کسی تاریخی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کرنے کے فن کو 'تلمیح' کہتے ہیں، جیسے کسی شعر میں کربلا، یوسف و زلیخا یا فرعون کے واقعے کا حوالہ دینا۔ تلمیح شاعر کو کم الفاظ میں گہرے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، کیونکہ قاری پہلے سے اس تاریخی یا مذہبی واقعے سے واقف ہوتا ہے۔ یہ صنعت خاص طور پر مرثیہ نگاری اور دینی شاعری میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔
کسی بات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کو 'مبالغہ' کہتے ہیں، جو شاعری میں جذبات کی شدت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مبالغہ کی سب سے بڑی قسم کو 'غلو' کہا جاتا ہے، جس میں بات ناممکن حد تک بڑھا دی جاتی ہے۔ کئی محاورے اور ضرب الامثال بھی مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں، جیسے 'آسمان سر پر اٹھانا'، جو پہلے اسی نصاب میں آ چکا ہے۔
دو متضاد الفاظ کو ایک ساتھ استعمال کرنے کی صنعت کو 'تضاد' کہتے ہیں، جیسے 'دن رات' یا 'موت و زندگی' کو ایک ہی شعر میں لانا۔ یہ صنعت شعر میں تقابل اور معنوی گہرائی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ تضاد کی صنعت اردو شاعری میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے کیونکہ متضاد تصورات کا ملاپ شعر کو زیادہ پرتاثیر بناتا ہے۔
ہم آواز مگر مختلف معنی رکھنے والے الفاظ کے استعمال کو 'تجنیس' کہتے ہیں، جو شاعری میں الفاظ کی موسیقیت اور معنوی چابکدستی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ صنعت شاعر کی زبان پر گہری دسترس کا مظاہرہ کرتی ہے، کیونکہ ایک جیسی آواز والے مختلف معنی کے الفاظ کو ہنرمندی سے ایک ہی شعر میں پرونا مشکل فن ہے۔
شاعری میں الفاظ و معنی کی آرائش کے فن کو مجموعی طور پر 'صنائع بدائع' کہا جاتا ہے، جس میں تشبیہ، استعارہ، تلمیح، مبالغہ، تضاد اور تجنیس جیسی تمام صنعتیں شامل ہیں۔ یہ اصطلاح دراصل ان تمام فنی آرائشوں کا مجموعی نام ہے جو شاعر اپنے کلام کو خوبصورت اور پرتاثیر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ صنائع بدائع کا مطالعہ اردو شاعری کی گہری تفہیم کے لیے ضروری ہے۔
کسی غزل کی بحر، قافیہ اور ردیف کے مجموعے کو 'زمین' کہتے ہیں، جو اس غزل کی فنی بنیاد بناتی ہے۔ جب دو شعرا ایک ہی بحر، قافیہ اور ردیف میں شعر کہیں تو کہا جاتا ہے کہ ان کی 'زمین ملتی ہے'۔ یہ اصطلاح اردو مشاعروں کی روایت میں اہم ہے، جہاں شعرا اکثر ایک دوسرے کی زمین میں طبع آزمائی کرتے تھے۔
وہ مصرعہ جو کسی اور شاعر کی طرف سے دیا جائے اور اس پر غزل کہی جائے، اسے 'مصرع طرح' کہتے ہیں۔ یہ روایت خاص طور پر مشاعروں میں رائج تھی، جہاں ایک مخصوص مصرعے کی بنیاد پر تمام شرکاء اپنی اپنی غزلیں کہتے تھے۔ اس طرح کی غزل کو 'طرحی غزل' بھی کہا جاتا ہے، جو زمین کے تصور سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔
کلاسیکی اردو ادب میں 'سخن' 'کلام یا شاعری' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جیسے 'خدائے سخن' (شاعری کا خدا) کے لقب میں، جو میر تقی میر کو دیا جاتا ہے۔ سخن سے متعلق کئی اصطلاحات بنتی ہیں، جیسے 'سخنور' (شاعر) اور 'صنفِ سخن' (شاعری کی قسم)، جو اسی نصاب میں بار بار استعمال ہوتی ہیں۔
'سخنور' اس شخص کو کہا جاتا ہے جو 'شاعر' ہو، یعنی جو فصیح و بلیغ کلام یا شاعری تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ اصطلاح لفظ 'سخن' سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب کلام یا شاعری ہے۔ سخنور کی اصطلاح اردو ادبی تنقید اور تذکروں میں شعرا کے لیے عزت و احترام کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔
غزل میں تخلص 'مقطع' میں استعمال ہوتا ہے، یعنی غزل کے آخری شعر میں، جہاں شاعر اپنا قلمی نام لاتا ہے۔ یہ روایت شاعر کی شناخت کو کلام کے ساتھ محفوظ کرنے کا کلاسیکی طریقہ ہے، جیسے غالب اپنے مقطعوں میں 'غالب' کا نام استعمال کرتے تھے۔ یہ اصطلاح پہلے بھی اسی نصاب میں مطلع اور مقطع کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکی ہے۔
No Comments