'باتیں' لفظ بات کی درست جمع ہے، جو ایک عام مؤنث اسم ہے اور '-یں' کا لاحقہ لگا کر جمع بنتی ہے، جیسے رات سے راتیں اور میز سے میزیں۔ بات اردو کی روزمرہ گفتگو کا نہایت اہم لفظ ہے اور باتیں کرنا، کام کی بات جیسی تراکیب میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ باتات یا باتوں کی جیسے متبادل الفاظ درست اردو جمع کے قاعدے کے مطابق نہیں ہیں۔
'آنکھیں' لفظ آنکھ کی درست جمع ہے، کیونکہ آنکھ ایک مؤنث اسم ہے جو حرفِ صحیح پر ختم ہوتا ہے، اور اس کی جمع بھی زبان سے زبانیں اور بات سے باتیں کی طرح '-یں' لگا کر بنتی ہے۔ اردو میں اعضائے بدن سے متعلق الفاظ محاوروں کا خزانہ ہیں، جیسے آنکھوں میں دھول جھونکنا (دھوکہ دینا) اور آنکھ کا تارا (بہت پیارا)۔ حرفِ صحیح پر ختم ہونے والے اکثر اعضائے بدن کے اسم مؤنث ہی ہوتے ہیں۔
'گھوڑے' لفظ گھوڑا کی درست جمع ہے، جو مذکر اسم کے آخری حرف '-ا' کو '-ے' میں بدل کر بنتی ہے، بالکل لڑکا سے لڑکے اور کمرا سے کمرے کی طرح۔ اس کی مؤنث صورت گھوڑی کی جمع اس کے برعکس '-یاں' لگا کر گھوڑیاں بنتی ہے۔ اردو میں جانوروں کے نام اکثر جمع کے ساتھ ساتھ الگ الگ مذکر و مؤنث شکلیں بھی رکھتے ہیں، جو مقابلے کے امتحانات میں اکثر اکٹھے پوچھے جاتے ہیں۔
'گائیں' لفظ گائے کی بے قاعدہ جمع ہے، جس میں '-ے' پر ختم ہونے والے لفظ میں سیدھا '-یں' لگانے کے بجائے مخصوص تبدیلی کی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے دعا سے دعائیں بنتی ہے۔ گائے کو جنوبی ایشیا کے دیہی و مذہبی کلچر میں خاص اہمیت حاصل ہے اور یہ اکثر بھینس اور بکری کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے۔ چونکہ گائے پہلے ہی '-ے' پر ختم ہوتا ہے، اس لیے اس کی جمع عام حرفِ صحیح والے قاعدے سے مختلف ہے۔
'بکریاں' لفظ بکری کی درست جمع ہے، جو معیاری مؤنث قاعدے '-ی' سے '-یاں' کے مطابق بنتی ہے، بالکل لڑکی سے لڑکیاں اور چڑیا سے چڑیاں کی طرح۔ بکری دیہی زندگی کی بنیادی اردو ذخیرہ الفاظ میں شامل ہے اور اکثر بھیڑ اور گائے کے ساتھ سمجھی جانے والی اصطلاحات میں آتی ہے۔ اس کی مذکر صورت بکرا کی جمع اس کے برعکس '-ے' لگا کر بکرے بنتی ہے۔
'چڑیاں' لفظ چڑیا کی درست جمع ہے، جس میں آخری '-یا' کو '-یاں' میں بدلا جاتا ہے، یہ قاعدہ '-ی' سے '-یاں' والے اصول کا ہی قریبی روپ ہے۔ چڑیا مشہور ضرب المثل 'اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت' میں بھی استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد پچھتانا بے سود ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی الفاظ اکثر محاوروں اور ضرب الامثال میں بھی دوبارہ نمودار ہوتے ہیں۔
'ندیاں' لفظ ندی کی درست جمع ہے، جو مؤنث '-ی' سے '-یاں' والے قاعدے کے مطابق بنتی ہے۔ ندی چھوٹی آبی گزرگاہ کو کہتے ہیں، جبکہ بڑے دریا کے لیے مذکر لفظ دریا استعمال ہوتا ہے، جس کی جمع دریا یا دریاؤں بنتی ہے۔ اردو میں آبی ذخائر کو حجم اور صنف کی بنیاد پر الگ الگ الفاظ دیے گئے ہیں، جو فطرت سے متعلق ذخیرہ الفاظ کے سوالات میں اکثر آزمایا جاتا ہے۔
'سڑکیں' لفظ سڑک کی درست جمع ہے، کیونکہ سڑک ایک مؤنث اسم ہے جو حرفِ صحیح پر ختم ہوتا ہے اور اس کی جمع دیوار سے دیواریں اور زبان سے زبانیں کی طرح '-یں' لگا کر بنتی ہے۔ سڑک ایک عام روزمرہ لفظ ہے جو شہری زندگی اور سفر سے متعلق تحریری اقتباسات میں کثرت سے آتا ہے۔ سڑکے، سڑکات اور سڑکوں کی جیسے متبادل الفاظ درست اردو قاعدے کے مطابق نہیں ہیں۔
'دیواریں' لفظ دیوار کی درست جمع ہے، جو مؤنث اسم ہونے کی وجہ سے '-یں' کا لاحقہ لیتا ہے، جیسے سڑک سے سڑکیں۔ ضرب المثل 'دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں' اسی لفظ کو استعمال کرتے ہوئے خبردار کرتی ہے کہ راز چھپانا مشکل ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی سن ہی لیتا ہے۔ اردو روزمرہ اسموں کو اسی طرح علامتی ضرب الامثال میں ڈھال دیتی ہے، اسی لیے ذخیرہ الفاظ اور محاورات کے سوالات اکثر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔
'کھڑکیاں' لفظ کھڑکی کی درست جمع ہے، جو معیاری '-ی' سے '-یاں' والے قاعدے کے مطابق بنتی ہے، بالکل بیٹی سے بیٹیاں اور روٹی سے روٹیاں کی طرح۔ کھڑکی گھریلو زندگی سے متعلق فارسی الاصل لفظ ہے جو اکثر دروازہ (مذکر، جمع دروازے) کے ساتھ ذخیرہ الفاظ کے سوالات میں ملایا جاتا ہے۔ '-ی' پر ختم ہونے والے اسم اردو میں مؤنث ہونے کی سب سے قابلِ اعتماد نشانی ہیں۔
No Comments