urdu MCQs

Urdu MCQs – Page 65 (Q641-650)

Urdu MCQs

641Amir Khusrau is often called the father of which musical genre?
Explanation

امیر خسرو کو 'قوالی' کی موسیقی کی صنف کا باپ سمجھا جاتا ہے، جو صوفیانہ موسیقی کی ایک مشہور صنف ہے جو آج بھی برصغیر میں مقبول ہے۔ امیر خسرو نے فارسی، عربی اور مقامی ہندوستانی موسیقی کے امتزاج سے قوالی کو ایک نئی شکل دی۔ ان کا یہ تخلیقی کارنامہ صوفی روایت اور برصغیر کی موسیقی کی تاریخ دونوں میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔

642امیر خسرو کو کس لقب سے پکارا جاتا تھا؟
Explanation

امیر خسرو کو 'طوطیٔ ہند' یعنی 'ہندوستان کا طوطا' کے لقب سے پکارا جاتا تھا، جو ان کی خوش گفتاری اور شاعرانہ فصاحت کی عکاسی کرتا ہے۔ امیر خسرو کو ابتدائی اردو (ہندوی) شاعری کے بانیوں میں سے ایک بھی سمجھا جاتا ہے، اور وہ تیرہویں صدی کے قدیم ترین ریختہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا یہ لقب دیگر شعرا کے القاب، جیسے میر کا 'خدائے سخن'، سے الگ نوعیت کا ہے۔

643ولی محمد ولی (ولی دکنی) کو کس لقب سے جانا جاتا ہے؟
Explanation

ولی محمد ولی، جنہیں 'ولی دکنی' کہا جاتا ہے، 'بابائے اردو شاعری' کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ یہ لقب انہیں اس لیے دیا گیا کیونکہ انہوں نے دکنی اردو شاعری کو شمالی ہند تک متعارف کروایا اور اردو غزل کی ابتدائی روایت کو مستحکم کیا۔ یہ لقب مولوی عبدالحق کے 'بابائے اردو' کے لقب سے مختلف ہے، جو اردو نثر و ادب کی خدمات کے لیے دیا گیا تھا۔

644ولی دکنی کا تعلق کس علاقے سے تھا؟
Explanation

ولی دکنی کا تعلق 'دکن (اورنگ آباد)' کے علاقے سے تھا، جو جنوبی ہند کا ایک اہم ثقافتی و ادبی مرکز تھا جہاں اردو زبان کی ابتدائی نشوونما ہوئی۔ ولی دکنی کے کلام نے اٹھارہویں صدی کے اوائل میں شمالی ہند کے شعرا کو دکنی اردو شاعری کے اسلوب سے متعارف کرایا، جس نے دہلی کی اردو شاعری کی روایت پر گہرا اثر ڈالا۔

645نظیر اکبرآبادی کا تعلق کس شہر سے تھا؟
Explanation

نظیر اکبرآبادی کا تعلق 'آگرہ (اکبرآباد)' شہر سے تھا، جیسا کہ ان کے تخلص 'اکبرآبادی' سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جو آگرہ کے قدیم نام اکبرآباد سے ماخوذ ہے۔ نظیر اکبرآبادی کو کلاسیکی اردو شاعری کے دیگر شعرا سے مختلف اسلوب کی بنا پر جانا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے عوامی موضوعات پر لکھا۔ آگرہ، جو مرزا غالب کی بھی جائے پیدائش ہے، اردو کے کئی بڑے شعرا کا آبائی شہر رہا ہے۔

646نظیر اکبرآبادی کس قسم کی شاعری کے لیے مشہور ہیں؟
Explanation

نظیر اکبرآبادی 'عوامی اور نظمیہ شاعری' کے لیے مشہور ہیں، جس میں انہوں نے میلوں، تہواروں، پھلوں اور عام زندگی کے موضوعات پر نظمیں لکھیں، برخلاف اس دور کے دیگر کلاسیکی شعرا کے جو زیادہ تر غزل اور درباری موضوعات تک محدود رہے۔ نظیر کی شاعری کو ان کی زندگی میں وہ ادبی پذیرائی نہیں ملی جو بعد کے دور میں ملی۔ آج انہیں اردو کی عوامی شاعری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

647داغ دہلوی کا تعلق کس شہر سے تھا؟
Explanation

داغ دہلوی کا تعلق 'دہلی' شہر سے تھا، جیسا کہ ان کے تخلص 'دہلوی' سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ داغ اپنی سادہ، رواں اور محاوراتی زبان میں غزل گوئی کے لیے مشہور ہیں، اور انہیں دبستانِ دہلی کی روایت کا اہم نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کئی شاگرد بھی تھے جنہوں نے بعد میں اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

648داغ دہلوی کی زندگی کا آخری دور کہاں گزرا؟
Explanation

داغ دہلوی کی زندگی کا آخری دور 'حیدرآباد دکن' میں گزرا، جہاں وہ نظامِ حیدرآباد کے دربار سے وابستہ ہو گئے تھے۔ یہ ہجرت اس دور کے کئی شعرا کے لیے عام تھی جو دہلی کی سیاسی ابتری کے بعد دکن کی ریاستوں میں سرپرستی تلاش کرتے تھے۔ حیدرآباد دکن اس دور میں اردو شاعری اور ثقافت کی سرپرستی کا ایک اہم مرکز بن چکا تھا۔

649میر انیس کس صنفِ سخن کے لیے مشہور ہیں؟
Explanation

میر انیس 'مرثیہ' کی صنفِ سخن کے لیے مشہور ہیں، جو کربلا کے واقعے اور امام حسینؓ کی شہادت کے بیان پر مبنی صنف ہے۔ میر انیس کو اردو مرثیہ نگاری کا سب سے بڑا نام سمجھا جاتا ہے، اور ان کا فن مرزا دبیر کے ساتھ اکثر موازنے کا موضوع رہا ہے۔ مرثیہ نگاری کی یہ روایت خاص طور پر لکھنؤ میں پروان چڑھی۔

650میر انیس کا تعلق کس شہر سے تھا؟
Explanation

میر انیس کا تعلق 'لکھنؤ' شہر سے تھا، جو مرثیہ نگاری کی صنف کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لکھنؤ میں مرثیہ نگاری کو خاص سرپرستی اور مقبولیت حاصل ہوئی، جہاں میر انیس اور مرزا دبیر جیسے عظیم مرثیہ نگار پروان چڑھے۔ لکھنؤ کا دبستان اپنی نفاست، رچی ہوئی زبان اور مرثیہ نگاری کی روایت کے لیے مشہور ہے، جس کا ذکر اسی نصاب کے زبان کی تاریخ والے حصے میں بھی آئے گا۔

No Comments

Leave a Reply

Recent Comments

No comments to show.