محاورہ 'آسمان سر پر اٹھانا' کا مطلب 'بہت شور مچانا' ہے، یعنی اتنا شور کرنا جیسے آسمان کو بھی اپنی جگہ سے ہلا دیا ہو۔ یہ ایک مبالغہ آرائی پر مبنی محاورہ ہے، جو اردو میں شدت ظاہر کرنے کے لیے کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ آسمان سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'آسمان سے باتیں کرنا' (بہت اونچا ہونا)، بھی اسی طرح مبالغے کے ذریعے شدت بیان کرتے ہیں۔ محاورات میں ایسی تصویری زبان اردو کو زیادہ رنگین اور مؤثر بناتی ہے۔
محاورہ 'ناک میں دم کرنا' کا مطلب 'بہت تنگ کرنا' ہے، یعنی کسی کو اتنا پریشان کرنا کہ اس کا سانس لینا بھی دشوار ہو جائے۔ ناک اردو محاورات میں عزت اور صبر کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے، جیسے 'ناک رگڑنا' (منت سماجت کرنا) اور 'ناک اونچی کرنا' (عزت بڑھانا)۔ یہ محاورہ روزمرہ گفتگو میں کسی کی بار بار کی شکایتوں یا تنگ کرنے والے رویے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'آنکھوں میں دھول جھونکنا' کا مطلب 'دھوکہ دینا' ہے، یعنی کسی کی آنکھوں کے سامنے مٹی یا دھول ڈال کر اسے صحیح دیکھنے سے روکنا، مجازاً کسی کو گمراہ کرنا۔ آنکھ سے متعلق کئی اور محاورے بھی دھوکے اور فریب کے موضوع پر ہیں، جیسے 'آنکھوں دیکھی مکھی نگلنا'۔ یہ محاورہ سیاسی و سماجی تحریروں میں عوام کو گمراہ کرنے کے تناظر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'دانتوں تلے انگلی دبانا' کا مطلب 'حیران ہونا' ہے، یعنی کسی حیرت انگیز بات پر بے اختیار اپنی انگلی منہ میں دبا لینا، جو حیرانی کا فطری انداز ہے۔ یہ محاورہ کسی غیر متوقع یا حیرت انگیز واقعے پر ردعمل ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں حیرانی ظاہر کرنے والے دیگر محاورے، جیسے 'ہوش اڑ جانا'، بھی اسی جذباتی زمرے میں شامل ہیں۔
محاورہ 'ہاتھ پاؤں مارنا' کا مطلب 'کوشش کرنا' ہے، یعنی کسی مقصد کے حصول کے لیے بھرپور جسمانی و ذہنی کوشش کرنا، بالکل اسی طرح جیسے ڈوبتا ہوا شخص بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ یہ محاورہ محنت اور جدوجہد کی علامت ہے، جو ضرب المثل 'ہمت مرداں مدد خدا' کے پیغام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہاتھ سے متعلق کئی اور محاورے بھی کوشش اور عمل کے موضوع پر ہیں، جیسے 'ایڑی چوٹی کا زور لگانا'۔
محاورہ 'آگ بگولہ ہونا' کا مطلب 'بہت غصہ ہونا' ہے، یعنی غصے سے اس قدر بھڑک اٹھنا جیسے آگ کا شعلہ ہو۔ آگ اردو محاورات میں شدت اور غضب کی علامت کے طور پر بار بار استعمال ہوتی ہے، جیسے 'آگ سے کھیلنا' (خطرہ مول لینا)۔ اس محاورے کا استعمال کسی کے شدید اور فوری ردعمل کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
محاورہ 'آسمان سے باتیں کرنا' کا مطلب 'بہت اونچا ہونا' ہے، یعنی کسی عمارت یا چیز کی بلندی کو مبالغے کے ساتھ بیان کرنا جیسے وہ آسمان کو چھو رہی ہو۔ یہ محاورہ پہلے آئے محاورے 'آسمان سر پر اٹھانا' کی طرح آسمان کو استعارے کے طور پر استعمال کرتا ہے، مگر یہاں مطلب شور کی بجائے بلندی ہے۔ اردو میں آسمان سے جڑے کئی محاورے مختلف مفاہیم کے ساتھ رائج ہیں۔
محاورہ 'اپنا الو سیدھا کرنا' کا مطلب 'اپنا مطلب نکالنا' ہے، یعنی دوسروں کی پروا کیے بغیر صرف اپنا ذاتی فائدہ حاصل کرنا۔ الو اردو محاورات میں اکثر منفی یا خودغرضی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ محاورہ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو موقع پرستی سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کے نقصان کی پروا نہیں کرتے۔
محاورہ 'آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونا' کا مطلب 'زندگی کی مشکلات کا احساس ہونا' ہے، یعنی روزمرہ گھریلو اخراجات کی حقیقت سے آگاہ ہونا، خاص طور پر ایسے شخص کے لیے جو پہلے آسودہ زندگی گزار رہا ہو۔ یہ محاورہ گھریلو ذمہ داری اٹھانے کے تجربے کو بیان کرتا ہے، جہاں انسان کو معیشت کی حقیقی قدر کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ سماجی و معاشی تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'اینٹ سے اینٹ بجا دینا' کا مطلب 'مکمل تباہ کر دینا' ہے، یعنی کسی جگہ یا چیز کو اس قدر تباہ کرنا کہ اس کی اینٹیں بھی آپس میں ٹکرا جائیں، یعنی کچھ باقی نہ رہے۔ یہ ایک شدت پر مبنی محاورہ ہے جو جنگ یا انتقام کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محاورہ تباہی اور بربادی کی انتہائی صورت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
No Comments