محاورہ 'خاک چھاننا' کا مطلب 'بہت تلاش کرنا یا دربدر بھٹکنا' ہے، یعنی کسی چیز یا مقصد کی تلاش میں جگہ جگہ خوار ہونا، بالکل اسی طرح جیسے مٹی کو چھان چھان کر کوئی چیز ڈھونڈی جائے۔ یہ محاورہ طویل اور مشکل تلاش یا جدوجہد کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ یہ محاورہ اکثر روزگار یا کسی گمشدہ چیز کی تلاش کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'دل پر پتھر رکھنا' کا مطلب 'صبر کرنا' ہے، یعنی کسی سخت دکھ یا تکلیف کے باوجود اپنے جذبات کو دبا کر ظاہری طور پر مضبوط رہنا۔ یہ محاورہ ضبطِ نفس اور برداشت کی اعلیٰ صورت بیان کرتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں غم کا اظہار کرنا مناسب نہ ہو۔ صبر سے متعلق ضرب المثل 'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے' بھی اسی موضوع سے جڑی ہوئی ہے۔
محاورہ 'سینہ زوری کرنا' کا مطلب 'زبردستی کرنا' ہے، یعنی طاقت یا دباؤ کے ذریعے اپنی بات منوانا، چاہے دوسرا فریق راضی ہو یا نہ ہو۔ یہ محاورہ ناانصافی اور جبر کے رویے پر تنقید کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ضرب المثل 'ایک تو چور اوپر سے سینہ زوری' اسی محاورے سے ماخوذ ہے، جو غلطی کے باوجود بے شرمی سے اکڑنے پر طنز کرتی ہے۔
محاورہ 'ماتھا ٹھنکنا' کا مطلب یہ ہے کہ 'پہلے سے خطرے یا شک کا احساس ہونا'، یعنی کسی بری بات کے پیش آنے سے پہلے ہی دل میں ایک اندیشہ یا خدشہ پیدا ہو جانا۔ یہ محاورہ ذہنی حس یا پیش گوئی کی کیفیت بیان کرتا ہے، جو اکثر منفی واقعات سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔ یہ محاورہ اردو کہانیوں اور ناولوں میں کسی آنے والی مصیبت کے اشارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'نمک حلال کرنا' کا مطلب 'وفاداری نبھانا' ہے، یعنی جس کا احسان یا روزی کھائی ہو اس کے ساتھ ایمانداری اور وفاداری سے پیش آنا۔ یہ محاورہ 'نمک' کو وفاداری کی علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے، جو مشرقی ثقافتوں میں احسان مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا بالکل متضاد محاورہ 'نمک حرام ہونا' ہے، جس کا مطلب بے وفا ہونا ہے۔
محاورہ 'نمک حرام ہونا' کا مطلب 'بے وفا ہونا' ہے، یعنی جس کا احسان یا روزی کھائی ہو اس کے ساتھ دھوکہ یا بے وفائی کرنا۔ یہ محاورہ پہلے آئے محاورے 'نمک حلال کرنا' کا بالکل متضاد ہے، اور نمک کو یہاں بھی احسان مندی اور وفاداری کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ محاورہ خاص طور پر ایسے لوگوں پر تنقید کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے محسنوں سے غداری کرتے ہیں۔
محاورہ 'ہاتھ باندھنا' کا مطلب 'عاجزی سے التجا کرنا' ہے، یعنی ہاتھ جوڑ کر انتہائی عاجزی کے ساتھ کسی سے درخواست یا معافی مانگنا۔ یہ محاورہ عاجزی اور التجا کی روایتی جسمانی علامت پر مبنی ہے، جو مشرقی ثقافتوں میں احترام یا معذرت ظاہر کرنے کا عام انداز ہے۔ 'ناک رگڑنا' جیسا محاورہ بھی اسی زمرے کی شدید عاجزی بیان کرتا ہے۔
محاورہ 'ایڑی چوٹی کا زور لگانا' کا مطلب 'بھرپور کوشش کرنا' ہے، یعنی پاؤں کی ایڑی سے لے کر سر کی چوٹی تک، یعنی پورے جسم اور توانائی کے ساتھ کسی کام میں جت جانا۔ یہ محاورہ انتھک محنت اور مکمل لگن کی علامت ہے۔ محنت سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'خون پسینہ ایک کرنا' اور 'پاپڑ بیلنا'، بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔
محاورہ 'آنکھ لگنا' کا مطلب 'نیند آنا' ہے، یعنی تھکاوٹ یا آرام کے باعث خواب آور ہو جانا اور سو جانا۔ یہ ایک سادہ مگر روزمرہ بول چال کا محاورہ ہے جو نیند کی حالت کو مہذب اور شاعرانہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ آنکھ سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'آنکھ کا تارا' اور 'آنکھیں چار ہونا'، مختلف مگر اسی عضو سے جڑے مفاہیم رکھتے ہیں۔
محاورہ 'آنکھیں چار ہونا' کا مطلب 'محبت ہو جانا یا آمنا سامنا ہونا' ہے، یعنی دو افراد کی نظریں آپس میں ملنا، جو اکثر پہلی نظر میں محبت یا کسی سے اچانک ملاقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ محاورہ خاص طور پر رومانوی داستانوں اور غزلوں میں محبوب سے پہلی نظر کے ملاپ کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محاورہ اردو کی عاشقانہ شاعری کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔
No Comments