مثنوی عموماً 'طویل داستانوی یا قصے کی نظم' کے لیے استعمال ہوتی ہے، کیونکہ ہر شعر کا الگ قافیہ ہونے کی وجہ سے شاعر کسی طویل کہانی یا فلسفیانہ خیال کو آسانی سے بیان کر سکتا ہے، بغیر ایک ہی قافیے کی پابندی کے تنگی محسوس کیے۔ اقبال کی فارسی مثنویاں، جیسے اسرارِ خودی اور رموزِ بیخودی، اسی صنف کی مشہور مثالیں ہیں جو پہلے اسی نصاب میں بھی زیرِ بحث آ چکی ہیں۔
چھ مصرعوں کے بند پر مشتمل نظم کو 'مسدس' کہتے ہیں، جس کی سب سے مشہور مثال الطاف حسین حالی کی 'مسدسِ حالی' ہے، جو مسلمانوں کے عروج و زوال کے موضوع پر لکھی گئی۔ مسدس کے ہر بند میں چھ مصرعے ہوتے ہیں، جو مسمط کی صنف کی ایک قسم ہیں۔ یہ صنف طویل اصلاحی و فکری موضوعات بیان کرنے کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔
پانچ مصرعوں کے بند پر مشتمل نظم کو 'مخمس' کہتے ہیں، جو مسدس (چھ مصرعے) اور مربع (چار مصرعے) سے مختلف بند کی ساخت رکھتی ہے۔ مخمس کی صنف مسمط کی مختلف اقسام میں سے ایک ہے، جن میں ہر بند کے مصرعوں کی تعداد کے مطابق الگ الگ نام دیے جاتے ہیں۔ یہ اصطلاحات یاد رکھنا اردو شاعری کی ہیئتوں سے متعلق امتحانی سوالات کے لیے ضروری ہے۔
چار مصرعوں کے بند پر مشتمل نظم کو 'مربع' کہتے ہیں، جو مخمس (پانچ مصرعے) اور مسدس (چھ مصرعے) سے مختلف بند کی ساخت رکھتی ہے۔ یہ تمام اصناف، یعنی مربع، مخمس اور مسدس، 'مسمط' کی صنف کے تحت آتی ہیں، جہاں ہر بند میں چند مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور آخری مصرعہ اگلے بند کے ساتھ ایک مشترکہ قافیہ رکھتا ہے۔
الطاف حسین حالی کی مشہور 'مسدس' چھ مصرعوں کے بند پر مبنی صنف ہے، جیسا کہ لفظ 'مسدس' سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ مسدسِ حالی مسلمانوں کے عروج و زوال کے موضوع پر لکھی گئی اور اسے اردو کی سب سے بااثر اصلاحی نظموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ نظم پہلے بھی اسی نصاب کے نثر نگاروں والے حصے میں الطاف حسین حالی کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکی ہے۔
شاعر کے قلمی نام کو 'تخلص' کہتے ہیں، جو اردو شاعری کی روایت میں ایک اہم عنصر ہے کیونکہ شاعر اپنے اصل نام کی بجائے اپنے تخلص سے پہچانا جاتا ہے، جیسے غالب، اقبال یا فیض۔ تخلص عموماً غزل کے مقطع میں استعمال ہوتا ہے، جو شعر میں شاعر کی شناخت کو محفوظ کرنے کا کلاسیکی طریقہ ہے۔ اس نصاب میں کئی شعرا کے اصل نام اور تخلص کا فرق پہلے بھی زیرِ بحث آ چکا ہے۔
شاعر کے کلام کے اس مجموعے کو جس میں غزلیں حروف تہجی کی ترتیب سے ہوں، 'دیوان' کہتے ہیں۔ اردو اور فارسی دونوں شاعری کی روایت میں دیوان کی ترتیب عموماً غزل کے آخری حرف (قافیے کے حرف) کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ دیوانِ غالب اسی طرز پر مرتب کیا گیا ہے، جو مرزا غالب کے اردو کلام کا مجموعہ ہے۔
شاعر کے تمام کلام کے مکمل مجموعے کو 'کلیات' کہتے ہیں، جس میں شاعر کی تمام اصناف سخن، جیسے غزل، نظم، رباعی وغیرہ، شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس 'دیوان' عموماً صرف غزلوں کے مجموعے کو کہتے ہیں۔ 'کلیاتِ میر' میر تقی میر کے مکمل کلام کا مجموعہ ہے، جس کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
کسی چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دینے کے فن کو 'تشبیہ' کہتے ہیں، جو شاعری کی سب سے بنیادی اور عام صنعت ہے، جیسے 'اس کا چہرہ چاند جیسا ہے'۔ تشبیہ میں دونوں چیزوں، یعنی مشبہ اور مشبہ بہ، کا واضح ذکر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس 'استعارہ' میں مشابہت کی بنا پر براہِ راست دوسرے کا نام استعمال کیا جاتا ہے، بغیر واضح موازنے کے۔
کسی چیز کے لیے مشابہت کی بنا پر دوسرے کا نام استعمال کرنے کو 'استعارہ' کہتے ہیں، جیسے کسی کو براہِ راست 'چاند' کہہ دینا، بغیر یہ کہے کہ وہ چاند 'جیسا' ہے۔ استعارہ تشبیہ سے زیادہ گہرا اور فنی طور پر پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں موازنہ ظاہر نہیں بلکہ مضمر ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں استعارے کا خوبصورت استعمال شاعر کی فنی مہارت کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
No Comments