محاورہ 'جان پر کھیلنا' کا مطلب 'جان کو خطرے میں ڈالنا' ہے، یعنی کسی مقصد یا کسی دوسرے کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دینا۔ یہ محاورہ بہادری اور قربانی کے جذبے کی علامت ہے، جو 'سر دھڑ کی بازی لگانا' جیسے محاورے سے قریبی مفہوم رکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے حالات میں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالے۔
محاورہ 'دل بڑھانا' کا مطلب 'حوصلہ دینا' ہے، یعنی کسی کو مشکل وقت میں تسلی اور ہمت دینا تاکہ اس کا اعتماد بحال ہو۔ یہ محاورہ مثبت اور حوصلہ افزا انداز میں دوسروں کی مدد کرنے کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے برعکس 'دل توڑنا' جیسا فقرہ کسی کی امیدوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو دل بڑھانے کا بالکل متضاد عمل ہے۔
محاورہ 'رنگ میں بھنگ ڈالنا' کا مطلب 'خوشی کے موقع پر خلل ڈالنا' ہے، یعنی کسی جشن یا خوشی کی محفل میں ایسی بات یا حرکت کرنا جس سے سب کا مزہ کرکرا ہو جائے۔ 'بھنگ' یہاں کسی ناخوشگوار مداخلت کی علامت ہے جو تقریب کی رنگینی کو ماند کر دیتی ہے۔ یہ محاورہ عام طور پر شادی بیاہ یا جشن کی تقریبات میں کسی ناگوار واقعے کے تناظر میں استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'سانپ سونگھ جانا' کا مطلب 'اچانک چپ ہو جانا' ہے، یعنی کسی حیرت انگیز یا خوفناک بات سن کر یکدم خاموش ہو جانا، جیسے سانپ کے کاٹنے سے زبان بند ہو جاتی ہے۔ یہ محاورہ کسی کے اچانک بے زبان یا لاجواب ہو جانے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ یہ محاورہ اکثر ایسے حالات میں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص جو عام طور پر بہت باتونی ہو، اچانک بولنا بند کر دے۔
محاورہ 'طبیعت صاف ہونا' کا مطلب 'مزاج اچھا اور تندرست ہونا' ہے، یعنی جسمانی و ذہنی طور پر صحت مند اور سکون میں ہونا۔ طبیعت اردو میں مزاج اور صحت دونوں کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے، جیسے 'طبیعت ناساز ہونا' (بیمار ہونا)۔ یہ محاورہ روزمرہ گفتگو میں کسی کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے یا بتانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'عقل پر پتھر پڑنا' کا مطلب 'بے وقوفی کی بات کرنا' ہے، یعنی عارضی طور پر عقل و سمجھ کا کام نہ کرنا، جیسے عقل پر پتھر کی مانند بوجھ پڑ گیا ہو۔ یہ محاورہ کسی کے غیر معقول فیصلے یا بات پر حیرانی اور تنقید کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی زمرے کے دیگر محاورے، جیسے 'عقل کے اندھے گانٹھ کے پورے' جیسی ضرب المثل، بھی عقل کی کمی پر طنز کرتے ہیں۔
محاورہ 'غرور خاک میں ملانا' کا مطلب 'کسی کا غرور ختم کرنا' ہے، یعنی کسی متکبر شخص کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا کر اس کا تکبر توڑ دینا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی چیز مٹی میں مل کر بے حیثیت ہو جائے۔ یہ محاورہ اخلاقی نصیحت کے طور پر استعمال ہوتا ہے کہ تکبر بالآخر زوال کا باعث بنتا ہے۔ یہ ضرب المثل 'چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات' کے پیغام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
محاورہ 'کمر باندھنا' کا مطلب 'تیار ہونا یا پختہ ارادہ کرنا' ہے، یعنی کسی بڑے کام کے لیے پوری تیاری اور عزم کے ساتھ کھڑا ہونا، بالکل اسی طرح جیسے پرانے زمانے میں سفر یا جنگ سے پہلے کمر پر پٹکا باندھا جاتا تھا۔ یہ محاورہ کسی مہم یا چیلنج کے لیے مکمل آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ یہ محاورہ محنت اور ہمت سے متعلق دیگر محاورات، جیسے 'ایڑی چوٹی کا زور لگانا'، سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔
محاورہ 'لہو کے آنسو رونا' کا مطلب 'سخت غم میں رونا' ہے، یعنی اتنے شدید دکھ اور کرب میں مبتلا ہونا کہ عام آنسوؤں کی بجائے خون کے آنسو بہہ رہے محسوس ہوں۔ یہ ایک شدید مبالغہ آرائی پر مبنی محاورہ ہے جو انتہائی گہرے غم کا اظہار کرتا ہے۔ یہ محاورہ خاص طور پر مرثیہ نگاری اور غم کی شاعری میں کربلا جیسے سانحات کے تناظر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
محاورہ 'منہ بنانا' کا مطلب 'ناراضگی ظاہر کرنا' ہے، یعنی چہرے کے تاثرات سے کسی بات پر ناپسندیدگی یا غصہ ظاہر کرنا، خاص طور پر بچوں یا نازک مزاج لوگوں کے رویے کے تناظر میں۔ یہ محاورہ عام طور پر ہلکی پھلکی ناراضگی یا روٹھنے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ منہ سے متعلق دیگر محاورے، جیسے 'منہ میں پانی آنا' اور 'منہ کالا کرنا'، مختلف مگر اسی عضو سے جڑے مفاہیم رکھتے ہیں۔
No Comments