تراش کر مرے بازو اُڑان چھوڑ گیا

پروین شاکر

تراش کر مرے بازو اُڑان چھوڑ گیا

ہوا کے پاس برہنہ مکان چھوڑ گیا

رفاقتوں کا مری اُس کو دھیان کتنا تھا

زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی

کھلے دریچے پہ اک پھول دان چھوڑ گیا

جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا

بڑھی ہے دھوپ تو وہ سائبان چھوڑ گیا

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.