'شاگرد' کا مترادف 'طالب علم' ہے، دونوں الفاظ تعلیم حاصل کرنے والے شخص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس استاد، معلم اور مصنف تعلیم دینے یا لکھنے والے کردار ظاہر کرتے ہیں، جو شاگرد کے مترادف نہیں۔ استاد و شاگرد کا رشتہ اردو کلاسیکی شاعری کی روایت میں بھی اہم ہے، جہاں شعرا اپنے استادوں سے اصلاح لیتے تھے۔
'کسان' کا مترادف 'دہقان' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور زمین کاشت کرنے والے شخص کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سوداگر، مزدور اور تاجر مختلف پیشے ہیں جن کا کسان سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ کسان اور دہقان منشی پریم چند جیسے ادیبوں کی سماجی حقیقت نگاری پر مبنی تحریروں میں اہم موضوع رہے ہیں، جیسے ان کے ناول 'گودان' میں۔
'تاجر' کا مترادف 'سوداگر' ہے، دونوں الفاظ تجارت کرنے والے شخص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس دہقان (کسان)، مزدور اور کسان مختلف پیشے ہیں جن کا تاجر سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ تاجر و سوداگر جیسے الفاظ اردو کی تجارتی اور معاشی ذخیرہ الفاظ میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'بادل' کا مترادف 'ابر' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور اردو شاعری میں بارش اور موسمی تبدیلی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دھواں، کہر اور دھند مختلف موسمی یا فضائی مظاہر ہیں جن کا بادل سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ ابر سے کئی تراکیب بھی بنتی ہیں، جیسے ابرِ کرم (مہربانی کا بادل)، جو مجازاً سخاوت کی علامت ہے۔
'بجلی' کا مترادف 'برق' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور تیزی و چمک کی علامت کے طور پر اردو شاعری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس نور، شعاع اور کرن روشنی سے متعلق مختلف تصورات ہیں جن کا بجلی سے کوئی براہِ راست مترادف تعلق نہیں۔ برق سے کئی تراکیب بھی بنتی ہیں، جیسے برق رفتار (بجلی کی رفتار جیسا تیز)۔
'ستارہ' کا مترادف 'نجم' ہے، جو عربی الاصل لفظ ہے اور آسمان پر چمکنے والے جرمِ فلکی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس افق، فلک اور سما آسمان سے متعلق مختلف تصورات ہیں جن کا ستارے سے کوئی براہِ راست مترادف تعلق نہیں۔ نجم سے علم النجوم (علمِ ستارہ شناسی) جیسی اصطلاح بھی بنتی ہے۔
'دریا' کا مترادف 'ندی' ہے، اگرچہ روایتی طور پر ندی چھوٹی آبی گزرگاہ کے لیے اور دریا بڑے آبی ذخیرے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر عمومی مترادف کے طور پر یہ الفاظ ملتے جلتے تصورات ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کوہ (پہاڑ)، ریگستان اور صحرا خشک زمینی تصورات ہیں جن کا دریا سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ قرۃالعین حیدر کے ناول 'آگ کا دریا' میں بھی یہی لفظ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
'پہاڑ' کا مترادف 'کوہ' ہے، جو فارسی الاصل لفظ ہے اور اردو تراکیب میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جیسے کوہ پیما (پہاڑ پر چڑھنے والا)۔ اس کے برعکس بحر (سمندر)، دشت اور صحرا مختلف جغرافیائی تصورات ہیں جن کا پہاڑ سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ کوہ سے کوہستان (پہاڑی علاقہ) جیسی جگہ کے نام بھی بنتے ہیں۔
'صحرا' کا مترادف 'ریگستان' ہے، دونوں الفاظ ریت اور خشکی سے بھرپور بنجر زمین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس باغ، چمن اور جزیرہ سرسبز یا آبی تصورات ہیں جو صحرا کے بالکل متضاد ہیں۔ صحرا اردو شاعری میں تنہائی اور مشکل سفر کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
'جزیرہ' کا مترادف 'ٹاپو' ہے، دونوں الفاظ چاروں طرف پانی سے گھری خشکی کے ٹکڑے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس صحرا، دریا اور دشت مختلف جغرافیائی تصورات ہیں جن کا جزیرے سے کوئی مترادف تعلق نہیں۔ جزیرہ عربی الاصل لفظ ہے جبکہ ٹاپو زیادہ مقامی اور روزمرہ استعمال کا لفظ ہے۔
No Comments