'فعل' وہ لفظ ہے جو کسی کام کے کرنے یا ہونے کو ظاہر کرے، جو اسم کا ہم پلہ اور اس کے برعکس ہے، کیونکہ اسم نام بتاتا ہے جبکہ فعل عمل بتاتا ہے۔ اردو گرامر فعل کو کئی زاویوں سے تقسیم کرتی ہے، جیسے لازم و متعدی (جس میں مفعول کی ضرورت ہو یا نہ ہو)، معروف و مجہول (فاعل معلوم ہو یا نہ ہو)، اور امر و نہی (حکم دینا یا منع کرنا)، جو اسی امتحانی حصے میں آگے آئیں گے۔ فعل کو پہچاننا اسم کے بعد اردو گرامر کی دوسری بنیادی ستون ہے۔
'فعل لازم' وہ فعل ہے جس کا اثر صرف فاعل تک محدود رہے اور کسی مفعول کی ضرورت نہ پڑے، جیسے سونا یا ہنسنا۔ اس کے برعکس 'فعل متعدی' کو اپنا معنی مکمل کرنے کے لیے مفعول درکار ہوتا ہے، جیسے کھانا کچھ کھانا۔ یہ لازم اور متعدی کی تقسیم انگریزی کے intransitive اور transitive فعل سے ملتی جلتی ہے اور اس امتحانی حصے میں مخصوص افعال کی مثالوں کے ذریعے بار بار آزمائی جاتی ہے۔
'فعل متعدی' وہ فعل ہے جس کا اثر فاعل سے مفعول تک پہنچتا ہے، جیسے کھانا یا پڑھنا، جن میں کچھ کھایا یا پڑھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فعل لازم جیسے سونا کسی مفعول کے بغیر ہی مکمل ہو جاتا ہے۔ اردو کے کچھ افعال، جیسے پڑھنا، سیاق و سباق کے مطابق لازم یا متعدی دونوں طرح استعمال ہو سکتے ہیں، اسی لیے امتحانی سوالات میں ہر فعل کو الگ الگ مثال کے ساتھ جانچا جاتا ہے۔
'سونا' کو 'فعل لازم' کہا جاتا ہے کیونکہ سونے کا عمل مکمل طور پر فاعل تک محدود رہتا ہے اور اسے مکمل معنی کے لیے کسی مفعول کی ضرورت نہیں، یعنی انسان صرف 'سوتا' ہے، کسی چیز کو نہیں سوتا۔ یہ فعل متعدی جیسے کھانا سے مختلف ہے، جسے مفعول درکار ہوتا ہے۔ ہنسنا، رونا اور دوڑنا بھی اردو میں عام فعل لازم ہیں، جو سب فاعل کے اپنے اندر مکمل ہونے والے عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔
'کھانا' کو 'فعل متعدی' کہا جاتا ہے کیونکہ اس عمل کو مکمل معنی کے لیے مفعول درکار ہوتا ہے، جیسے کھانا کھانا میں 'کھانا' مفعول کا کام کرتا ہے۔ یہ فعل لازم جیسے سونا سے مختلف ہے، جسے کسی مفعول کی ضرورت نہیں پڑتی۔ متعدی افعال اردو میں فعل مجہول یعنی مجہول آواز بنانے کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ صرف وہی عمل جس کا مفعول ہو، اسے الٹ کر مفعول کو نیا فاعل بنایا جا سکتا ہے۔
'ہنسنا' کو 'فعل لازم' کہا جاتا ہے کیونکہ ہنسنے کا عمل خود میں مکمل ہے اور اسے کسی مفعول کی ضرورت نہیں، برخلاف رلانا (کسی کو رلانا) کے، جو متعدی و سببی فعل ہے۔ اردو اکثر لازم جڑ سے سببی متعدی فعل بناتی ہے، جیسے ہنسنا سے ہنسانا (کسی کو ہنسانا)، جو لازم و متعدی کی بنیادی تقسیم کے ساتھ ساتھ ایک پیداواری قاعدہ بھی ہے، جسے پہچاننا مفید ہے۔
'پڑھنا' کو اس سیاق میں عموماً 'فعل متعدی' شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ عام طور پر کوئی چیز پڑھی یا پڑھائی جاتی ہے، جیسے پڑھنا کتاب، اگرچہ بعض جملوں میں یہ لازم انداز میں بھی آ سکتا ہے، جیسے 'وہ پڑھتا ہے'۔ یہ دوہرا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اردو فعل کی تعدی سیاق و سباق پر منحصر ہو سکتی ہے نہ کہ محض فعل کی جڑ کے معنی پر، جو ایسے درجہ بندی کے سوالات میں باریکی کا باعث بنتا ہے۔
'فعل معروف' وہ فعل کی حالت ہے جس میں فاعل معلوم اور واضح ہو، جیسے 'احمد نے خط لکھا' میں احمد صاف طور پر بیان ہوا ہے۔ اس کے برعکس 'فعل مجہول' مفعول پر زور دیتا ہے جب فاعل نامعلوم یا غیر اہم ہو، جیسے 'خط لکھا گیا'۔ یہ معروف و مجہول کی تقسیم انگریزی گرامر کی active اور passive voice سے ملتی جلتی ہے اور اردو جملہ سازی کی مشقوں میں کثرت سے آزمائی جاتی ہے۔
'فعل مجہول' وہ فعل کی حالت ہے جس میں فاعل نامعلوم، غیر مذکور یا کم اہم ہو اور جملے کا زور مفعول پر منتقل ہو جائے، جیسے 'خط لکھا گیا'۔ یہ فعل معروف سے مختلف ہے، جس میں فاعل واضح ہوتا ہے، جیسے 'احمد نے خط لکھا'۔ اردو مجہول آواز بنانے کے لیے فعل کے صیغہء ماضی مطلق کے ساتھ معاون فعل 'جانا' استعمال کرتی ہے، جو گیا، گئی، گئے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اور یہ گرامر کی تبدیلی سے متعلق سوالات کے لیے ایک قابلِ اعتماد نشانی ہے۔
'خط لکھا گیا' کو 'فعل مجہول' کہا جاتا ہے کیونکہ اس جملے میں مفعول یعنی خط پر زور ہے جبکہ یہ نہیں بتایا گیا کہ خط کس نے لکھا۔ اس کا موازنہ فعل معروف والے جملے 'احمد نے خط لکھا' سے کریں، جس میں لکھنے والا واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ فعل کے بعد گیا، گئی یا گئے کا آنا اردو میں فعل مجہول کی ایک قابلِ بھروسا گرامری علامت ہے۔
No Comments