محاورہ 'سر دھڑ کی بازی لگانا' کا مطلب 'جان کی بازی لگانا' ہے، یعنی کسی مقصد کے لیے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دینا، بغیر نتیجے کی پروا کیے۔ یہ محاورہ انتہائی بہادری اور قربانی کی علامت ہے، جو خاص طور پر جنگ یا کسی بڑے چیلنج کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔ 'جان پر کھیلنا' جیسا محاورہ بھی اسی جذبے کا اظہار کرتا ہے۔
محاورہ 'کان بھرنا' کا مطلب 'چغلی کھانا یا بہکانا' ہے، یعنی کسی کو کسی تیسرے شخص کے خلاف غلط یا مبالغہ آمیز باتیں بتا کر اس کے دل میں شک یا نفرت پیدا کرنا۔ یہ محاورہ منفی اور فتنہ انگیز رویے پر تنقید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کان سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'کان کھڑے ہونا'، مختلف مگر اسی عضو سے جڑے مفاہیم رکھتے ہیں۔
محاورہ 'کلیجہ ٹھنڈا ہونا' کا مطلب 'دلی سکون ملنا' ہے، یعنی کسی خواہش کے پورا ہونے یا کسی دکھ کے دور ہونے پر اطمینان اور راحت محسوس کرنا۔ کلیجہ اردو محاورات میں دل اور جذبات کے مرکز کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جیسے 'کلیجہ منہ کو آنا' (سخت خوفزدہ ہونا)۔ یہ محاورہ کسی طویل انتظار یا پریشانی کے خاتمے پر سکون کے احساس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'گڑے مردے اکھاڑنا' کا مطلب 'پرانی باتیں دوبارہ چھیڑنا' ہے، یعنی ماضی کے فراموش شدہ یا دبے ہوئے جھگڑوں اور تلخیوں کو دوبارہ زندہ کرنا، بالکل اسی طرح جیسے دفن شدہ مردے کو دوبارہ کھود کر نکالا جائے۔ یہ محاورہ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پرانی رنجشوں کو بھلانے کی بجائے بار بار دہراتے ہیں۔ یہ محاورہ خاندانی اور سماجی جھگڑوں کے تناظر میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'منہ کالا کرنا' کا مطلب 'بدنام ہونا' ہے، یعنی ایسا برا کام کرنا جس سے عزت اور ساکھ بری طرح متاثر ہو، بالکل اسی طرح جیسے چہرے پر کالک لگ جانے سے شرمندگی محسوس ہو۔ یہ محاورہ اخلاقی گراوٹ یا بدنامی کی انتہائی صورت بیان کرتا ہے۔ اس کے برعکس 'سر آنکھوں پر بٹھانا' جیسا محاورہ عزت افزائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'ہاتھ پیلے کرنا' کا مطلب 'شادی کرنا' ہے، جو روایتی جنوبی ایشیائی شادی کی رسم سے ماخوذ ہے جس میں دلہن کے ہاتھوں پر ہلدی یا پیلا رنگ لگایا جاتا ہے۔ یہ محاورہ خاص طور پر بیٹی یا بیٹے کی شادی کروانے کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محاورہ اردو کی سماجی و خاندانی زندگی پر مبنی تحریروں میں شادی بیاہ کے موضوع پر کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'آگ سے کھیلنا' کا مطلب 'خطرہ مول لینا' ہے، یعنی جان بوجھ کر کسی ایسے کام میں پڑنا جو نقصان دہ یا خطرناک ہو سکتا ہو، بالکل اسی طرح جیسے حقیقی آگ سے کھیلنا جل جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔ یہ محاورہ لاپرواہی اور بے احتیاطی پر خبردار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آگ سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'آگ بگولہ ہونا'، بھی شدت کی علامت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
محاورہ 'اوکھلی میں سر دینا' کا مطلب 'جان بوجھ کر مصیبت مول لینا' ہے، یعنی خود کو ایسی مشکل میں ڈالنا جس سے نکلنا آسان نہ ہو، بالکل اسی طرح جیسے کوئی خود اپنا سر اناج کوٹنے والی اوکھلی میں دے دے۔ اس محاورے کا ایک مکمل مصرعہ بھی مشہور ہے: 'اوکھلی میں سر دیا تو موصلیوں کا کیا ڈر'، یعنی جب خود مشکل مول لی ہے تو نتائج کی شکایت بےکار ہے۔ یہ محاورہ خود ساختہ مصیبتوں پر تبصرے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'پانی پانی ہونا' کا مطلب 'بہت شرمندہ ہونا' ہے، یعنی شرمندگی کی شدت سے اتنا پگھل جانا جیسے پانی بن گئے ہوں۔ یہ محاورہ کسی سخت شرمندگی یا ندامت کے احساس کو بیان کرتا ہے، خاص طور پر جب کسی کی غلطی سب کے سامنے آ جائے۔ شرمندگی سے متعلق دیگر تصورات، جیسے ذلت اور رسوائی، بھی اسی جذباتی زمرے میں شامل ہیں۔
محاورہ 'تیر بہدف' کا مطلب 'بالکل صحیح نشانہ' ہے، یعنی ایسا نشانہ جو کبھی خطا نہ ہو، ہر بار درست جگہ پر لگے۔ یہ محاورہ کسی حکمتِ عملی، دلیل یا کوشش کی مکمل کامیابی بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس 'اندھیرے میں تیر مارنا' جیسا محاورہ بغیر سوچے سمجھے کیے گئے بے یقینی والے اقدام کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو تیر بہدف کے بالکل برعکس تصور ہے۔
No Comments