قدموں میں مرے جھکی ہوئی رات

پروین شاکر

قدموں میں مرے جھکی ہوئی رات

تاروں کی طرح پھسلی ہوئی رات

گری ہے بدن پہ قطرہ قطرہ

خوشبو سے کشیدہ کی ہوئی رات

آنکھوں پہ ستارے چن رہی ہے

آنگن میں مرے کھلی ہوئی رات

ماتھے پہ نئی رفاقتوں کے

افساں کی طرح چھپی ہوئی رات

خوابوں کی سحیل ہتھیلیوں پر

مہندی کی طرح رچی ہوئی رات

آہٹ پہ کسی کی کسمسائی

دلہن کی طرح سجی ہوئی رات

تا عمر نہ ٹوٹنے دے نشہ

ساقی سے مرے ملی ہوئی رات

حل ہونے لگی لہو میں میرے

سانسوں میں تِرے گھلی ہوئی رات

شبنم سے گلاب پوچھتے ہیں

اب تک تھی کہاں چھپی ہوئی رات

اک پل کو جھپک سکی نہ پلکیں

آنکھوں میں رہی رکی ہوئی رات

تمام غزلیں دیکھیں

Recent Comments

No comments to show.