ضرب المثل 'سو سنار کی ایک لوہار کی' کا مطلب یہ ہے کہ 'بہت ساری کمزور ضربوں سے ایک زبردست ضرب بہتر ہے'، یعنی کبھی کبھار ایک فیصلہ کن اور طاقتور اقدام، کئی ہلکی اور کمزور کوششوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سنار کی سو ہلکی ضربوں کے مقابلے میں لوہار کی ایک بھاری ضرب زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہ ضرب المثل فیصلہ کن اقدامات کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
ضرب المثل 'جان ہے تو جہان ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'زندگی اور صحت ہی سب سے قیمتی نعمت ہے'، یعنی اگر انسان زندہ اور صحت مند ہے تو باقی ہر چیز، دولت، شہرت اور کامیابی، کا حصول ممکن ہے، مگر اگر جان ہی نہ رہے تو کچھ بھی بےمعنی ہے۔ یہ ضرب المثل زندگی کی قدر و قیمت پر زور دیتی ہے۔
ضرب المثل 'جتنی چادر ہو اتنے پاؤں پھیلانے چاہئیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے'، یعنی انسان کو اپنی آمدنی اور وسائل کی حد کے مطابق ہی اخراجات کرنے چاہئیں، حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا مالی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ یہ ضرب المثل معاشی حکمت اور توازن کی نصیحت کرتی ہے، جو کفایت شعاری کے موضوع پر اردو کی اخلاقی تحریروں میں کثرت سے آتی ہے۔
ضرب المثل 'آم کے آم گٹھلیوں کے دام' کا مطلب یہ ہے کہ 'دوہرا فائدہ ہونا'، یعنی کسی ایک کام یا سودے سے دو الگ الگ فائدے حاصل ہونا، بالکل اسی طرح جیسے آم کھانے کے ساتھ ساتھ اس کی گٹھلیاں بیچ کر بھی پیسے کمائے جائیں۔ یہ ضرب المثل ایسی صورتحال کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں توقع سے زیادہ منافع یا فائدہ حاصل ہو۔
ضرب المثل 'اپنے منہ میاں مٹھو بننا' کا مطلب یہ ہے کہ 'خود اپنی تعریف کرنا'، یعنی کسی اور کے کہے بغیر خود ہی اپنی خوبیوں کا ڈھنڈورا پیٹنا، جو عاجزی کے بالکل برعکس رویہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ضرب المثل خودستائی اور نمائشی رویے پر طنز کرتی ہے۔ اردو ثقافت میں عاجزی کو اعلیٰ اخلاقی قدر سمجھا جاتا ہے، اسی لیے یہ ضرب المثل خودستائی پر تنقید کے طور پر مشہور ہوئی۔
ضرب المثل 'بیل منڈھے چڑھنا' کا مطلب یہ ہے کہ 'کام کا بننا یا کامیاب ہونا'، یعنی کوئی مشکل یا رکا ہوا کام بالآخر مکمل اور کامیاب ہو جانا، بالکل اسی طرح جیسے بیل کی بیل (پودا) آخرکار سہارے پر چڑھ جائے۔ یہ ضرب المثل کسی طویل کوشش کے بعد کامیابی کے حصول کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ ضرب المثل اردو کی نصیحت آمیز اور حوصلہ افزا تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'جو گرجتے ہیں سو برستے نہیں' کا مطلب یہ ہے کہ 'جو زیادہ باتیں بناتے ہیں وہ عمل کم کرتے ہیں'، یعنی جو لوگ صرف زبانی دعوے اور شور مچاتے ہیں، وہ اکثر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے، بالکل اسی طرح جیسے بہت گرجنے والے بادل اکثر برستے نہیں۔ یہ ضرب المثل کھوکھلے دعوے کرنے والوں پر طنز کرتی ہے، اور یہ سیاسی و سماجی تنقید کی تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔
ضرب المثل 'کھسیانی بلی کھمبا نوچے' کا مطلب یہ ہے کہ 'ناکامی پر بلاوجہ غصہ نکالنا'، یعنی جب کوئی شخص کسی کام میں ناکام یا شرمندہ ہو تو اپنی جھنجھلاہٹ کسی بے قصور چیز یا شخص پر نکالتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے شرمندہ بلی غصے میں کھمبے کو نوچنے لگے۔ یہ ضرب المثل بے بنیاد غصے اور ناکامی کے منفی ردعمل پر طنز کرتی ہے۔
ضرب المثل 'گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'بزدلی کی طویل زندگی سے بہادری کی مختصر زندگی بہتر ہے'، یعنی عزت اور بہادری کے ساتھ مختصر زندگی گزارنا، ذلت اور بزدلی کی طویل زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ یہ ضرب المثل کردار اور عزت کی قدر کو عمر کی طوالت پر ترجیح دیتی ہے، جو جنگی و انقلابی شاعری کے موضوعات سے بھی قریبی تعلق رکھتی ہے۔
ضرب المثل 'اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'اپنے علاقے میں کمزور بھی طاقتور محسوس ہوتا ہے'، یعنی انسان اپنے مانوس اور محفوظ ماحول میں زیادہ اعتماد اور جرات محسوس کرتا ہے، چاہے وہ حقیقت میں کمزور ہی کیوں نہ ہو، بالکل اسی طرح جیسے کتا اپنی گلی میں شیر جیسا بہادر بن جاتا ہے۔ یہ ضرب المثل خودی اور اعتماد کے تعلق کو ماحول سے جوڑتی ہے۔
No Comments