urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 80 (Q791-800)

Urdu MCQs

791‘علی پور کا ایلی’ ناول کس نوعیت کی تحریر ہے؟
Explanation

'علی پور کا ایلی' ناول 'سوانحی و نفسیاتی ناول' کی نوعیت کی تحریر ہے، جو ممتاز مفتی کی زندگی کے تجربات پر مبنی ہے۔ یہ ناول اپنی نفسیاتی گہرائی اور بےباک اسلوب کی وجہ سے اردو ادب میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ سوانحی و نفسیاتی ناول کی یہ صنف اردو کے دیگر مقبول ناولی اصناف، جیسے تاریخی و جاسوسی ناول، سے الگ اور زیادہ اندرونی و فکری نوعیت کی ہے۔

792اردو ناول نگاری کا باقاعدہ آغاز کس صدی میں ہوا؟
Explanation

اردو ناول نگاری کا باقاعدہ آغاز 'انیسویں صدی' میں ہوا، خاص طور پر ڈپٹی نذیر احمد کے ناول 'مراۃ العروس' کے ساتھ، جسے اردو کا پہلا باقاعدہ ناول سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد رتن ناتھ سرشار، مرزا ہادی رسوا اور دیگر ادیبوں نے اس صنف کو مزید ترقی دی۔ انیسویں صدی برصغیر میں اردو نثر کی جدید صنفوں، جیسے ناول اور صحافت، کی ابتدا کا دور سمجھی جاتی ہے۔

793اردو افسانہ نگاری میں ‘ترقی پسند تحریک’ کا آغاز کس دہائی میں ہوا؟
Explanation

اردو افسانہ نگاری میں 'ترقی پسند تحریک' کا آغاز '1930 کی دہائی' میں ہوا، جس نے ادب کو سماجی و طبقاتی مسائل سے جوڑا۔ اس تحریک سے منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور کرشن چندر جیسے بڑے ادیب وابستہ رہے۔ ترقی پسند تحریک نے اردو افسانے کی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا اور اسے سماجی حقیقت نگاری کی طرف موڑا۔

794‘حلقہ ارباب ذوق’ کس نوعیت کی ادبی تنظیم تھی؟
Explanation

'حلقہ ارباب ذوق' ایک 'ادیبوں اور شاعروں کی ادبی تنظیم' تھی، جو ترقی پسند تحریک کے متبادل جمالیاتی و فنی نقطہ نظر کے ساتھ قائم ہوئی۔ اس تنظیم نے ادب کو خالصتاً سیاسی و سماجی مقاصد کی بجائے فنی و جمالیاتی معیار پر پرکھنے پر زور دیا۔ میراجی اور ن م راشد جیسے جدید نظم کے شاعر اسی تنظیم سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

795میراجی اور ن م راشد کس ادبی تنظیم سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں؟
Explanation

میراجی اور ن م راشد 'حلقہ ارباب ذوق' سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں، جو لاہور میں 1939 میں قائم ہونے والی ایک اہم ادبی تنظیم تھی۔ یہ تنظیم ترقی پسند تحریک کے مقابلے میں فنی و جمالیاتی نقطہ نظر کی نمائندگی کرتی تھی۔ حلقہ ارباب ذوق نے جدید اردو نظم اور آزاد نظم کی صنف کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

796منشی پریم چند نے ابتدا میں کس تخلص سے لکھنا شروع کیا؟
Explanation

منشی پریم چند نے ابتدا میں 'نواب رائے' کے تخلص سے لکھنا شروع کیا، بعد میں انگریزی حکومت کی طرف سے ان کی کتاب پر پابندی کے بعد انہوں نے 'پریم چند' کا نام اختیار کیا۔ یہ نام کی تبدیلی ان کی ابتدائی تحریروں کی سیاسی حساسیت کی عکاسی کرتی ہے۔ پریم چند کا یہ سفر، نواب رائے سے پریم چند تک، ان کی ادبی زندگی کے ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔

797‘سیوا سدن’ ناول پہلے کس زبان میں لکھا گیا اور بعد میں اردو میں ترجمہ ہوا؟
Explanation

'سیوا سدن' ناول پہلے 'ہندی' زبان میں لکھا گیا اور بعد میں اردو میں ترجمہ ہوا، جو منشی پریم چند کی دو زبانی ادبی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ پریم چند اکثر اپنی تخلیقات دونوں زبانوں میں لکھتے یا ترجمہ کرتے تھے، جس نے انہیں اردو اور ہندی دونوں ادب کا مشترکہ اثاثہ بنایا۔ یہ دو زبانی روایت پریم چند کے دور کے مخصوص لسانی و سماجی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔

798عصمت چغتائی کا شمار کن جرات مندانہ موضوعات پر لکھنے والی ادیبات میں ہوتا ہے؟
Explanation

عصمت چغتائی کا شمار 'نسوانی نفسیات اور سماجی مسائل' پر جرات مندانہ موضوعات پر لکھنے والی ادیبات میں ہوتا ہے، جیسا کہ ان کے افسانے 'لحاف' اور ناول 'ٹیڑھی لکیر' سے ظاہر ہوتا ہے۔ عصمت چغتائی نے اپنی تحریروں میں روایتی سماجی پابندیوں پر بےباکی سے سوال اٹھایا۔ یہ جرات مندی انہیں ترقی پسند تحریک کی سب سے نمایاں خواتین ادیبات میں شامل کرتی ہے۔

799سعادت حسن منٹو پر فحش نگاری کے الزام میں کل کتنی بار مقدمے چلائے گئے؟
Explanation

سعادت حسن منٹو پر فحش نگاری کے الزام میں کل '6 بار' مقدمے چلائے گئے، تین برطانوی ہندوستان میں اور تین آزاد پاکستان میں۔ یہ مقدمے ان کے افسانوں، جیسے 'کھول دو' اور 'ٹھنڈا گوشت'، کی بےباک موضوعات کی وجہ سے چلائے گئے۔ منٹو پر یہ مسلسل قانونی دباؤ ان کی زندگی کی مشکلات میں سے ایک اہم پہلو تھا، مگر اس نے ان کی تحریری بےباکی کو کبھی کم نہیں کیا۔

800Krishan Chander’s novel ‘Ghaddar’ deals mainly with which historical event?
Explanation

کرشن چندر کے ناول 'غدار' کا مرکزی موضوع 'تقسیم ہند' ہے، جس میں انہوں نے تقسیم کے وقت پیش آنے والے فسادات اور انسانی المیے کو بیان کیا۔ کرشن چندر ترقی پسند تحریک کے اہم افسانہ نگار تھے، جن کی تحریریں سماجی مسائل اور تاریخی واقعات کے امتزاج کے لیے مشہور ہیں۔ تقسیم ہند اردو ادب کا ایک بار بار دہرایا جانے والا موضوع ہے، جیسا کہ منٹو اور خدیجہ مستور کی تحریروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.