'آراء' لفظ رائے کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو اکثر ترکیب 'تبادلہ خیال و آراء' میں نظر آتی ہے۔ رائے اردو کے مباحثاتی اور مضمون نویسی کے ذخیرہ الفاظ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اکثر دلیل کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ آراء، احوال اور اوقات جیسی عربی جمع مکسر کو ایک بار بار آنے والا زمرہ سمجھنا امیدواروں کو ایسے مستعار الفاظ پر باقاعدہ '-یں' یا '-وں' لاحقہ لگانے کی غلطی سے بچاتا ہے۔
'اقوال' لفظ قول کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو اکثر ترکیب 'اقوالِ زریں' (سنہری اقوال) میں نظر آتی ہے، جو اردو نصابی کتب میں دانائی کے اقوال کے مجموعوں کا عام عنوان ہے۔ قول اپنی عربی جڑ ق-و-ل قائل (قائل ہونا) اور مقولہ (مشہور قول) کے ساتھ مشترک رکھتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک عربی جڑ سے کیسے کئی متعلقہ اردو الفاظ کا خاندان بنتا ہے۔
'حقوق' لفظ حق کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو ترکیب 'انسانی حقوق' سے بخوبی جانی جاتی ہے، جو مقابلے کے امتحانات کے حالاتِ حاضرہ اور عمومی معلومات کے پرچوں میں لازمی اصطلاح ہے۔ حق خود اسلامی عقیدے میں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک بھی ہے، جس کا مطلب 'حقیقت مطلق' ہے، جو اس لفظ کو اردو استعمال میں قانونی اور مذہبی دونوں پہلو دیتا ہے۔
'فنون' لفظ فن کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو ترکیب 'فنون لطیفہ' میں نظر آتی ہے۔ فن ایک مختصر مگر پرمعنی اردو لفظ ہے جو دستکاری سے لے کر پرفارمنگ آرٹس تک ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے، اور اس کی جمع فنون اداروں کے ناموں اور ثقافتی ذخیرہ الفاظ میں نظر آتی ہے۔ یہ لفظ فنکار کے ساتھ متعلقہ الفاظ کے سوالات میں فطری طور پر جوڑا بناتا ہے۔
'مسائل' لفظ مسئلہ کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو حالاتِ حاضرہ کی اردو تحریروں میں کثرت سے آتی ہے، جیسے معاشی مسائل یا سماجی مسائل۔ واضح رہے کہ مسئلہ خود فارسی زدہ '-ہ' پر ختم ہوتا ہے جو عربی مستعار الفاظ میں عام ہے، مگر اس کے باوجود اس کی جمع اندرونی حرکات بدل کر بننے والے عربی قاعدے کی پیروی کرتی ہے نہ کہ کسی دیسی لاحقے کی۔
'قواعد' لفظ قاعدہ کی درست جمع ہے، ایک عربی جمع مکسر جو خود اردو گرامر یعنی 'قواعد' کی اصطلاح میں استعمال ہوتی ہے، جو اسی امتحانی نصاب کا موضوع ہے۔ یہ پہچاننا کہ قاعدہ سے قواعد بھی اسی اندرونی حرکات بدلنے والے قاعدے کی پیروی کرتا ہے جیسے مسئلہ سے مسائل، اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ '-ہ' پر ختم ہونے والے کئی عربی تجریدی اسم دیسی '-وں' کے بجائے جمع مکسر لیتے ہیں۔
'خیالات' لفظ خیال کی درست جمع ہے، جو فارسی و عربی طرز کا '-ات' لاحقہ لیتی ہے نہ کہ اندرونی حرکات بدلنے والی جمع مکسر جیسے مسئلہ سے مسائل۔ خیال اردو شاعری اور نثر کا نہایت کثیر الاستعمال تجریدی اسم ہے، جیسے خیال آنا اور خوش خیالی۔ یہ '-ات' والا جمع کا قاعدہ، جو سوالات اور جوابات میں بھی نظر آتا ہے، عربی جمع مکسر سے الگ مگر اتنا ہی عام ہے۔
'سوالات' لفظ سوال کی درست جمع ہے، جو '-ات' لاحقے کا قاعدہ اپناتی ہے، اپنے جوابی لفظ جواب سے جوابات کی طرح۔ ترکیب 'سوال و جواب' اردو میں کسی بھی انٹرویو، امتحان یا مباحثے کی صورت بیان کرنے کے لیے معیاری فقرہ ہے، جو اس جوڑے کو خود امتحان دینے والوں کے لیے بھی خاص طور پر متعلقہ ذخیرہ الفاظ بناتا ہے۔
'جوابات' لفظ جواب کی درست جمع ہے، جو '-ات' لاحقہ اپناتی ہے، اپنے جوڑے سوال سے سوالات کی طرح۔ جواب عربی جڑ ج-و-ب سے نکلا ہے جس کا تعلق جواب دینے سے ہے، اور یہ لفظ 'لا' (نہیں) کے ساتھ مل کر لاجواب بناتا ہے، جس کا مطلب 'ناقابلِ جواب' یا مجازاً 'بےمثال، عمدہ' ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ہی جڑ سے لغوی اور محاوراتی دونوں طرح کے اردو الفاظ نکل سکتے ہیں۔
'واقعات' لفظ واقعہ کی درست جمع ہے، جو '-ات' لاحقے کا قاعدہ اپناتی ہے، جیسا کہ '-ہ' پر ختم ہونے والے کئی عربی مستعار الفاظ میں عام ہے، بشمول مسئلہ کی متبادل جمع۔ واقعہ روایتی اور خبری ذخیرہ الفاظ کی اہم اصطلاح ہے جو کسی بھی قابلِ ذکر واقعے کو بیان کرتا ہے، اور اکثر حادثہ کے ساتھ ملا کر حالاتِ حاضرہ کے تفہیمی اقتباسات میں استعمال ہوتا ہے۔
No Comments