'کوششیں' لفظ کوشش کی درست جمع ہے، جو حرفِ صحیح پر ختم ہونے والا مؤنث اسم ہونے کی وجہ سے '-یں' لیتا ہے۔ کوشش فارسی الاصل لفظ ہے جو محنت اور استقامت پر زور دینے والی اردو نصیحت آمیز عبارتوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ضرب المثل 'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے' صبر پر زور دیتی ہے۔ کوشش کو مؤنث اور حرفِ صحیح پر ختم ہونے والا اسم پہچاننا فوراً '-یں' کے قاعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
'غلطیاں' لفظ غلطی کی درست جمع ہے، جو '-ی' سے '-یاں' والے مؤنث قاعدے کے مطابق بنتی ہے، بیٹی اور مچھلی کی طرح۔ غلطی روزمرہ اردو کا نہایت عام تجریدی اسم ہے، جیسے غلطی کرنا اور غلطی ماننا۔ چونکہ یہ '-ی' پر ختم ہوتا ہے، اس لیے غلطی قابلِ اعتماد طور پر اردو کے مؤنث تجریدی اسموں کے بڑے زمرے کے قاعدے کی پیروی کرتا ہے۔
'سچائیاں' لفظ سچائی کی درست جمع ہے، جو '-ی' سے '-یاں' والے قاعدے پر عمل کرتی ہے اور جڑ لفظ سچ سے تجریدی لاحقہ '-ائی' لگا کر بنائی گئی ہے، بالکل بھلائی اور اچھائی کی طرح۔ یہ '-ائی' لاحقہ اردو کے سب سے پیداواری طریقوں میں سے ایک ہے جس سے صفت کو اسم مصدر میں بدلا جاتا ہے، جیسے پہلے لکھائی کی مثال میں دیکھا گیا۔ سچائی کو اکثر جھوٹ کے ساتھ اخلاقی اور ادبی ذخیرہ الفاظ کے سوالات میں مقابل رکھا جاتا ہے۔
'اچھائیاں' لفظ اچھائی کی درست جمع ہے، جو '-ی' سے '-یاں' والے قاعدے پر عمل کرتی ہے اور صفت اچھا سے '-ائی' لاحقہ لگا کر بنائی گئی ہے۔ اچھائی کو اکثر اس کے متضاد برائی کے ساتھ اخلاقی سوالات میں ملایا جاتا ہے، جیسے کسی شخص یا عمل کی اچھائیاں اور برائیاں تولنا۔ یہ '-ائی' لاحقہ کا پیداواری قاعدہ پہچاننا اردو کے کئی متعلقہ تجریدی اسموں اور ان کی جمع کو یکجا سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
'برائیاں' لفظ برائی کی درست جمع ہے، جو اپنے متضاد اچھائی کی طرح '-ی' سے '-یاں' والے مؤنث قاعدے پر عمل کرتی ہے۔ برائی صفت برا سے '-ائی' لاحقہ لگا کر بنایا گیا ہے اور اکثر نیکی و بدی کے موضوع پر اردو کی سماجی و مذہبی تحریروں میں آتا ہے۔ یہ پیداواری '-ائی' لاحقے کا قاعدہ پہچاننا متعلقہ تجریدی اسموں کے پورے خاندان اور ان کی جمع کو ایک ساتھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
'خوبیاں' لفظ خوبی کی درست جمع ہے، جو '-ی' سے '-یاں' والے مؤنث قاعدے پر عمل کرتی ہے اور فارسی جڑ خوب (اچھا، عمدہ) سے نکلا ہے۔ خوبی کو اکثر خامی کے ساتھ ملا کر کسی شخص کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے والی اردو تحریروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ خوبی '-ی' پر ختم ہوتا ہے، اس لیے یہ خودبخود اردو کے سب سے پیداواری مؤنث جمع کے زمرے، یعنی کہانی اور غلطی جیسے الفاظ کے ساتھ آتا ہے۔
'کمزوریاں' لفظ کمزوری کی درست جمع ہے، جو '-ی' سے '-یاں' والے مؤنث قاعدے پر عمل کرتی ہے اور صفت کمزور سے '-ی' لاحقہ لگا کر بنایا گیا ہے۔ کمزوری کو اکثر اس کے متضاد طاقت کے ساتھ اردو کے اضداد پر مبنی ذخیرہ الفاظ کے سوالات میں آزمایا جاتا ہے۔ خوبیاں اور کمزوریاں جیسی ترکیب روزمرہ اور رسمی دونوں اردو تحریروں میں کسی کی شخصیت جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
'دوائیں' لفظ دوا کی بے قاعدہ جمع ہے، جس میں آخری بے صدا الف کے بعد سیدھا '-یں' لگانے کی بجائے 'ئیں' شامل کیا جاتا ہے، بالکل گائے سے گائیں اور دعا سے دعائیں کی طرح۔ دوا فارسی الاصل لفظ ہے جو صحت سے متعلق اردو ذخیرہ الفاظ کا مرکزی حصہ ہے اور اکثر علاج اور مرض کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ بے صدا الف پر ختم ہونے والے اسم اکثر سادہ '-یں' کی بجائے یہی 'ئیں' والی بے قاعدگی دکھاتے ہیں۔
'دعائیں' لفظ دعا کی جمع ہے، جو دوا اور ہوا کی طرح الف پر ختم ہونے والی بے قاعدہ صورت اپناتی ہے۔ دعا کو اردو بولنے والے مسلم معاشرے میں گہری مذہبی اہمیت حاصل ہے، جیسے دعا مانگنا اور دعائیں دینا جیسی تراکیب میں۔ چونکہ دعا بے صدا الف پر ختم ہوتا ہے، اس لیے یہ رات جیسے حرفِ صحیح والے الفاظ کے سادہ '-یں' قاعدے کی بجائے 'ئیں' شامل کرنے والا استثنائی قاعدہ اپناتا ہے۔
'ہوائیں' لفظ ہوا کی جمع ہے، جو دوا اور دعا کی طرح ہی بے قاعدہ الف پر ختم ہونے والا قاعدہ اپناتی ہے، جہاں سادہ '-یں' کی بجائے 'ئیں' شامل کیا جاتا ہے۔ ہوا چار کلاسیکی عناصر یعنی آب، آتش، خاک اور ہوا میں سے ایک ہے، جو اردو شاعری اور فطرت سے متعلق ذخیرہ الفاظ میں کثرت سے آتا ہے۔ دوا، دعا اور ہوا کا یہ مشترکہ بے قاعدہ قاعدہ اکٹھے یاد رکھنا مفید ہے۔
No Comments