'حسن مطلع' سے مراد 'غزل کا وہ مطلع ہے جو غیر معمولی طور پر خوبصورت ہو'، یعنی جب غزل کا پہلا شعر اپنی فنی و معنوی خوبی میں دیگر اشعار سے نمایاں ہو۔ یہ اصطلاح مطلع کی عام تعریف سے آگے بڑھ کر اس کی فنی برتری کو اجاگر کرتی ہے۔ حسن مطلع کا تصور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اردو تنقید میں شعر کی محض تعریف نہیں بلکہ اس کے معیار کو بھی جانچا جاتا ہے۔
وہ صنف سخن جس میں الفاظ کے ذریعے مصوری کی جائے، یعنی منظر نگاری کی جائے، اسے 'منظوم مصوری یا نظم منظر نگاری' کہا جاتا ہے۔ اس صنف میں شاعر الفاظ کی مدد سے کسی منظر، جیسے فطرت یا کسی واقعے، کی تصویر کھینچتا ہے۔ یہ صنف نظم کی ایک خاص قسم ہے جو بصری تفصیل اور جمالیاتی حس پر زور دیتی ہے۔
'آزاد نظم' کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ 'روایتی بحر اور قافیہ ردیف کی سخت پابندی سے آزاد ہوتی ہے'، جو اسے کلاسیکی غزل اور نظم سے ممتاز کرتی ہے۔ اس صنف کے بانیوں میں این ایم راشد اور میراجی شامل ہیں، جن کا ذکر پہلے بھی اسی نصاب میں آ چکا ہے۔ آزاد نظم نے جدید اردو شاعری کو نئے موضوعات اور اسلوب کے تجربات کے لیے وسیع میدان فراہم کیا۔
'نثری نظم' 'وزن اور بحر کی پابندی سے' آزاد ہوتی ہے، مگر پھر بھی اپنے اندر شاعرانہ معنویت اور تاثیر رکھتی ہے۔ یہ آزاد نظم سے بھی ایک قدم آگے کی صنف ہے، کیونکہ آزاد نظم میں بھی کسی حد تک وزن کا احساس موجود ہوتا ہے، جبکہ نثری نظم مکمل طور پر روایتی وزن سے آزاد ہوتی ہے۔ یہ جدید اردو شاعری کی سب سے آزاد اور تجرباتی صنف سمجھی جاتی ہے۔
شعر میں 'ایہام' کی صنعت یہ ہے کہ 'ایسا لفظ استعمال کیا جائے جس کے دو معنی ہوں اور دونوں مناسب ہوں'، جس سے قاری کو معنی کی دوہری تہہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ صنعت شاعر کی لفظی مہارت اور ذہانت کا امتحان ہے، کیونکہ دونوں معنی شعر کے سیاق میں یکساں طور پر موزوں ہونے چاہئیں۔ ایہام اردو کی کلاسیکی شاعری میں فنی چابکدستی کی ایک بلند مثال سمجھی جاتی ہے۔
'صنعت مراعات النظیر' یہ ہے کہ 'ایک ہی صنف سے تعلق رکھنے والے الفاظ کا ایک ساتھ استعمال' کیا جائے، جیسے کسی شعر میں چاند، ستارے اور آسمان جیسے متعلقہ الفاظ اکٹھے لائے جائیں۔ یہ صنعت شعر میں ہم آہنگی اور موضوعاتی ربط پیدا کرتی ہے۔ یہ صنعت تضاد کے بالکل برعکس ہے، جس میں متضاد الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔
'تجاہل عارفانہ' کی صنعت میں شاعر 'جانتے بوجھتے انجان بننے کا انداز اپناتا ہے'، یعنی وہ کسی بات کو جانتے ہوئے بھی ایسا ظاہر کرتا ہے جیسے وہ اس سے بےخبر ہو، اکثر کسی جذباتی یا شاعرانہ تاثر کو بڑھانے کے لیے۔ یہ صنعت شعر میں معصومیت اور حیرانی کا تاثر پیدا کرتی ہے، جو دراصل ایک فنی چال ہے۔ یہ صنعت اردو غزل میں محبوب سے متعلق اشعار میں خاص طور پر استعمال ہوتی ہے۔
شعر کے وہ دو مصرعے جن کا مضمون آپس میں جڑا ہو اور مکمل بات ایک ساتھ بنے، انہیں 'شعر مسلسل' کہتے ہیں۔ یہ عام غزل کے شعر سے مختلف ہے، جہاں ہر شعر خود مکمل اور آزاد خیال رکھتا ہے۔ شعر مسلسل کی صورت میں قاری کو مکمل مطلب سمجھنے کے لیے دونوں مصرعوں کو ایک ساتھ پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔
'قطعہ' صنف سخن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ 'دو یا زیادہ اشعار پر مشتمل ہوتا ہے جن کا مضمون ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے'، جو اسے غزل سے ممتاز کرتی ہے جہاں ہر شعر آزاد خیال رکھتا ہے۔ قطعے میں مطلع یا مقطع کی پابندی ضروری نہیں، اور شاعر ایک مخصوص، محدود خیال کو مربوط انداز میں بیان کرتا ہے۔ قطعہ اکثر کسی خاص واقعے یا موقع پر مختصر تبصرے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
'مسمط' صنف سخن کی پہچان یہ ہے کہ 'ہر بند میں چند مصرعے ہم قافیہ اور آخری مصرعہ مختلف بند کے ساتھ مشترک قافیہ رکھتا ہے'۔ یہ ایک پیچیدہ فنی ساخت والی صنف ہے جس کی مختلف اقسام، جیسے مربع، مخمس اور مسدس، مصرعوں کی تعداد کے مطابق الگ نام رکھتی ہیں، جو پہلے بھی اسی نصاب میں زیرِ بحث آ چکی ہیں۔
No Comments