'اندر' کا متضاد 'باہر' ہے، جبکہ اوپر، آگے اور نیچے مختلف جہتی تصورات ہیں جو اندر کے متضاد نہیں۔ اندر اور باہر مقامی تعلقات ظاہر کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو کسی جگہ کے اندرونی یا بیرونی حصے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
'پہلے' کا متضاد 'بعد' ہے، جبکہ قبل، سابقہ اور 'ماضی میں' سب پہلے سے متعلق یا مترادف تصورات ہیں۔ پہلے اور بعد وقت کی ترتیب ظاہر کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو کہانیوں اور واقعات کی تاریخ وار ترتیب بیان کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔
'اول' کا متضاد 'آخر' ہے، جبکہ شروع، پہلا اور ابتدائی سب اول کے مترادف الفاظ ہیں۔ اول اور آخر عربی الاصل الفاظ ہیں اور اردو میں اکثر ترکیب 'اول تا آخر' یعنی شروع سے آخر تک میں استعمال ہوتے ہیں۔ اول اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے بھی ایک ہے، جس کا جوڑا آخر بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔
'شمال' کا متضاد 'جنوب' ہے، جبکہ مشرق اور مغرب مختلف سمتیں ہیں جو شمال کے متضاد نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک اور جوڑا بناتی ہیں۔ چاروں سمتیں، یعنی شمال، جنوب، مشرق اور مغرب، جغرافیائی ذخیرہ الفاظ کا بنیادی حصہ ہیں اور اکثر نقشہ خوانی اور سمت بتانے والے سوالات میں استعمال ہوتی ہیں۔
'مشرق' کا متضاد 'مغرب' ہے، جبکہ شمال اور جنوب ایک الگ سمتی جوڑا بناتے ہیں۔ مشرق و مغرب کا موضوع علامہ اقبال کی شاعری میں بھی اہم ہے، جنہیں 'شاعرِ مشرق' کا لقب دیا گیا اور جنہوں نے 'پیامِ مشرق' جیسی تصنیف بھی لکھی، جس کا تذکرہ اسی نصاب کے شعراء والے حصے میں آئے گا۔
'زیادہ' کا متضاد 'کم' ہے، جبکہ کثیر، فراوان اور بہت سب زیادہ کے مترادف الفاظ ہیں۔ زیادہ اور کم مقدار اور تعداد بیان کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو روزمرہ گفتگو اور تحریری اردو دونوں میں انتہائی کثیر الاستعمال ہیں۔
'علم' کا متضاد 'جہالت' ہے، جبکہ معرفت، آگہی اور دانش سب علم کے مترادف الفاظ ہیں۔ علم اور جہالت کا موضوع اردو کی تعلیمی اور اصلاحی تحریروں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور علم کا مترادف دانش پہلے اسی نصاب کے مترادفات والے حصے میں بھی آ چکا ہے۔
'بہادر' کا متضاد 'بزدل' ہے، جبکہ جری، دلیر اور شجاع سب بہادر کے مترادف الفاظ ہیں۔ بہادر اور بزدل اردو کی تاریخی و جنگی شاعری میں کردار بیان کرنے کے لیے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، خاص طور پر مرثیہ نگاری میں کربلا کے بہادروں کی تعریف میں۔
'سخی' کا متضاد 'کنجوس' ہے، جبکہ فیاض، سخاوت مند اور دریا دل سب سخی کے مترادف الفاظ ہیں۔ سخی اور کنجوس شخصیت کی مالی فیاضی یا بخل بیان کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو اخلاقی کہانیوں اور کرداری تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'سادہ' کا متضاد 'پیچیدہ' ہے، جبکہ آسان، صاف اور سہل سب سادہ کے مترادف یا قریبی الفاظ ہیں۔ سادگی و پرکاری، یعنی سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا فن، اردو شاعری کے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت سمجھی جاتی ہے، جس کا ذکر اسی نصاب کے شاعری کی اصطلاحات والے حصے میں بھی آئے گا۔
No Comments