urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 54 (Q531-540)

Urdu MCQs

531ضرب المثل ‘پھوک میں سے تیل نہیں نکلتا’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'پھوک میں سے تیل نہیں نکلتا' کا مطلب یہ ہے کہ 'بےکار چیز سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا'، یعنی جس چیز یا شخص میں اصل صلاحیت یا وسائل ہی نہ ہوں، اس سے کسی بھی طرح کا فائدہ حاصل کرنے کی توقع رکھنا فضول ہے، بالکل اسی طرح جیسے تیل نکال چکی پھوک (بھوسی) سے دوبارہ تیل نہیں نکالا جا سکتا۔ یہ ضرب المثل ناممکن توقعات پر طنز کرتی ہے۔

532What is the meaning of the proverb ‘ہاتھی چلے بازار کتے بھونکیں ہزار’؟
Explanation

ضرب المثل 'ہاتھی چلے بازار کتے بھونکیں ہزار' کا مطلب یہ ہے کہ 'بڑے لوگ چھوٹی تنقید سے متاثر نہیں ہوتے'، یعنی جو شخص واقعی بلند مرتبہ اور باوقار ہو، وہ چھوٹی چھوٹی تنقیدوں اور طعنوں سے پریشان نہیں ہوتا اور اپنے راستے پر گامزن رہتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہاتھی کتوں کے بھونکنے سے بےپروا اپنی راہ چلتا رہتا ہے۔ یہ ضرب المثل استقامت اور بلند حوصلگی کی نصیحت کرتی ہے۔

533ضرب المثل ‘سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے' کا مطلب یہ ہے کہ 'مقصد بغیر کسی نقصان کے حاصل ہو جانا'، یعنی کسی مشکل کام کو اس طرح سرانجام دینا کہ مطلوبہ نتیجہ بھی حاصل ہو جائے اور اس میں استعمال ہونے والے وسائل کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ ضرب المثل ہوشیاری اور تدبر سے کام لینے کی مہارت کو سراہتی ہے، جہاں دو مخالف مقاصد کو بیک وقت پورا کیا جائے۔

534What is the meaning of the proverb ‘ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں’؟
Explanation

ضرب المثل 'ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'اتحاد میں طاقت ہے'، یعنی جب دو یا زیادہ افراد مل کر کام کریں تو ان کی مشترکہ طاقت الگ الگ کام کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے دو عددیں 'ایک ایک' ملنے سے محض دو نہیں بلکہ گیارہ جیسا زیادہ اثر پیدا کرتی ہیں۔ یہ ضرب المثل اجتماعیت اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

535ضرب المثل ‘دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'راز چھپانا مشکل ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی سن ہی لیتا ہے'، یعنی خفیہ باتیں بالآخر کسی نہ کسی طریقے سے دوسروں تک پہنچ ہی جاتی ہیں، اس لیے احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔ یہ ضرب المثل پہلے اسی نصاب کے صنف والے حصے میں لفظ دیوار کی مؤنث حیثیت کی مثال کے طور پر بھی آ چکی ہے۔ یہ ضرب المثل رازداری برقرار رکھنے کی مشکل پر تنبیہ کرتی ہے۔

536What is the meaning of the proverb ‘جتنے منہ اتنی باتیں’؟
Explanation

ضرب المثل 'جتنے منہ اتنی باتیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'ہر شخص کی الگ رائے ہوتی ہے'، یعنی کسی بھی معاملے پر جتنے لوگ رائے دیں گے، اتنی ہی مختلف آراء سامنے آئیں گی، کیونکہ ہر شخص کا نقطہ نظر اور سوچ مختلف ہوتی ہے۔ یہ ضرب المثل اختلافِ رائے کے فطری ہونے کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہ اکثر مباحثوں اور اجتماعی فیصلوں کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔

537ضرب المثل ‘خالی برتن زیادہ بجتا ہے’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'خالی برتن زیادہ بجتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'کم علم والا زیادہ بولتا ہے'، یعنی جس شخص کے پاس اصل علم یا سمجھ کم ہو، وہ اکثر زیادہ شور مچاتا اور اپنی باتوں سے دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے خالی برتن بھرے ہوئے برتن کے مقابلے میں زیادہ آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ ضرب المثل حقیقی علم اور نمائشی باتونی پن کے فرق پر طنز کرتی ہے۔

538What is the meaning of the proverb ‘عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے’؟
Explanation

ضرب المثل 'عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'سمجھدار کو تھوڑی سی بات ہی کافی ہوتی ہے'، یعنی ذہین اور سمجھدار شخص کو کسی بات کی تفصیلی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ ایک اشارے یا مختصر بات سے ہی مکمل مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ یہ ضرب المثل عقلمندی اور فہم و فراست کی تعریف کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

539ضرب المثل ‘ہمت مرداں مدد خدا’ کا کیا مطلب ہے؟
Explanation

ضرب المثل 'ہمت مرداں مدد خدا' کا مطلب یہ ہے کہ 'کوشش کرنے والے کی اللہ مدد کرتا ہے'، یعنی جو شخص اپنی سی پوری کوشش اور ہمت سے کام لے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ یہ ضرب المثل فارسی الاصل ہے اور اردو کی مذہبی و اخلاقی تحریروں میں محنت اور توکل کے امتزاج کی نصیحت کے طور پر بہت مشہور ہے، اور یہ ضرب المثل 'جہاں چاہ وہاں راہ' جیسے دیگر ہمت آموز اقوال سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے۔

540What is the meaning of the proverb ‘جس تن لاگے سو تن جانے’؟
Explanation

ضرب المثل 'جس تن لاگے سو تن جانے' کا مطلب یہ ہے کہ 'تکلیف وہی سمجھتا ہے جس پر بیتے'، یعنی کسی دکھ یا مصیبت کی اصل شدت کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو خود اس سے گزرا ہو، باہر سے دیکھنے والا اس کا مکمل ادراک نہیں کر سکتا۔ یہ ضرب المثل ہمدردی اور دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی حدود پر تبصرہ کرتی ہے، اور یہ 'جس کے پاؤں نہ پھٹے بواعی وہ کیا جانے پیر پرائی' جیسی ضرب المثل سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.