'جنت' کا متضاد 'دوزخ' ہے، جبکہ نعمت، فردوس اور باغ سب جنت کے مترادف یا قریبی تصورات ہیں۔ جنت اور دوزخ اسلامی عقیدے میں آخرت کی دو حتمی منزلیں ہیں، اور یہ تصورات اردو کی مذہبی و صوفیانہ شاعری میں ثواب و عذاب کے موضوع پر کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'نیکی' کا متضاد 'بدی' ہے، جبکہ احسان، بھلائی اور خیر سب نیکی کے مترادف الفاظ ہیں۔ نیکی اور بدی کا موضوع اردو کی اخلاقی و مذہبی تحریروں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور ضرب المثل 'نیکی کر دریا میں ڈال' اسی موضوع سے جڑی ہوئی نصیحت ہے۔
'حق' کا متضاد 'باطل' ہے، جبکہ سچ، صداقت اور انصاف سب حق کے مترادف یا قریبی الفاظ ہیں۔ حق و باطل کا موضوع اسلامی عقیدے اور اردو کی مذہبی و اخلاقی شاعری میں سچائی اور جھوٹ کی جنگ کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
'صبر' کا متضاد 'غصہ' ہے، جبکہ برداشت، سکون اور تحمل سب صبر کے مترادف الفاظ ہیں۔ صبر اور غصہ کا یہ متضاد جوڑا اردو کی اخلاقی نصیحتوں میں کثرت سے آتا ہے، خاص طور پر ضرب المثل 'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے' کے پیغام کے ساتھ۔
'عزت' کا متضاد 'ذلت' ہے، جبکہ وقار، احترام اور شان سب عزت کے مترادف الفاظ ہیں۔ عزت اور ذلت پہلے اسی نصاب کے مترادفات والے حصے میں بھی آ چکے ہیں، جہاں عزت کا مترادف وقار اور ذلت کا مترادف رسوائی بیان ہوا تھا، جو ذخیرہ الفاظ اور متضاد الفاظ کے مباحث کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
'امید' کا متضاد 'مایوسی' ہے، جبکہ توقع، آس اور خواہش سب امید کے مترادف یا قریبی الفاظ ہیں۔ امید اور مایوسی اردو شاعری میں محبوب کے وصال یا زندگی کی مشکلات کے تناظر میں بار بار استعمال ہوتے ہیں، اور امید کا مترادف آس پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
'کامیابی' کا متضاد 'ناکامی' ہے، جبکہ کامرانی، فتح اور جیت سب کامیابی کے مترادف الفاظ ہیں۔ کامیابی اور ناکامی محنت اور کوشش کے نتائج بیان کرنے والے بنیادی اردو الفاظ ہیں، جو تعلیمی و پیشہ ورانہ زندگی کی تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'آسان' کا متضاد 'مشکل' ہے، جبکہ ہلکا، سہل اور سادہ سب آسان کے مترادف الفاظ ہیں۔ آسان اور مشکل کا یہ متضاد جوڑا کسی بھی کام یا فیصلے کی نوعیت بیان کرنے کے لیے روزمرہ اردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، اور مشکل کی جمع مشکلیں پہلے اسی نصاب میں آ چکی ہے۔
'سستا' کا متضاد 'مہنگا' ہے، جبکہ ارزاں، کم قیمت اور رعایتی سب سستا کے مترادف یا قریبی الفاظ ہیں۔ سستا اور مہنگا معاشی اور تجارتی ذخیرہ الفاظ کا بنیادی متضاد جوڑا ہیں، جو بازار اور خریداری سے متعلق تحریروں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
'کھلا' کا متضاد 'بند' ہے، جبکہ کشادہ، وا اور آزاد سب کھلا کے مترادف یا قریبی الفاظ ہیں۔ کھلا اور بند دروازے، دکانیں اور مواقع بیان کرنے کے لیے روزمرہ اردو میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، اور یہ ذہنی کیفیت کے مجازی معنوں میں بھی آتے ہیں، جیسے کھلا ذہن یا بند سوچ۔
No Comments