہوتے ہیں۔ نظیر اکبرآبادی کی بعض نظمیں بھی اسی عوامی اور سادہ اسلوب کی مثال سمجھی جاتی ہیں۔
'واسوخت' وہ نظم ہے 'جس میں محبوب سے بیزاری اور شکایت کا اظہار ہو'، جو اردو کی کلاسیکی رومانوی شاعری کی روایت میں غزل کے برعکس ایک الگ رجحان ظاہر کرتی ہے۔ عام غزل میں عاشق محبوب کی بےوفائی پر بھی وفا کا اظہار کرتا ہے، جبکہ واسوخت میں شاعر کھل کر اپنی ناراضگی اور بیزاری بیان کرتا ہے۔ یہ صنف جذباتی حقیقت پسندی کی ایک منفرد مثال ہے۔
'شہر آشوب' کسی شہر کی تباہی و بربادی یا زوال کے موضوع پر لکھی جاتی ہے، جس میں شاعر کسی خاص شہر کی سیاسی، سماجی یا معاشی ابتری کا نوحہ بیان کرتا ہے۔ یہ صنف خاص طور پر دہلی کے زوال کے دور میں مقبول ہوئی، جب کلاسیکی شعرا نے اپنے پیارے شہر کی بربادی پر نظمیں لکھیں۔ یہ صنف مرثیے سے مختلف ہے کیونکہ اس کا موضوع کسی فرد کی بجائے پورا شہر ہوتا ہے۔
'سراپا نگاری' وہ فن ہے جو 'محبوب کے حسن و جمال کی تفصیلی منظر کشی' سے متعلق ہے، جس میں شاعر محبوب کے چہرے، بالوں، آنکھوں اور دیگر جسمانی خصوصیات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ یہ فن کلاسیکی اردو غزل اور مثنوی دونوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ سراپا نگاری میں تشبیہ اور استعارے جیسی صنعتوں کا بھرپور استعمال ہوتا ہے تاکہ محبوب کے حسن کو مؤثر انداز میں بیان کیا جا سکے۔
غزل کے کسی ایک شعر کو الگ سے پیش کرنا 'فرد' کہلاتا ہے، یعنی ایک ایسا واحد شعر جو خود اپنے آپ میں مکمل معنی رکھتا ہو اور اسے پوری غزل سے الگ کر کے پیش کیا جا سکے۔ یہ اصطلاح غزل کی اس بنیادی خصوصیت سے جڑی ہے کہ ہر شعر آزاد خیال رکھتا ہے، جو پہلے بھی اسی نصاب میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔
وہ شعر جو کسی اور کے دیوان یا کلام میں شامل نہ ہو اور آزادانہ کہا گیا ہو، اسے بھی 'فرد' کہتے ہیں۔ یہ ایسا شعر ہوتا ہے جو کسی مکمل غزل یا نظم کا حصہ نہ ہو بلکہ ایک آزاد اور مکمل تخلیق کے طور پر کہا گیا ہو۔ فرد کی یہ دوہری تعریف، یعنی غزل سے الگ کیا گیا شعر اور آزادانہ کہا گیا شعر، دونوں اسی اصطلاح کے تحت آتی ہیں۔
شعرا کے کلام کے انتخاب یا نوٹ بک کو 'بیاض' کہتے ہیں، جس میں شاعر یا کوئی شائقِ ادب اپنے پسندیدہ اشعار یا اپنا کلام جمع کرتا ہے۔ بیاض دیوان اور کلیات سے مختلف ہے، کیونکہ یہ عموماً ایک ذاتی یا غیر رسمی مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ باقاعدہ مرتب شدہ کتاب۔ کلاسیکی دور میں شعرا اور ادب دوست اپنی بیاضوں میں پسندیدہ اشعار نقل کرتے تھے۔
مختلف شعرا کے حالاتِ زندگی اور کلام کے تعارف پر مشتمل کتاب کو 'تذکرہ' کہتے ہیں، جو اردو ادب کی تاریخ نویسی کی ایک قدیم روایت ہے۔ محمد حسین آزاد کی 'آبِ حیات' بھی ایک قسم کا تذکرہ ہے، جس کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ تذکرے اردو شاعری کی تاریخ اور مختلف شعرا کے بارے میں معلومات کا بنیادی ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔
'زمین ملنا' کی اصطلاح شاعری میں 'دو شعرا کے ایک ہی بحر، قافیہ اور ردیف میں شعر کہنے' کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو پہلے بھی اسی نصاب میں 'زمین' کی اصطلاح کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکی ہے۔ یہ روایت مشاعروں میں عام تھی، جہاں شعرا ایک دوسرے کی زمین میں طبع آزمائی کرتے اور اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کرتے تھے۔
'مشاعرہ' اس محفل کو کہتے ہیں جہاں 'شعرا کا اجتماع ہو اور وہ اپنا کلام سناتے ہیں'، جو اردو ادب کی سب سے مقبول اور زندہ روایات میں سے ایک ہے۔ مشاعرے میں شعرا اپنی نئی یا پرانی غزلیں اور نظمیں پیش کرتے ہیں، اور سامعین اچھے اشعار پر 'داد' دیتے ہیں۔ یہ روایت آج بھی برصغیر اور بیرونِ ملک اردو بولنے والوں میں زندہ ہے۔
No Comments