مرثیہ نگاری میں 'میر انیس اور مرزا دبیر' دو شعرا خاص طور پر مشہور ہیں، جو لکھنؤ کے ہم عصر تھے اور جن کا فنی مقابلہ اردو ادب کی تاریخ کا ایک مشہور باب ہے۔ دونوں شعرا نے کربلا کے واقعے کو اپنی مرثیوں میں غیر معمولی فنی مہارت سے بیان کیا۔ یہ دونوں شعرا پہلے بھی اسی نصاب میں تفصیل سے زیرِ بحث آ چکے ہیں۔
'قصیدہ' کسی کی مدح یا ہجو میں لکھا جاتا ہے، یعنی یہ کسی شخصیت، خصوصاً بادشاہ یا سرپرست، کی تعریف یا مذمت کے لیے استعمال ہونے والی صنف سخن ہے۔ قصیدہ کلاسیکی دور میں درباری شاعری کی اہم صنف رہی، جس کے ذریعے شعرا اپنے سرپرستوں کی سخاوت اور شان بیان کرتے تھے۔ مرزا محمد رفیع سودا اس صنف کے سب سے بڑے استاد سمجھے جاتے ہیں، جن کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
کسی کی مذمت یا برائی میں لکھی گئی شاعری کو 'ہجو' کہتے ہیں، جو مدح کا بالکل متضاد تصور ہے۔ ہجو میں شاعر طنزیہ اور تحقیر آمیز انداز میں کسی شخص کی خامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ قصیدہ کی صنف مدح اور ہجو دونوں کو شامل کرتی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ صنف تعریف اور تنقید دونوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
کسی کی تعریف میں لکھی گئی شاعری کو 'مدح' کہتے ہیں، جو ہجو کا بالکل متضاد تصور ہے۔ مدحیہ شاعری میں شاعر کسی شخصیت کی خوبیوں، سخاوت یا کارناموں کو نمایاں کرتا ہے۔ مدح کی صنف قصیدے کا بنیادی مقصد ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ کی مدح کو خاص طور پر 'نعت' کا نام دیا جاتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ کی تعریف میں لکھی گئی شاعری کو 'نعت' کہتے ہیں، جو اردو شاعری کی ایک نہایت محبوب اور مقدس صنف ہے۔ نعت گوئی کی روایت میں کئی بڑے شعرا نے حصہ لیا، اور یہ صنف آج بھی مذہبی محافل اور تقریبات میں مقبول ہے۔ نعت کو حمد (اللہ کی تعریف) اور منقبت (اہل بیت و بزرگانِ دین کی تعریف) سے الگ اور مخصوص سمجھا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تعریف میں لکھی گئی شاعری کو 'حمد' کہتے ہیں، جو اردو شاعری کی سب سے مقدس صنف سمجھی جاتی ہے۔ حمد عموماً کسی بھی شعری مجموعے یا مشاعرے کے آغاز میں پڑھی جاتی ہے، جو اللہ کی وحدانیت اور عظمت بیان کرتی ہے۔ حمد، نعت اور منقبت مل کر اردو کی مذہبی شاعری کی تین بنیادی اصناف بناتی ہیں۔
بزرگانِ دین یا اہل بیت کی تعریف میں لکھی گئی شاعری کو 'منقبت' کہتے ہیں، جو حمد اور نعت سے الگ ایک اور مذہبی صنف سخن ہے۔ منقبت خاص طور پر صوفی بزرگوں یا اہل بیت رسول کی شان میں لکھی جاتی ہے، اور یہ صوفیانہ محافل میں بھی گائی جاتی ہے۔ حمد، نعت اور منقبت کی صحیح تفریق اردو مذہبی شاعری سے متعلق امتحانی سوالات میں بار بار آزمائی جاتی ہے۔
'دوہا' کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ 'دو مصرعوں پر مشتمل مختصر صنف سخن ہے جو عموماً حکمت پر مبنی ہوتی ہے'۔ دوہا ہندی و اردو دونوں شاعری کی روایت میں مشترک صنف ہے اور اس میں مختصر مگر گہری زندگی کی حکمت بیان کی جاتی ہے۔ دوہا کی صنف 'دوبیتی' سے قریبی تعلق رکھتی ہے، جو فارسی رباعی سے ملتی جلتی ہے، جیسا کہ اسی نصاب میں آگے بھی زیرِ بحث آئے گا۔
'رباعی' چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو ایک مخصوص وزن اور قافیے کے نظام کی پابند صنف سخن ہے۔ رباعی میں عموماً پہلے، دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ ہوتا ہے، جبکہ تیسرا مصرعہ آزاد ہو سکتا ہے۔ عمر خیام کی فارسی رباعیات اس صنف کی سب سے مشہور کلاسیکی مثال سمجھی جاتی ہیں، اور اردو شعرا نے بھی اسی صنف میں طبع آزمائی کی۔
'مثنوی' کی خاص بات یہ ہے کہ 'ہر شعر کے دونوں مصرعوں کا اپنا الگ قافیہ ہوتا ہے'، یعنی ہر شعر کا اپنا مخصوص قافیہ ہوتا ہے جو اگلے شعر سے مختلف ہو سکتا ہے، برخلاف غزل کے جہاں پورا کلام ایک ہی قافیے کی پابندی کرتا ہے۔ یہ خصوصیت مثنوی کو طویل داستانوی یا قصے کی نظموں کے لیے موزوں بناتی ہے۔ اقبال کی 'اسرارِ خودی' اسی مثنوی کی صنف میں لکھی گئی ہے۔
No Comments