ضرب المثل 'ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی' کا مطلب یہ ہے کہ 'جھگڑے میں دونوں طرف قصور ہوتا ہے'، یعنی کوئی بھی تنازع یا لڑائی صرف ایک فریق کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں دونوں طرف کا کچھ نہ کچھ حصہ ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے تالی بجانے کے لیے دونوں ہاتھوں کا ملنا ضروری ہے۔ یہ ضرب المثل تنازعات میں توازن اور غیرجانبداری سے دیکھنے کی نصیحت کرتی ہے۔
ضرب المثل 'بندر کیا جانے ادرک کا سواد' کا مطلب یہ ہے کہ 'ناقدر شناس کو اچھی چیز کی قدر نہیں ہوتی'، یعنی جو شخص کسی چیز کی اصل قدر و قیمت سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو، وہ اس کی خوبی کا ادراک نہیں کر سکتا، بالکل اسی طرح جیسے بندر ادرک کے تیز ذائقے کی قدر نہیں کر سکتا۔ یہ ضرب المثل ناقدری اور بے سمجھی پر طنز کرتی ہے۔
ضرب المثل 'بھینس کے آگے بین بجانا' کا مطلب یہ ہے کہ 'نااہل کو نصیحت کرنا بےکار ہے'، یعنی ایسے شخص کو سمجھانے یا اچھی بات بتانے کی کوشش کرنا جو اسے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو، وقت کا ضیاع ہے، بالکل اسی طرح جیسے بھینس کے سامنے موسیقی بجانا بےسود ہے۔ یہ انگریزی محاورے 'casting pearls before swine' سے ملتا جلتا تصور ہے۔
ضرب المثل 'چور کی داڑھی میں تنکا' کا مطلب یہ ہے کہ 'مجرم کا اپنے آپ کو بے نقاب کر دینا'، یعنی مجرم اپنی گھبراہٹ یا بےچینی کی وجہ سے خود ہی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جس سے اس کا جرم ظاہر ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے چور بار بار اپنی داڑھی چھو کر شک پیدا کر دے۔ یہ ضرب المثل مجرمانہ نفسیات اور بے چینی کے آثار پر مبنی ہے۔
ضرب المثل 'دیر آید درست آید' کا مطلب یہ ہے کہ 'دیر سے ہو مگر ٹھیک ہو تو بہتر ہے'، یعنی اگر کوئی کام وقت پر نہ ہو سکے مگر بالآخر درست طریقے سے مکمل ہو جائے تو یہ جلد بازی میں غلط کام کرنے سے بہتر ہے۔ یہ فارسی الاصل ضرب المثل ہے جو معیار کو وقت پر ترجیح دینے کی نصیحت کرتی ہے۔ یہ ضرب المثل صبر اور احتیاط کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
ضرب المثل 'دور کے ڈھول سہانے' کا مطلب یہ ہے کہ 'دور کی چیز اچھی لگتی ہے مگر قریب سے حقیقت مختلف ہوتی ہے'، یعنی کوئی چیز فاصلے سے دیکھنے پر پرکشش اور خوبصورت لگتی ہے، مگر جب اس کے قریب جایا جائے تو اس کی اصل خامیاں نظر آنے لگتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دور سے ڈھول کی آواز میٹھی لگتی ہے مگر قریب جانے پر شور محسوس ہوتا ہے۔ یہ ضرب المثل ظاہری کشش اور حقیقت کے فرق پر طنز کرتی ہے۔
ضرب المثل 'گھر کی مرغی دال برابر' کا مطلب یہ ہے کہ 'اپنی چیز کی قدر نہیں ہوتی'، یعنی جو چیز یا شخص ہمارے اپنے پاس ہمیشہ موجود رہے، اس کی اہمیت اور قدر کم ہو جاتی ہے، جبکہ باہر کی معمولی چیزیں بھی پرکشش لگتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے قیمتی مرغی بھی گھر میں ہونے کی وجہ سے دال جتنی معمولی سمجھی جانے لگے۔ یہ ضرب المثل انسانی نفسیات کی ایک عام کمزوری پر تبصرہ کرتی ہے۔
ضرب المثل 'لوہا لوہے کو کاٹتا ہے' کا مطلب یہ ہے کہ 'سختی سختی سے ہی ختم ہوتی ہے'، یعنی کسی سخت یا مضبوط مسئلے کا حل بھی اتنی ہی مضبوطی اور سختی سے ممکن ہوتا ہے، نرمی سے نہیں۔ یہ ضرب المثل اسی نصاب کے محاورے 'لوہا لینا' سے قریبی تعلق رکھتی ہے، جس کا مطلب مقابلہ کرنا ہے۔ یہ ضرب المثل سخت مسائل کے سخت حل کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
ضرب المثل 'نو نقد نہ تیرہ ادھار' کا مطلب یہ ہے کہ 'نقد تھوڑا ادھار سے بہتر ہے'، یعنی فوری اور یقینی طور پر ملنے والی کم مقدار، بعد میں ملنے والی زیادہ مگر غیر یقینی مقدار سے بہتر ہے، بالکل اسی طرح جیسے نو روپے نقد، تیرہ روپے ادھار سے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ضرب المثل معاشی معاملات میں یقین اور فوری فائدے کو ترجیح دینے کی نصیحت کرتی ہے۔
ضرب المثل 'ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور' کا مطلب یہ ہے کہ 'کہنا کچھ اور کرنا کچھ، ظاہر و باطن میں فرق'، یعنی کسی شخص کے ظاہری الفاظ اور اصل نیت یا عمل میں فرق ہونا، بالکل اسی طرح جیسے ہاتھی کے دکھاوے کے دانت اس کے چبانے والے دانتوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ ضرب المثل منافقت اور دو رخی پالیسی پر شدید تنقید کرتی ہے۔
No Comments