'بادشاہ' کا متضاد 'فقیر' ہے، جبکہ سلطان، تاجدار اور حکمران سب بادشاہ کے مترادف الفاظ ہیں۔ بادشاہ اور فقیر امیری اور غریبی کی انتہاؤں کی علامت کے طور پر اردو ادب میں استعمال ہوتے ہیں، اور بادشاہ کا مترادف سلطان پہلے اسی نصاب میں بھی آ چکا ہے۔
'دولت' کا متضاد 'غربت' ہے، جبکہ مال، سرمایہ اور ثروت سب دولت کے مترادف الفاظ ہیں۔ دولت اور غربت کا موضوع اردو کی سماجی حقیقت نگاری پر مبنی افسانوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور امیر و غریب کا متضاد جوڑا پہلے اسی نصاب میں بھی آ چکا ہے۔
'طاقت' کا متضاد 'کمزوری' ہے، جبکہ توانائی، قوت اور زور سب طاقت کے مترادف الفاظ ہیں۔ طاقت اور کمزوری کا موضوع ضرب المثل 'عقل بڑی یا بھینس' سے بھی جڑا ہوا ہے، جو طاقت پر عقل کی برتری ظاہر کرتی ہے۔
'ہمت' کا متضاد 'بزدلی' ہے، جبکہ حوصلہ، دلیری اور جرات سب ہمت کے مترادف الفاظ ہیں۔ ہمت اور بزدلی کا موضوع ضرب المثل 'جو ڈرا سو مرا' سے بھی جڑا ہوا ہے، جو ہمت ہار جانے والوں کی ناکامی بیان کرتی ہے۔
'یقین' کا متضاد 'شک' ہے، جبکہ بھروسا، اعتماد اور اطمینان سب یقین کے مترادف الفاظ ہیں۔ یقین اور شک ایمان اور اعتقاد کے تناظر میں اردو کی مذہبی و فلسفیانہ تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'اتفاق' کا متضاد 'اختلاف' ہے، جبکہ میل جول، یکجہتی اور اتحاد سب اتفاق کے مترادف الفاظ ہیں۔ اتفاق اور اختلاف رائے اور آراء کے تناظر میں اردو کی مباحثاتی تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، اور اتحاد کا متضاد انتشار پہلے اسی نصاب میں بھی آ چکا ہے۔
'وفا' کا متضاد 'بے وفائی' ہے، جبکہ وفاداری، اخلاص اور خلوص سب وفا کے مترادف الفاظ ہیں۔ وفا اور بے وفائی اردو غزل کے کلاسیکی موضوعات ہیں، جہاں محبوب کی بے وفائی اور عاشق کی وفاداری کا تضاد بار بار بیان ہوتا ہے، جیسا کہ 'طوطا چشم ہونا' جیسے محاورے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
'خاموشی' کا متضاد 'شور' ہے، جبکہ سکون، سکوت اور چپ سب خاموشی کے مترادف الفاظ ہیں۔ خاموشی اور شور محاورے 'آسمان سر پر اٹھانا' سے بھی جڑے ہیں، جس کا مطلب بہت شور مچانا ہے۔ خاموشی اردو شاعری میں سکون اور تنہائی دونوں کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
'سکون' کا متضاد 'بے چینی' ہے، جبکہ اطمینان، راحت اور تسکین سب سکون کے مترادف الفاظ ہیں۔ سکون اور بے چینی ذہنی اور جذباتی کیفیت بیان کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو شاعری میں محبوب کی جدائی یا وصال کے تناظر میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'تنہائی' کا متضاد 'رونق' ہے، جبکہ سناٹا، خلوت اور 'اکیلا پن' سب تنہائی کے مترادف یا قریبی تصورات ہیں۔ تنہائی اردو شاعری کا کلاسیکی موضوع ہے، جبکہ رونق کسی جگہ کی رونق اور چہل پہل، یعنی لوگوں کی بھیڑ اور خوشی کی کیفیت، ظاہر کرتا ہے، جو تنہائی کے بالکل برعکس ہے۔
No Comments