اردو زبان میں اضافی حروف جیسے 'ژ' 'فارسی' زبان سے مستعار لیے گئے ہیں، جو عربی حروف تہجی میں موجود نہیں تھے۔ یہ حرف 'ژ' فارسی الاصل الفاظ میں استعمال ہوتا ہے اور اردو میں نسبتاً کم استعمال ہونے والا حرف ہے۔ یہ حرف اردو کی فارسی سے مستعار صوتیاتی وراثت کی ایک اور مثال ہے، جو پ، چ اور گ جیسے دیگر فارسی حروف کے ساتھ اردو میں شامل ہوا۔
حرف 'ژ' اردو میں 'فارسی الاصل الفاظ' میں نایاب طور پر استعمال ہوتا ہے، جیسے 'ژالہ' (اولا) یا 'مژدہ' (خوشخبری) جیسے الفاظ میں۔ یہ حرف عربی حروف تہجی میں موجود نہیں تھا، اور اسے فارسی زبان نے اپنی صوتیاتی ضرورت کے لیے تخلیق کیا، جو بعد میں اردو میں بھی شامل ہو گیا۔ اس کا کم استعمال اسے اردو حروف تہجی کے کم معروف حروف میں سے ایک بناتا ہے۔
اردو رسم الخط کی بنیاد بنیادی طور پر 'فارسی و عربی رسم الخط' پر ہے، جس میں مقامی ہندوستانی اصوات کے لیے اضافی حروف بھی شامل کیے گئے۔ یہ رسم الخط دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے اور نستعلیق خط میں لکھنے کی روایت رکھتا ہے۔ اردو رسم الخط اس کی مخلوط لسانی نوعیت کی بصری عکاسی کرتا ہے، جہاں مقامی زبان کو ایک بیرونی رسم الخط میں ڈھالا گیا۔
عالمی سطح پر اردو 'برطانیہ، امریکہ اور خلیجی ممالک' میں مقیم جنوبی ایشیائی برادریوں میں بڑی تعداد میں بولنے والوں کی موجودگی رکھتی ہے، جو بیسویں صدی کی ہجرت کی لہروں کا نتیجہ ہے۔ ان ممالک میں اردو بولنے والی برادریاں اپنی ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے اردو ادب، شاعری اور میڈیا سے جڑی رہتی ہیں۔ یہ عالمی پھیلاؤ اردو کو ایک بین الاقوامی زبان کی حیثیت بھی دیتا ہے۔
اردو زبان کی تدریس کے لیے مخصوص یونیورسٹیوں میں سے ایک 'فیڈرل اردو یونیورسٹی' 'کراچی و اسلام آباد' میں واقع ہے، جو خاص طور پر اردو زبان و ادب کی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے قائم کی گئی۔ یہ یونیورسٹی پاکستان میں اردو زبان کی تدریس اور فروغ کا ایک اہم ادارہ ہے۔ اس کا دو شہروں میں قائم ہونا اردو کی قومی اہمیت اور وسیع تعلیمی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان میں 'مقتدرہ قومی زبان' (اب ادارہ فروغ قومی زبان) کا بنیادی مقصد 'قومی زبان اردو کو فروغ دینا اور اسے سرکاری امور میں رائج کرنا' تھا۔ یہ ادارہ اردو کو دفتری اور انتظامی زبان کے طور پر مکمل طور پر نافذ کرنے کی کوششوں کے لیے قائم کیا گیا۔ اس کا کام اردو اصطلاحات کی تشکیل، لغت نویسی اور اردو کے فروغ کے دیگر پہلوؤں پر محیط ہے۔
اردو زبان کا شمار پاکستان کی 'پنجابی اور سرائیکی جیسی مقامی زبانوں' کے ساتھ لسانی طور پر قریبی تعلق رکھنے والی زبانوں میں ہوتا ہے، کیونکہ یہ تمام زبانیں ہند آریائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ قربت الفاظ، گرامر اور آوازوں کی سطح پر نمایاں ہے۔ اردو نے پنجاب اور سندھ کی مقامی زبانوں سے کئی الفاظ بھی مستعار لیے ہیں، جو اس لسانی قربت کی مزید تصدیق کرتا ہے۔
اردو کی سب سے قدیم نثری تصانیف میں سے ایک صوفیانہ کتاب 'کشف المحجوب' اصل میں 'فارسی' زبان میں لکھی گئی، جبکہ بعد میں اس کے اردو تراجم ہوئے۔ یہ کتاب حضرت داتا گنج بخش کی تصنیف ہے اور تصوف کے موضوع پر ابتدائی اور بنیادی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اردو ادب کی ابتدائی روحانی روایت فارسی تصانیف کے تراجم سے بھی متاثر ہوئی۔
صوفیائے کرام نے اردو زبان کے فروغ میں یہ کردار ادا کیا کہ انہوں نے 'عوامی سطح پر تبلیغ کے لیے مقامی زبان کو اپنایا'، جس سے اردو کو عام لوگوں تک پہنچنے کا ایک مؤثر ذریعہ ملا۔ صوفی بزرگ فارسی کی بجائے عوام کی زبان میں اپنا پیغام پہنچاتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کی تعلیمات سمجھ سکیں۔ یہ صوفیانہ روایت امیر خسرو اور خواجہ میر درد جیسے شعرا کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔
پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کی مقامی زبانوں کا اردو پر یہ اثر رہا کہ 'بہت سے مقامی الفاظ اردو میں شامل ہوئے'، جس نے اردو کے ذخیرہ الفاظ کو مزید متنوع اور بھرپور بنایا۔ یہ اثر اردو کی مخلوط اور جامع نوعیت کی ایک اور مثال ہے، جس نے مختلف علاقائی زبانوں سے الفاظ جذب کر کے اپنی وسعت بڑھائی۔ یہ باہمی لسانی تبادلہ برصغیر کی متنوع لسانی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔
No Comments