ضرب المثل 'اندھوں میں کانا راجا' کا مطلب یہ ہے کہ 'نااہلوں میں معمولی قابلیت والا بھی سردار بن جاتا ہے'، یعنی جہاں سب لوگ نااہل یا کمزور ہوں، وہاں ذرا سی بھی صلاحیت رکھنے والا شخص نمایاں اور رہنما بن جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اندھوں کے درمیان ایک آنکھ والا (کانا) شخص بھی بادشاہ سمجھا جائے۔ یہ ضرب المثل ایسے حالات پر طنز کرتی ہے جہاں معیار انتہائی پست ہو۔ یہ اردو کی سماجی و سیاسی تنقید میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'جس کی لاٹھی اسی کی بھینس' کا مطلب یہ ہے کہ 'طاقتور کی بات چلتی ہے'، یعنی جس کے پاس طاقت یا اختیار ہو، وہی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، چاہے حق پر ہو یا نہ ہو۔ یہ ضرب المثل معاشرے میں طاقت کے غلط استعمال اور کمزوروں کی ناانصافی پر طنز کرتی ہے۔ یہ محاورہ 'لاٹھی کے زور پر' جیسے فقرے سے بھی قریبی تعلق رکھتا ہے، جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
ضرب المثل 'ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا' کا مطلب یہ ہے کہ 'اپنی نااہلی کا الزام دوسروں پر ڈالنا'، یعنی جب کسی کام میں ناکامی ہو تو اپنی کمزوری تسلیم کرنے کی بجائے حالات یا دوسروں کو قصوروار ٹھہرانا، بالکل اسی طرح جیسے ناچ نہ آنے والا شخص یہ کہے کہ آنگن ہی ٹیڑھا ہے۔ یہ ضرب المثل بہانے بازی اور ذمہ داری سے بچنے کے رویے پر طنز کرتی ہے۔
ضرب المثل 'اندھیر نگری چوپٹ راجا' کا مطلب یہ ہے کہ 'جہاں انصاف نہ ہو ایسی بدانتظامی' ہے، یعنی ایسا نظامِ حکومت جہاں قانون اور انصاف کا کوئی وجود نہ ہو اور ہر طرف بدنظمی اور بدعنوانی کا راج ہو۔ یہ ضرب المثل بری حکمرانی اور نااہل قیادت پر شدید طنز کرتی ہے۔ یہ سیاسی و سماجی تنقید کی تحریروں میں بدانتظامی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'اک انار سو بیمار' کا مطلب یہ ہے کہ 'ایک چیز کے بہت زیادہ طلبگار ہونا'، یعنی جب کوئی چیز محدود ہو مگر اس کی خواہش رکھنے والے بہت زیادہ ہوں، تو مقابلہ اور کشمکش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ضرب المثل ایک انار (جو ایک ہی شخص کو مل سکتا ہے) اور سو بیماروں (جو سب اسے چاہتے ہیں) کے استعارے پر مبنی ہے۔ یہ ضرب المثل محدود وسائل پر شدید مقابلے کی صورتحال کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'ایک بار نقصان اٹھانے والا ہمیشہ محتاط رہتا ہے'، یعنی جو شخص کسی تجربے سے سخت نقصان اٹھا چکا ہو، وہ آئندہ ہر معاملے میں انتہائی احتیاط برتتا ہے، چاہے خطرہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ انگریزی محاورے 'once bitten, twice shy' سے ملتا جلتا تصور ہے۔ یہ ضرب المثل تجربے سے سیکھی گئی احتیاط کی نصیحت کرتی ہے۔
ضرب المثل 'جیسی کرنی ویسی بھرنی' کا مطلب یہ ہے کہ 'جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے'، یعنی انسان کے اعمال کا نتیجہ لازمی طور پر اسے بھگتنا پڑتا ہے، خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ یہ ضرب المثل عملِ صالح اور اس کے نتیجے کے تعلق پر مبنی اخلاقی و مذہبی اصول بیان کرتی ہے۔ یہ ضرب المثل 'بوئے پیڑ ببول کے تو آم کہاں سے ہوئے' جیسی دیگر ضرب الامثال سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'جہاں چاہ وہاں راہ' کا مطلب یہ ہے کہ 'ارادہ مضبوط ہو تو راستہ مل ہی جاتا ہے'، یعنی اگر انسان کسی مقصد کے حصول کا پختہ عزم رکھے تو مشکلات کے باوجود کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے۔ یہ ضرب المثل ہمت اور عزم کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو ضرب المثل 'ہمت مرداں مدد خدا' کے پیغام سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے۔ یہ انگریزی محاورے 'where there's a will, there's a way' سے ملتا جلتا ہے۔
ضرب المثل 'آدھا تیتر آدھا بٹیر' کا مطلب یہ ہے کہ 'نہ پوری طرح ایک چیز نہ دوسری، ملی جلی حالت'، یعنی ایسی صورتحال یا چیز جو دو مختلف چیزوں کا نامکمل ملاپ ہو اور نہ خالص ایک ہو نہ دوسری۔ یہ ضرب المثل دو پرندوں، تیتر اور بٹیر، کے استعارے سے ماخوذ ہے۔ یہ ضرب المثل ایسی نامکمل یا التباس والی حالتوں پر تبصرے کے لیے استعمال ہوتی ہے، خاص طور پر ثقافتی یا نظریاتی ملاوٹ کے تناظر میں۔
ضرب المثل 'اونٹ کے منہ میں زیرہ' کا مطلب یہ ہے کہ 'ضرورت کے مقابلے میں بہت کم مقدار'، یعنی جب کسی بڑی ضرورت کے لیے دی جانے والی چیز اتنی کم ہو کہ وہ اس کی حقیقی حاجت پوری نہ کر سکے، بالکل اسی طرح جیسے بڑے جسم والے اونٹ کے لیے زیرے کی معمولی مقدار کچھ بھی نہ ہو۔ یہ ضرب المثل ناکافی وسائل یا امداد پر تبصرے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
No Comments