'اس نے کھایا تھا' یعنی 'he had eaten' کو 'ماضی بعید' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسے عمل کو ظاہر کرتا ہے جو کسی اور ماضی کے واقعے سے بھی پہلے مکمل ہو چکا تھا، جو انگریزی کے past perfect سے ملتا جلتا ہے۔ یہ ماضی قریب 'اس نے کھایا ہے' سے مختلف ہے، جس میں معاون فعل 'ہے' آتا ہے نہ کہ 'تھا'۔ ماضی کی چاروں اقسام یعنی مطلق، استمراری، قریب اور بعید کو معاون فعل کی مدد سے پہچاننا اردو زمانہ کے سوالات حل کرنے کی کنجی ہے۔
'وہ کھاتا ہے' یعنی 'he eats' کو 'حال مطلق' یعنی سادہ حال کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی عادتاً یا معمول کے مطابق ہونے والے عمل کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ اس وقت جاری کوئی عمل۔ یہ حال استمراری 'وہ کھا رہا ہے' سے مختلف ہے، جو ابھی جاری عمل ظاہر کرتا ہے۔ حال مطلق کی شکل 'کھاتا/کھاتی/کھاتے' اور معاون فعل 'ہے/ہیں' کے امتزاج سے بنتی ہے۔
'وہ کھا رہا ہے' یعنی 'he is eating' کو 'حال استمراری' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس وقت جاری عمل کو ظاہر کرتا ہے، جو لفظ 'رہا' اور معاون فعل 'ہے' کے ملاپ سے بنتا ہے۔ یہ حال مطلق 'وہ کھاتا ہے' سے مختلف ہے، جو محض عادتاً ہونے والا عمل بتاتا ہے۔ 'رہا/رہی/رہے' کا لفظ حال اور ماضی دونوں استمراری صیغوں میں ایک قابلِ اعتماد پہچان ہے، صرف معاون فعل ہے یا تھا بدلنے سے زمانہ بدل جاتا ہے۔
'وہ کھائے گا' یعنی 'he will eat' کو 'مستقبل مطلق' یعنی سادہ مستقبل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ آنے والے وقت میں ہونے والے کسی عمل کو سیدھے سادے انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ لاحقہ 'گا' فاعل کی صنف اور تعداد کے مطابق 'گی' یا 'گے' میں بدل جاتا ہے۔ مستقبل کی یہ سادہ شکل حال اور ماضی مطلق سے موازنہ کرتے ہوئے آسانی سے پہچانی جا سکتی ہے، کیونکہ گا/گی/گے کا لاحقہ ہمیشہ آنے والے وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
'میں لکھتا ہوں' یعنی 'I write' کو 'حال' زمانہ کہا جاتا ہے کیونکہ فعل 'لکھتا' معاون فعل 'ہوں' کے ساتھ مل کر ایک جاری یا عادتاً ہونے والا موجودہ عمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ فقرہ متکلم صیغے میں ہے، جہاں معاون فعل 'ہوں' استعمال ہوتا ہے برخلاف غائب صیغے کے 'ہے' یا 'ہیں' کے۔ ضمیر کے مطابق معاون فعل کی یہ تبدیلی اردو کے حال زمانہ کی صرفیات کا اہم پہلو ہے۔
'ہم نے پڑھا' یعنی 'we read/studied' کو 'ماضی' زمانہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک مکمل ہو چکے عمل کو بیان کرتا ہے، جس میں فاعل 'ہم' کے ساتھ متعدی فعل کے ماضی میں 'نے' کا حرف آیا ہے۔ یہ 'نے' کا استعمال اردو کی ارگیٹو گرامری خصوصیت کی مثال ہے، جو صرف متعدی افعال کے ماضی میں فاعل کے ساتھ آتا ہے، جبکہ فعل لازم میں 'نے' نہیں آتا۔
'تم آؤ گے' یعنی 'you will come' کو 'مستقبل' زمانہ کہا جاتا ہے کیونکہ لاحقہ 'گے' آنے والے وقت میں ہونے والے عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ چونکہ 'تم' جمع یا غیر رسمی مخاطب کی ضمیر ہے، اس لیے مستقبل کا لاحقہ 'گے' استعمال ہوا ہے، جبکہ واحد مؤنث کے لیے 'گی' اور واحد مذکر کے لیے بھی سیاق کے مطابق 'گا' آتا۔ یہ ضمیر اور مستقبل کے لاحقے کے درمیان صنفی و عددی موافقت اردو فعل کی صرفیات کا اہم قاعدہ ہے۔
ماضی مطلق کی پہچان یہ ہے کہ یہ فعل کے محض گزرے ہوئے عمل کو ظاہر کرتا ہے، بغیر کسی جاری ہونے یا مکمل ہونے کے اضافی اشارے کے، جیسے 'اس نے کھایا'۔ یہ ماضی استمراری، قریب اور بعید سے مختلف ہے، جو بالترتیب تسلسل، حالیہ اثر یا زیادہ دوری ظاہر کرنے کے لیے اضافی معاون فعل استعمال کرتے ہیں۔ ماضی مطلق کی یہ سادگی اسے اردو کے چار ماضی زمانوں میں سب سے بنیادی بناتی ہے۔
حال استمراری میں فعل کے ساتھ عموماً لفظ 'رہا/رہی/رہے' آتا ہے، جیسے 'وہ کھا رہا ہے'، جو معاون فعل 'ہے' کے ساتھ مل کر جاری عمل ظاہر کرتا ہے۔ اگر اسی 'رہا/رہی/رہے' کے ساتھ 'تھا/تھی/تھے' آئے تو زمانہ بدل کر ماضی استمراری بن جاتا ہے، جیسے 'وہ کھا رہا تھا'۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ 'رہا' کا لفظ تسلسل کی علامت ہے جبکہ معاون فعل زمانے کا تعین کرتا ہے۔
مستقبل کے فعل میں عموماً 'گا/گی/گے' شامل ہوتا ہے، جیسے 'وہ جائے گا'، جو فاعل کی صنف اور تعداد کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ یہ حال کے 'ہے/ہیں' اور ماضی کے 'تھا/تھی/تھے' سے واضح طور پر مختلف ہے۔ گا/گی/گے کا یہ صنفی و عددی لاحقہ اردو مستقبل کی صرفیات کی سب سے نمایاں اور آسانی سے پہچانی جانے والی خصوصیت ہے۔
No Comments