محاورہ 'باغ باغ ہونا' کا مطلب 'بہت خوش ہونا' ہے، یعنی خوشی سے اس قدر مسرور ہونا جیسے دل ایک ہرے بھرے باغ کی مانند کھل اٹھا ہو۔ باغ اردو میں سرسبزی اور خوشحالی کی علامت ہے، جیسا کہ باغ کا مترادف چمن پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ یہ محاورہ کسی اچھی خبر یا کامیابی پر شدید خوشی ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'پاپڑ بیلنا' کا مطلب 'بہت جدوجہد کرنا' ہے، یعنی کسی مقصد کے حصول کے لیے سخت محنت اور مختلف حربے استعمال کرنا، بالکل اسی طرح جیسے پاپڑ بیلنے میں محنت اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ یہ محاورہ اکثر منفی یا مشکل حالات میں کی جانے والی انتھک کوشش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ محنت سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'خون پسینہ ایک کرنا'، بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔
محاورہ 'پیٹ میں چوہے دوڑنا' کا مطلب 'بہت بھوک لگنا' ہے، یعنی بھوک کی شدت کو اس طرح بیان کرنا جیسے پیٹ کے اندر چوہے دوڑ رہے ہوں۔ یہ ایک تصویری محاورہ ہے جو جسمانی احساس کو مبالغے کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ اردو محاورات میں جسمانی احساسات کو اسی طرح تصویری انداز میں بیان کرنا ایک عام اسلوب ہے، جو زبان کو مؤثر اور یادگار بناتا ہے۔
محاورہ 'تلوے چاٹنا' کا مطلب 'خوشامد کرنا' ہے، یعنی کسی طاقتور یا بااثر شخص کو خوش کرنے کے لیے حد سے زیادہ چاپلوسی کرنا۔ یہ محاورہ تحقیر آمیز ہے اور ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کی خوشامد کرتے ہیں۔ اسی موضوع سے ملتا جلتا محاورہ 'جوتیاں چاٹنا' بھی اردو میں رائج ہے۔
محاورہ 'جان چھڑکنا' کا مطلب 'بہت محبت کرنا' ہے، یعنی کسی سے اس قدر محبت کرنا کہ اپنی جان بھی اس پر قربان کرنے کو تیار ہو۔ یہ محاورہ گہری اور بے لوث محبت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر والدین کی اولاد سے محبت کے تناظر میں۔ جان سے متعلق کئی اور محاورے بھی شدید جذبات بیان کرتے ہیں، جیسے 'جان پر کھیلنا' اور 'جان بخشنا'۔
محاورہ 'چراغ تلے اندھیرا' کا مطلب یہ ہے کہ 'قریب کی چیز کا خیال نہ ہونا'، یعنی جو چیز یا حقیقت سب سے قریب ہو، اکثر اسی پر انسان کی توجہ نہیں جاتی، بالکل اسی طرح جیسے چراغ خود روشنی دیتا ہے مگر اس کے عین نیچے سایہ اور اندھیرا رہتا ہے۔ یہ محاورہ ستم ظریفی اور تضاد بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے حالات میں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسروں کی مدد کرے مگر اپنے قریبی لوگوں کی ضروریات نظرانداز کر دے۔
محاورہ 'دال میں کچھ کالا ہونا' کا مطلب 'کچھ گڑبڑ ہونا' ہے، یعنی کسی معاملے میں شک یا خفیہ گڑبڑ کا احساس ہونا، بالکل اسی طرح جیسے سفید دال میں کوئی کالی چیز نظر آنے پر شک پیدا ہو۔ یہ محاورہ روزمرہ زندگی میں کسی مشکوک صورتحال کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دال سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'دال نہ گلنا'، بھی اردو میں رائج ہیں۔
محاورہ 'دو دو ہاتھ کرنا' کا مطلب 'مقابلہ کرنا' ہے، یعنی کسی سے براہِ راست مدمقابل ہو کر لڑنا یا مقابلہ کرنا، خاص طور پر جسمانی یا میدانی مقابلے کے تناظر میں۔ یہ محاورہ جنگ یا کسی چیلنج کا سامنا کرنے کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی موضوع سے متعلق محاورہ 'لوہا لینا' بھی اردو میں مقابلہ کرنے کے معنی میں رائج ہے۔
محاورہ 'رنگ اڑ جانا' کا مطلب 'خوفزدہ ہو جانا' ہے، یعنی خوف یا صدمے کی شدت سے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جانا۔ یہ ایک جسمانی رد عمل پر مبنی محاورہ ہے جو شدید خوف یا حیرت کے وقت چہرے پر ظاہر ہونے والی تبدیلی کو بیان کرتا ہے۔ اسی زمرے کے دیگر محاورے، جیسے 'ہوش اڑ جانا' اور 'خون خشک ہونا'، بھی خوف کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔
محاورہ 'سر آنکھوں پر بٹھانا' کا مطلب 'بہت عزت دینا' ہے، یعنی کسی مہمان یا شخص کا اس قدر احترام کرنا جیسے اسے اپنے سر اور آنکھوں کی جگہ پر بٹھایا ہو، جو جسم کے سب سے معزز حصے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ محاورہ مہمان نوازی اور احترام کی اعلیٰ ترین سطح بیان کرتا ہے۔ اس کے برعکس 'پگڑی اچھالنا' جیسا محاورہ بے عزتی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
No Comments