‘اسم’ دراصل اس لفظ کو کہتے ہیں جو کسی شخص، جگہ یا چیز کے نام کو ظاہر کرے، اسی لیے یہ جواب درست ہے۔ اردو گرامر میں اسم کو مزید کئی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، جیسے اسم معرفہ اور اسم نکرہ، یا اسم جامد اور اسم مشتق۔ فعل اس کے برعکس کسی کام کے کرنے یا ہونے کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ حروفِ عطف دو جملوں یا الفاظ کو آپس میں ملانے کا کام کرتے ہیں۔ اسم کی صحیح پہچان اردو قواعد کی بنیاد ہے اور آگے آنے والی تمام اقسام اسی پر استوار ہیں۔
‘اسم معرفہ’ اس اسم کو کہا جاتا ہے جو کسی خاص اور متعین شخص یا جگہ کا نام ظاہر کرے، مثلاً لاہور، احمد یا قرآن۔ اس کے برعکس ‘اسم نکرہ’ کسی عام اور غیر متعین چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے شہر یا لڑکا۔ یہ فرق انگریزی کے proper noun اور common noun کی تقسیم سے ملتا جلتا ہے۔ مقابلے کے امتحانات میں یہ معرفہ و نکرہ کی تمیز اکثر پوچھی جاتی ہے۔
‘شہر’ کو ‘اسم نکرہ’ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی خاص شہر کا نام نہیں بلکہ عمومی طور پر کسی بھی شہر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس لاہور اور کراچی جیسے الفاظ اسم معرفہ ہیں کیونکہ وہ کسی مخصوص جگہ کا نام لیتے ہیں۔ قرآن بھی اسم معرفہ ہے کیونکہ یہ ایک خاص کتاب کا نام ہے۔ معرفہ اور نکرہ کی یہ تقسیم اسم کی بنیادی درجہ بندیوں میں شمار ہوتی ہے۔
‘کراچی’ کو ‘اسم معرفہ’ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک خاص اور متعین شہر کا نام ہے، جبکہ کتاب، لڑکا اور دریا جیسے الفاظ اسم نکرہ ہیں کیونکہ وہ کسی خاص شے کی بجائے عمومی جنس کو ظاہر کرتے ہیں۔ اردو میں انگریزی کی طرح حروف بڑے چھوٹے نہیں ہوتے، اس لیے سیاق و سباق ہی کسی اسم کے معرفہ ہونے کا تعین کرتا ہے۔ یہی فرق مقابلے کے امتحانات میں بار بار آزمایا جاتا ہے۔
‘اسم جامد’ وہ لفظ ہے جو خود بخود بنا ہو اور کسی دوسرے لفظ سے مشتق نہ ہو، جیسے پانی، ہاتھ یا زمین۔ اس کے مقابلے میں ‘اسم مشتق’ وہ اسم ہوتا ہے جو کسی دوسرے لفظ سے نکالا جائے، مثلاً ‘لکھائی’ جو فعل ‘لکھنا’ سے بنا ہے۔ جامد اور مشتق کی یہ تقسیم دیگر زبانوں کی طرح اردو الفاظ کی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ امتحانات میں اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ کوئی لفظ اصل ہے یا کسی اور لفظ سے بنا ہے۔
‘اسم مشتق’ وہ لفظ ہوتا ہے جو کسی دوسرے لفظ سے اخذ کیا گیا ہو، جبکہ اسم جامد ایک ایسی اصل شکل ہوتی ہے جو کسی سے مشتق نہیں ہوتی۔ مشتق اسموں میں اسم فاعل جیسے قاتل، اسم مفعول جیسے مقتول، اور اسم مصدر جیسے لکھائی شامل ہیں۔ اردو الفاظ کی ساخت میں مصدر اور جڑ الفاظ سے نئے اسم بنانے کا عمل بہت عام اور پیداواری ہے۔ یہ موضوع پی پی ایس سی اور ایف پی ایس سی کے اردو گرامر پرچوں میں کثرت سے آتا ہے۔
‘قاتل’ یعنی مارنے والا شخص ‘اسم فاعل’ کہلاتا ہے کیونکہ یہ قتل کا کام کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس ‘اسم مفعول’ اس شخص کو ظاہر کرتا ہے جس پر کام کیا جائے، یعنی مقتول۔ فاعل اور مفعول کی یہ تقسیم عربی گرامر سے اردو میں آئی ہے اور عالم و معلوم جیسے کئی الفاظ میں بھی نظر آتی ہے۔ اسم آلہ اور اسم ظرف اس سے مختلف قسمیں ہیں جو بالترتیب اوزار اور وقت یا جگہ ظاہر کرتی ہیں۔
‘مقتول’ یعنی جس کو قتل کیا گیا ہو، ‘اسم مفعول’ کہلاتا ہے کیونکہ یہ اس شخص کو ظاہر کرتا ہے جس پر فعل کا اثر پڑا ہو، جبکہ قاتل اسم فاعل یعنی کام کرنے والا ہے۔ اسم تصغیر اور اسم تکبیر بالکل مختلف تصورات ہیں جو بالترتیب چھوٹائی اور بڑائی ظاہر کرتے ہیں، ان کا فاعل مفعول سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی سے ماخوذ یہ فاعل مفعول کا اسلوب اردو میں عاشق اور معشوق جیسے جوڑوں میں بھی نظر آتا ہے۔
‘اسم آلہ’ اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی کام کے لیے استعمال ہونے والے اوزار کا نام ظاہر کرے، جیسے چھری جو کاٹنے کے کام آتی ہے یا قلم جو لکھنے کے کام آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسم ظرف وقت یا جگہ ظاہر کرتا ہے اور اسم علم کسی خاص شخص کا نام بتاتا ہے۔ اردو میں بیشتر اسم آلہ الفاظ فعل کی جڑ کے ساتھ لاحقہ لگا کر بنائے جاتے ہیں۔ یہ اصول فارسی اور عربی سے مستعار الفاظ میں بھی عام ہے۔
‘چھری’ کو ‘اسم آلہ’ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ کاٹنے کے عمل میں استعمال ہونے والا اوزار ہے۔ اس کے برعکس اسم علم کسی خاص نام کو، اسم مصدر کسی کام کو، اور اسم فاعل کام کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، جن کا آلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اردو میں دیگر عام اسم آلہ کی مثالوں میں قلم، چابی اور سوئی شامل ہیں، جو سب اپنے استعمال کی بنیاد پر نام رکھتے ہیں۔
No Comments