'احمد نے خط لکھا' کو 'فعل معروف' کہا جاتا ہے کیونکہ فاعل، یعنی احمد، کو کھلے طور پر اس عمل کے کرنے والے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کا موازنہ مجہول صورت 'خط لکھا گیا' سے کریں، جس میں لکھنے والے کا ذکر ہی نہیں ہوتا اور جملے کا مرکز مفعول بن جاتا ہے۔ ماضی متعدی جملوں میں فاعل کے ساتھ 'نے' کا استعمال اردو و ہندی گرامر کی ایک نمایاں خصوصیت ہے جسے معروف و مجہول کی تفریق کے ساتھ ساتھ نوٹ کرنا چاہیے۔
'فعل امر' وہ فعل کی حالت ہے جس سے کسی کو حکم یا ہدایت دی جائے، جیسے 'یہاں آؤ' یا 'بیٹھو'۔ اس کا الٹ 'فعل نہی' کسی کام سے منع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے 'شور مت کرو'۔ اردو کے امری افعال عام طور پر ضمیرِ فاعل چھوڑ دیتے ہیں اور سننے والے کے احترام کی سطح کے مطابق مختلف صیغے، جیسے مانوس 'آ' یا مؤدب 'آئیے'، استعمال کرتے ہیں۔
'یہاں آؤ' یعنی 'come here' کو 'فعل امر' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ امری فعل 'آؤ' کے ذریعے سننے والے کو براہِ راست حکم دیتا ہے۔ اردو امری صیغے احترام کی سطح کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، مانوس 'آ' سے لے کر باادب 'آئیے' تک، جس سے بولنے والا لہجے کی نزاکت کو باریکی سے ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ فعل نہی سے مختلف ہے، جو نفی کے الفاظ 'مت' یا 'نہ' کے ذریعے حکم کی بجائے ممانعت کرتا ہے۔
'فعل نہی' وہ فعل کی حالت ہے جو کسی کو کوئی کام کرنے سے منع کرے، عام طور پر یہ 'مت' یا 'نہ' کو امری صیغے کے ساتھ ملا کر بنائی جاتی ہے، جیسے 'شور مت کرو'۔ یہ فعل امر کا سیدھا منفی روپ ہے، جو 'یہاں آؤ' جیسے مثبت حکم دیتا ہے۔ نفی کے الفاظ 'مت' یا 'نہ' کو پہچاننا فوراً یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ یہ ایک نہی کی ساخت ہے نہ کہ محض امر کی۔
'شور مت کرو' کو 'فعل نہی' کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں 'مت' کو امری صیغے 'کرو' کے ساتھ ملا کر کسی عمل سے منع کیا گیا ہے۔ یہ فعل امر کے مثبت حکم 'شور کرو' کا الٹ ہے۔ اردو ممانعت ظاہر کرنے کے لیے 'مت' اور 'نہ' دونوں الفاظ استعمال کرتی ہے، جو امری فعل کے ساتھ مل کر کسی کو کچھ کرنے سے روکنے کی ہدایت بناتے ہیں۔
'مصدر' وہ اصل، لغوی شکل ہے جس سے فعل کی تمام دیگر صورتیں نکلتی ہیں، جیسے پڑھنا، لکھنا یا کھانا۔ تقریباً ہر اردو مصدر '-نا' پر ختم ہوتا ہے، جو اسے فوری طور پر پہچاننے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔ اسی امتحانی حصے میں پہلے دیکھا گیا کہ اسم بھی مصدر سے بن سکتا ہے، جیسے لکھائی جو لکھنا سے نکلا ہے، جو فعل اور اسم کی ساخت کو آپس میں جوڑتا ہے۔
'پڑھنا' کو 'مصدر' کہا جاتا ہے، یعنی فعل کی بنیادی لغوی شکل جس کے معنی 'to read/study' ہیں اور جس سے پڑھتا، پڑھا، پڑھے گا جیسی تمام صیغے بنتی ہیں۔ '-نا' پر ختم ہونا اردو کے مصدر کی سب سے قابلِ اعتماد نشانی ہے، جو انگریزی کے 'to + فعل' والے انداز سے ملتی جلتی ہے۔ مصدر اردو میں فعلی اسم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے 'پڑھنا اچھی عادت ہے' میں۔
'فعل ناقص' وہ فعل ہے جو اپنے طور پر مکمل معنی نہ دے اور اسے مددگار فعل کی ضرورت ہو، جیسے 'وہ ڈاکٹر ہے' میں 'ہے'۔ اس کے برعکس 'فعل تام' مکمل معنی دیتا ہے اور اسے مددگار فعل کی حاجت نہیں ہوتی، جیسے 'وہ کھاتا ہے' میں 'کھاتا' پہلے ہی بنیادی عمل کو ظاہر کر دیتا ہے۔ ہے، تھا اور گا جیسے معاون فعل اردو کے زمانہ اور کیفیت بیان کرنے کے نظام کی بنیادی اکائیاں ہیں۔
جملے 'وہ ڈاکٹر ہے' میں 'ہے' کو 'فعل ناقص' یعنی معاون فعل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ محض فاعل کو کسی وصفی خبر سے جوڑتا ہے، نہ کہ کوئی مستقل عمل بیان کرتا ہے۔ ایسے کڑی جوڑنے والے معاون فعل اردو کے حال زمانہ اور شناخت بتانے والے جملوں کے لیے لازمی ہیں۔ ہے، ہیں، تھا، تھی کو معاون فعل کے طور پر پہچاننا، نہ کہ بطور اصل فعل، اردو جملے کی صحیح تشریح کی کنجی ہے۔
'فعل تام' وہ فعل ہے جو کسی مددگار فعل کے بغیر اپنا معنی مکمل طور پر ادا کر دے، جیسے 'وہ کھاتا ہے' میں 'کھاتا' پہلے ہی کھانے کے بنیادی عمل کو ظاہر کر دیتا ہے، اگرچہ 'ہے' زمانے کی نشاندہی کے لیے ساتھ آتا ہے۔ یہ فعل ناقص سے مختلف ہے، جو اکیلے کھڑا نہیں ہو سکتا، جیسے 'وہ ڈاکٹر ہے' میں 'ہے'۔ تام اور ناقص میں فرق کرنا یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ جملے میں بنیادی عمل کون سا لفظ ادا کر رہا ہے۔
No Comments