علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش '9 نومبر 1877' ہے، جسے پاکستان میں 'یوم اقبال' کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ اقبال کی زندگی کے حالات سے متعلق امتحانی سوالات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اقبال کی وفات کی تاریخ 21 اپریل 1938 ہے، جس کا فرق ان کی مکمل عمر اور فکری سفر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
علامہ اقبال کا انتقال '21 اپریل 1938' کو ہوا، جو ان کی زندگی کے فکری اور شاعرانہ سفر کا اختتام تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کا مجموعہ کلام 'ارمغانِ حجاز' شائع ہوا، جو ان کی آخری تخلیقات پر مشتمل ہے۔ اقبال کی وفات پاکستان کے قیام سے تقریباً نو سال پہلے ہوئی، حالانکہ وہ 'مفکرِ پاکستان' کہلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے علیحدہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔
علامہ اقبال کو 'شاعرِ مشرق' کے لقب سے جانا جاتا ہے، جو ان کی فکری وسعت اور مشرقی فلسفہ و روحانیت پر مبنی شاعری کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ لقب انہیں مغربی اور مشرقی فکر کے امتزاج پر مبنی ان کی تصانیف، جیسے 'پیامِ مشرق'، کی بنا پر دیا گیا۔ دیگر شعرا کے مختلف القاب، جیسے میر تقی میر کا 'خدائے سخن' اور جوش ملیح آبادی کا 'شاعرِ انقلاب'، اسی نصاب میں الگ سے آئیں گے۔
علامہ اقبال کا پی ایچ ڈی مقالہ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں 'The Development of Metaphysics in Persia' کے موضوع پر تھا، یعنی 'فارس میں مابعدالطبیعیات کی نشوونما'۔ یہ مقالہ فارسی فلسفے اور تصوف پر ان کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے، جو بعد میں ان کی فارسی مثنویوں جیسے 'اسرارِ خودی' میں بھی نمایاں ہوئی۔ اقبال نے یورپ میں فلسفہ اور قانون دونوں کی تعلیم حاصل کی۔
اقبال کا مشہور مجموعہ کلام جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا، 'ارمغانِ حجاز' ہے، جس میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا کلام شامل ہے۔ اس کے برعکس 'بانگ درا' ان کا پہلا اور زندگی میں شائع ہونے والا مجموعہ کلام تھا۔ ارمغانِ حجاز اقبال کے فکری سفر کے آخری مرحلے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حرمین شریفین کی زیارت کی خواہش اور روحانی جستجو نمایاں ہے۔
'بانگ درا' علامہ اقبال کا 'پہلا' مجموعہ کلام ہے، جس کے بعد بال جبریل، ضربِ کلیم اور بعد از وفات ارمغانِ حجاز شائع ہوئے۔ بانگ درا میں اقبال کی ابتدائی شاعری شامل ہے، بشمول ان کی مشہور نظم 'ترانہ ہندی' (سارے جہاں سے اچھا)۔ اقبال کے چاروں مجموعہ ہائے کلام کی صحیح ترتیب یاد رکھنا اس نصاب کے اہم امتحانی سوالات میں سے ایک ہے۔
علامہ اقبال نے خودی کے موضوع پر جو مشہور فارسی مثنوی لکھی، اس کا نام 'اسرارِ خودی' ہے۔ اس مثنوی میں اقبال نے اپنے فلسفہ خودی، یعنی انسانی نفس کی خود اعتمادی اور بلندی کے تصور کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کا تسلسل 'رموزِ بیخودی' میں ملتا ہے، جو اجتماعی یا ملی زندگی کے موضوع پر ہے، جبکہ 'پیامِ مشرق' اور 'جاوید نامہ' ان کی دیگر مشہور فارسی تصانیف ہیں۔
'ترانہ ہندی' (سارے جہاں سے اچھا) 'علامہ اقبال' نے لکھی، جو ان کے پہلے مجموعہ کلام 'بانگ درا' میں شامل ہے۔ یہ نظم آج بھی ہندوستان میں محب وطن گیت کے طور پر مقبول ہے، حالانکہ اقبال نے بعد میں اپنے فکری سفر میں قومیت کی بجائے اسلامی اتحاد کے تصور کی طرف رجوع کیا۔ یہ نظم اقبال کی ابتدائی شاعری کی نمائندگی کرتی ہے، جو ان کی بعد کی فکر سے مختلف رنگ رکھتی ہے۔
اقبال کا مزار 'لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب' واقع ہے، جو پاکستان کی ایک اہم قومی یادگار ہے۔ یہ مقام ہر سال 'یومِ اقبال' کے موقع پر خصوصی تقریبات کا مرکز بنتا ہے۔ اقبال کا مزار لاہور کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے، جو مغلیہ دور کی بادشاہی مسجد سے قربت کی وجہ سے ایک منفرد روحانی و تاریخی مقام بن گیا ہے۔
علامہ اقبال نے 'قانون' کے مضمون میں وکالت کی تعلیم حاصل کی، اگرچہ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر اور فلسفی کے طور پر مشہور ہیں۔ انہوں نے یورپ میں فلسفہ اور قانون دونوں کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد میں لاہور میں وکالت بھی کی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقبال کی شخصیت محض شاعری تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک تعلیم یافتہ ماہرِ قانون اور فلسفی بھی تھے۔
No Comments