urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 79 (Q781-790)

Urdu MCQs

781‘گوداوری’ ناول کس ادیبہ کی تخلیق ہے؟
Explanation

'گوداوری' ناول 'فہمیدہ ریاض' کی تخلیق ہے، جو خود ایک مشہور شاعرہ اور نثر نگار تھیں۔ فہمیدہ ریاض اپنی جرات مندانہ اور بےباک نسائی شاعری کے ساتھ ساتھ نثری تخلیقات کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کا کام سماجی و سیاسی موضوعات پر گہری بصیرت رکھتا ہے، جو انہیں جدید اردو ادب کی نمایاں خواتین قلمکاروں میں شامل کرتا ہے۔

782احمد ندیم قاسمی کس مشہور ادبی جریدے کے مدیر رہے؟
Explanation

احمد ندیم قاسمی 'فنون' نامی مشہور ادبی جریدے کے مدیر رہے، جو جدید اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والا رسالہ سمجھا جاتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے کئی نئے ادیبوں اور شعرا کو اس جریدے کے ذریعے متعارف کروایا۔ فنون جیسے ادبی جرائد نے بیسویں صدی میں اردو ادب کی نشوونما میں مرکزی حیثیت رکھی۔

783احمد ندیم قاسمی بنیادی طور پر کن دو اصناف کے لیے مشہور ہیں؟
Explanation

احمد ندیم قاسمی بنیادی طور پر 'افسانہ اور شاعری' دونوں اصناف کے لیے مشہور ہیں، جو انہیں اردو ادب کی نایاب ہمہ جہت شخصیات میں شامل کرتا ہے۔ ان کے افسانے دیہی زندگی اور سماجی مسائل کی حقیقت پسندانہ عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ان کی شاعری میں گہرے انسانی جذبات جھلکتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کی ادارت میں چلنے والا 'فنون' جریدہ بھی اردو ادب کی خدمت کا ایک اور پہلو ہے۔

784وزیر آغا کس ادبی جریدے کے مدیر تھے؟
Explanation

وزیر آغا 'اوراق' نامی ادبی جریدے کے مدیر تھے، جو اردو تنقید اور ادبی مباحث کے لیے مشہور رسالہ سمجھا جاتا ہے۔ وزیر آغا اپنی تنقیدی بصیرت اور ادبی نظریہ سازی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ادارت میں اوراق جریدے نے کئی اہم تنقیدی مباحث کو فروغ دیا۔

785وزیر آغا بنیادی طور پر کس صنف ادب کے لیے مشہور ہیں؟
Explanation

وزیر آغا بنیادی طور پر 'تنقید نگاری' کی صنف ادب کے لیے مشہور ہیں، جنہوں نے اردو تنقید کو نئے نظریاتی زاویے دیے۔ ان کی تنقیدی تحریریں مغربی ادبی نظریات اور مشرقی روایت کے امتزاج کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیر آغا کی ادارت میں چلنے والا رسالہ 'اوراق' بھی ان کی تنقیدی فکر کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ رہا۔

786مولانا ظفر علی خان نے کون سا مشہور اخبار جاری کیا؟
Explanation

مولانا ظفر علی خان نے 'زمیندار' نامی مشہور اخبار جاری کیا، جو برصغیر کی آزادی کی تحریک میں سیاسی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ زمیندار اردو صحافت کی تاریخ کے سب سے بااثر اخبارات میں شمار ہوتا ہے۔ مولانا ظفر علی خان خود بھی ایک شاعر اور نڈر صحافی تھے، جنہوں نے صحافت کو سیاسی جدوجہد کا ہتھیار بنایا۔

787شورش کاشمیری کس مشہور رسالے کے مدیر تھے؟
Explanation

شورش کاشمیری 'چٹان' نامی مشہور رسالے کے مدیر تھے، جو اپنے دلیرانہ اور بےباک صحافتی اسلوب کے لیے جانا جاتا تھا۔ شورش کاشمیری خود بھی ایک بےباک اور نڈر صحافی و مقرر تھے، جنہوں نے اپنی تحریروں سے سیاسی و سماجی مسائل پر کھل کر بات کی۔ چٹان جیسے رسالے اردو صحافت کی جرات مندانہ روایت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

788‘دستک نہ دو’ ڈرامہ کس ادیب کی تخلیق ہے؟
Explanation

'دستک نہ دو' ڈرامہ 'مرزا ادیب' کی تخلیق ہے، جو اردو ڈرامہ نگاری کی اہم تصانیف میں شمار ہوتا ہے۔ مرزا ادیب کی ڈرامہ نگاری ان کی افسانہ نگاری کی طرح ہی سماجی موضوعات اور انسانی جذبات کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ اردو ڈرامہ نگاری کی صنف افسانہ اور ناول کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ رہی، جس میں مرزا ادیب جیسے ادیبوں نے اہم کردار ادا کیا۔

789‘خاک اور خون’ اور ‘آخری چٹان’ ناول کس ادیب کی تخلیقات ہیں؟
Explanation

'خاک اور خون' اور 'آخری چٹان' ناول 'نسیم حجازی' کی تخلیقات ہیں، جو ان کے تاریخی و اسلامی ناولوں کی روایت کا حصہ ہیں۔ یہ ناول بھی 'محمد بن قاسم' کی طرح مسلم تاریخ کے اہم واقعات کو ادبی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ نسیم حجازی کے یہ ناول پاکستانی نوجوانوں میں تاریخی و مذہبی شعور بیدار کرنے کے مقصد سے لکھے گئے۔

790‘لبیک’ ناول کس ادیب کی تصنیف ہے؟
Explanation

'لبیک' ناول 'ممتاز مفتی' کی تصنیف ہے، جو حج کے روحانی سفر اور تجربے پر مبنی ایک منفرد ادبی تخلیق ہے۔ یہ ناول ممتاز مفتی کے اپنے حج کے تجربے سے متاثر ہو کر لکھا گیا اور اس میں روحانیت اور نفسیات کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ لبیک ممتاز مفتی کے دیگر کاموں، جیسے 'علی پور کا ایلی'، سے مختلف مگر اتنا ہی گہرا فکری تجربہ پیش کرتا ہے۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.